پاک بھارت تعلقات‘ چین کی ثالثی کی پیشکش

پاک بھارت تعلقات‘ چین کی ثالثی کی پیشکش

نے پاک بھارت تعلقات کی بحالی میں تعمیری کردار ادا کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کشمیر کی کشیدہ صورتحال نے بین الاقوامی برادری کی توجہ اپنی جانب مرکوز کی ہے۔ لہٰذا چین کشمیر کی موجودہ صورتحال کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جنگ شوأنگ نے صحافیوں کو بتایا کہ کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال انتہائی خطرناک ہے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کنٹرول لائن پر جو سرحدی کشیدگی بڑھ رہی ہے وہ نہ صرف پاک وہند کے امن کو غارت کر رہی ہے بلکہ پڑوسی ممالک بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ لہٰذا چین کسی بھی صورت اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ادھر مظفرآباد ڈیٹ لائن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان اور بھارت کے فوجی حکام کی جانب سے 2003ء کے جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدرآمد پر اتفاق کے محض تین دن بعد ہی آزاد کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے ایک بار پھر بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ایک شہری زخمی ہوگیا جبکہ دوسری جانب مقبوضہ وادی میں بھارتی افواج نے ایک بار پھر کشمیری بے گناہ شہریوں پر ظلم وستم کا بازار گرم کر دیا ہے اور وہاں ہونے والے احتجاجی مظاہروں پر پابندی لگانے‘ کشمیری قیادت کو گرفتار اور نظربند کرنے کیساتھ ساتھ اندرونی خلفشار پر پردہ ڈالنے کیلئے انٹرنیٹ سروس بند کردی ہے جبکہ مقبوضہ وادی میں کشیدگی دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے جس پر پاکستان کی تشویش قدرتی امر ہے اور کنٹرول لائن پر بھی کشیدگی بڑھنے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات نازک صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں چین جیسے پڑوسی کی جانب سے ثالثی کی پیشکش یقیناً خوش آئند ہے اور اس پیشکش کا نہ صرف علاقائی سطح پر بلکہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھی خیر مقدم کیا جانا چاہئے کیونکہ چین نے دونوں فریق ہمسایوں کے پڑوسی کی حیثیت سے صورتحال کا بالکل درست تجزیہ کرتے ہوئے اسے خطے کے امن کیلئے خطرناک قرار دیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ہمسائے کی حیثیت سے چین بھی پاک بھارت کشیدہ تعلقات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا چونکہ ایک جانب چین کے پاکستان کیساتھ انتہائی قریبی اور دوستانہ تعلقات اور تجارتی مراسم ہیں اور سی پیک منصوبے میں دونوں ملک ایک ایسے بہتر مستقبل کیلئے دست تعاون بڑھا رہے ہیں جس نے آگے چل کر دنیا کی تجارتی سرگرمیوں میں ایک انقلاب برپا کرنا ہے۔ اسی طرح گوادر بندرگاہ کو فعال بنانے میں چین کی سرمایہ کاری اہم کردار ادا کر رہی ہے اور سی پیک کی تعمیر سے دنیا تجارتی طور پر سمٹ کر مزید قریب آئے گی۔ اس لئے ان منصوبوں پر کسی بھی قسم کے منفی اثرات چین کیلئے کسی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتے جبکہ دوسری طرف چین بھارت کیساتھ بھی ماضی کی تلخیاں بھلا کر نئے سرحدی اور تجارتی معاہدے کر رہا ہے اور یوں دونوں کے تعلقات میں ایک خوشگوار تبدیلی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں جو چین کی امن پسندی اور خصوصاً ہمسایوں کیساتھ دوستانہ مراسم کے قیام کی پالیسی کا مظہر ہے۔ ایسی صورتحال میں چین کسی بھی صورت میں اپنی سرحدوں کے قریب دوسرے ہمسایوں کے مابین کشیدگی کو برقرار رہنے پر تشویش کا جو اظہار کر رہا ہے وہ ایک درست اور سنجیدہ رویہ ہے بلکہ چین کی خواہش ہے کہ سی پیک کو مستقبل میں بھارت کیساتھ بھی منسلک کیا جائے اور وسط ایشیائی ممالک کیساتھ باہمی تجارت کیلئے بھی اسے استعمال میں لاکر خطے کے تمام ممالک کو دنیا کے دیگر حصوں سے جوڑا جائے۔ اس لئے وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کو یوں جاری رکھ کر خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا جائے۔ اس لئے اس نے صورتحال کی بروقت نشاندہی کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے مابین موجودہ کشیدہ صورتحال کو ختم کرنے اور دونوں کے درمیان وجہ نزاع بنے دیرینہ مسئلے کے حل کیلئے ثالثی کی جو پیشکش کی ہے اسے نہ صرف جنوبی ایشیاء کے امن بلکہ وسیع تناظر میں عالمی امن کیلئے ضروری قرار دیتے ہوئے دونوں فریقوں یعنی پاکستان اور بھارت کو ثالثی کی اس پیشکش کا خیر مقدم کرنا چاہئے۔ دراصل پاک بھارت دونوں ممالک گزشتہ 70برسوں سے اپنی توانائیاں اس مسئلے یعنی کشمیر کے تنازعے پر خرچ کر رہے ہیں۔ دونوں کے درمیان کئی جنگیں ہو چکی ہیں لیکن نہ تو اس مسئلے کا کوئی مستقل حل نکل سکا ہے نہ ہی دونوں ممالک امن کے قیام میں کامیاب ہوسکے ہیں بلکہ صرف اسی ایک تنازعے کی وجہ سے پورا خطہ فلیش پوائنٹ بن چکا ہے اور دونوں جنگی تیاریوں پر ہر سال اربوں کھربوں کے اخراجات کرتے ہوئے آج غربت کے پاتال میں گرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں اور چونکہ دونوں ممالک ایٹمی قوتیں ہیں اس لئے معمولی سی لغزش سے کسی بھی بڑی تباہی کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا اور بہتری اسی میں ہے کہ دونوں فریق یا تو باہمی طور پر کشمیر کے مسئلے پر بامعنی مذاکرات شروع کرکے مسئلے کو حل کریں یا پھر چین جیسے ہمسائے کی پرخلوص پیشکش کو قبول کرکے ایک بہتر مستقبل کی جانب قدم بڑھائیں۔

اداریہ