Daily Mashriq

جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

صوبائی دارالحکومت پشاور میں زچہ وبچہ کیلئے قائم مولوی امیر شاہ میموریل ہسپتال میں امراض قلب کا یونٹ نہ ہونے کے باوجود دل کے مریضوں کیلئے مبینہ طور پر لاکھوں روپے کی ادویات خریدنے کے انکشاف نے محکمہ صحت کی کارکردگی پر سوال اٹھا دئیے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز نے اگرچہ مبینہ بے قاعدگیوں کی شکایات پر انکوائری مقرر کردی ہے تاہم اس کے باوجود ایک اہم سوال یہ اُٹھ رہا ہے کہ جو ہسپتال صرف زچہ وبچہ کے علاج معالجے کیلئے قائم کیاگیا ہے جہاں نہ تو امراض قلب کا کوئی یونٹ موجود ہے نہ ہی کسی ماہر امراض قلب کی تقرری عمل میں لائی جا چکی ہے۔ اس ہسپتال کیلئے 40لاکھ روپے کی خطیر رقم سے ادویات خرید کر ڈمپ کرنے کا کیا جواز ہے اور اس جانب متعلقہ عملے نے ابتداء ہی میں متعلقہ حکام کی توجہ دلا کر اس بے قاعدگی کو روکنے کی کوئی سبیل کیوں نہیں کی جبکہ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے کارکردگی رپورٹ اوپر بھیجنے کے بعد ہی اس جانب توجہ مبذول ہوسکی۔ اس سے ہسپتال انتظامیہ کی غفلت پر روشنی پڑتی ہے۔تاہم اس واقعے کا ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اتنی بڑی رقم کی انتہائی ضروری ادویات کا اصل مقام تو صوبے کے دیگر ان ہسپتالوں میں موجود کارڈیالوجی یونٹس ہونے چاہئیں جہاں امراض قلب کا علاج ہوتا ہے اور جہاں ماہرین امراض قلب بھی موجود ہیں جبکہ عین ممکن ہے کہ اس دوران متعلقہ ہسپتالوں اور یونٹس میں ان ادویات کی ضرورت بھی پڑی ہو مگر ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے غریب مریضوں کو بروقت فراہمی ممکن نہ ہوسکی ہو۔ اب یہ بھی دیکھنا ہے کہ جو ادویات ایک غیر متعلقہ ہسپتال میں لاکر سٹور کی گئی ہیں ان کی ایکسپائری میں کتنی مدت رہتی ہے اور کیا ان میں اب بھی اتنا وقت ہے کہ یہ دیگر متعلقہ ہسپتالوں میں امراض قلب میں مبتلا مریضوں کیلئے بلاخوف وخطر استعمال کرائی جاسکیں یا یہ ادویات اب ناکارہ ہو چکی ہیں یا پھر ناکارہ ہونے کے قریب ہیں۔ کچھ بھی ہو اس صورتحال کا سخت نوٹس لے کر اس بے قاعدگی میں ملوث افراد کیخلاف ضروری تادیبی کارروائی لازمی ہے تاکہ آنے والے دنوں میں کوئی اور اس قسم کی بے قاعدگی کا مرتکب نہ ہوسکے۔
عید شاپنگ اور لوڈشیڈنگ
حکومت کی اس یقین دہانی اور پیسکو حکام کی بار بار وضاحت کے باوجود کہ افطاری سے سحری تک لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی بلکہ شدید گرمی کے باعث سسٹم پر لوڈ پڑنے کی وجہ سے ٹرپنگ ہو رہی ہے۔ عید قریب آتے ہی بازاروں میں افطاری اور خصوصاً عشاء کی نماز کے بعد شاپنگ کیلئے خواتین اور بچوں کے رش کے دوران بھی مختلف مقامات پر بجلی کی جو صورتحال ہے اس پر سرکاری موقف کو کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔ دن کے وقت تو گرمی کی شدت کا بہانہ اگر قبول کر بھی لیا جائے تو رات کے اوقات میں تو گرمی ویسے بھی کم ہو جاتی ہے جبکہ مسلسل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے جہاں دن کے اوقات میں عوام گرمی سے تڑپتے رہتے ہیں یہاں تک کہ پانی کی قلت سے نہ تو گھروں میں پانی دستیاب ہوتا ہے نہ ہی مساجد میں نمازیوں کو وضو کیلئے پانی فراہم ہوتا ہے اور اس صورتحال پر شہر کے کئی علاقوں میں احتجاج کی سی صورتحال پیدا ہو رہی ہے تاہم حکومتی وعدوں کے باوجود افطاری سے سحری تک بھی صورتحال انتہائی نامناسب کے زمرے میں شمار کرنے میں ہمیں کوئی تامل نہیں ہے۔ اس صورتحال کا ایک اور پہلو خصوصاً قابل توجہ یوں ہے کہ اب جبکہ عید کی خریداری کیلئے عوام خصوصاً فیمیلیز عشاء کے بعد سحری سے کچھ دیر پہلے تک بازاروں کا رخ کر رہی ہیں ‘ ریڈی میڈ گارمنٹس‘ جوتے اور دیگر ضروری اشیاء کی خریداری عروج پر ہے اس دوران میں لوڈشیڈنگ سے بازاروں میں جو صورتحال پیدا ہوتی ہے اس پر انتظامیہ کو بھی ضرور غور کرنا چاہئے کیونکہ مشہور بازاروں میں خواتین اور بچوں کے رش کی وجہ سے اکثر اوباش قسم کے نوجوان بھی صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ خواتین سے پرس چھیننے اور انہیں چھیڑنے کی وارداتیں بھی خارج ازامکان قرار نہیں دی جاسکتیں جن کا تدارک یوں کیا جا سکتا ہے کہ ان مشہور بازاروں میں جہاں عید کی شاپنگ کیلئے خواتین کا آنا جانا معمول ہے صرف فیمیلیز کیساتھ آنے والے مردوں ہی کو داخل ہونے کی اجازت ملنی چاہئے اور ان بازاروں کے اردگرد پولیس کی نفری میں خاطر خواہ اضافہ بھی ضروری ہے جبکہ لوڈشیڈنگ کی صورتحال پر قابو پانے کا بھی اہتمام کیا جانا لازمی ہے۔ اس ضمن میں پورے شہر میں آج کل نماز تراویح کے بعد جس طرح محلہ محلہ بلکہ گلی گلی سافٹ بال کرکٹ کے کھیل رچانے کیلئے کنڈے ڈال کر بجلی حاصل کی جا رہی ہے اور آنے والے مہینوں میں اس چوری کی بجلی کے یونٹ عام شہریوں کے بجلی بلوں میں ڈال کر اضافی بل بھجوائے جائیں گے ان پر بھی پیسکو حکام توجہ دیں اور اس دانستہ چوری کو روکنے کی تدابیر کریں۔

اداریہ