Daily Mashriq


ساجھے کی ہانڈی اور زبان میں آبلے

ساجھے کی ہانڈی اور زبان میں آبلے

ابتدائے عشق ہی میں اگر رونے کی نوبت آجائے تو عشق کے مستقبل پر کئی سوالات اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں، ساجھے کی ہانڈی بیچ چوراہے کے پھوٹنے کی وجہ سے کبھی کبھی راستے جدا بھی ہو جاتے ہیں، تاہم ہماری دعا ہے کہ ایسا نہ ہو، لیکن یہاں تو ’’آگے‘‘ ابھی دور یا شاید بہت دور ہے اور معاملہ وہی ابتدائے عشق والا ہی دکھائی دے رہا ہے اور یہ جو ہم نے ساجھے کی ہانڈی کی جانب اشارہ کیا ہے تو یہ ایم ایم اے کی دو بڑی جماعتوں میں پڑنے والی پھوٹ ہے جس نے بیچاری ہانڈی کے ٹکڑے ٹکڑ ے کر دیئے ہیں۔ صوبے کے دور اضلاع سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق چترال اور دیر میں ایم ایم اے میں شامل جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کے مابین ٹکٹوں کی تقسیم پر پھوٹ پڑ گئی ہے اور دونوں جماعتوں نے ان علاقوں میں اپنے اپنے امیدواروں کو ٹکٹدے کر الیکشن میں اتارنے کا فصیلہ کیا ہے، اب اس صورتحال کا تدارک دونوں جماعتوں کے رہنماء کیونکر اور کس طرح کرتے ہیں اس کیلئے شاید ہمیں کچھ انتظار کرنا ہوگا، تاہم اگر صورتحال جوں کی توں رہی (خداکرے ایسا نہ ہو اور بہتری کی کوئی صورت نکل آئے) تو اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کرنے والے جمعیت (س) کے مولانا سیمع الحق اور ان کے حلیف پرویز خٹک کی دلی مراد بر آئے گی اور ہمیں بھی مرحوم مقبول عامر یاد آئیں گے جنہوں نے کہا تھا

پھر وہی ہم ہیں وہی تیشئہ رسوائی ہے

دودھ کی نہر تو پرویز کے کام آئی ہے

ایم ایم اے کا مستقبل تو خیر جو ہونا ہے وہ ہوگا مگر اس کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو اس کے قیام کی غرض وغایت کا پتہ چل جاتا ہے۔ دراصل اس وقت عالمی طاقتوں نے پرویز مشرف کیساتھ مل کر جو کھیل رچایا تھا اس میں ہمارے صوبے میں جمہوریت کے حقیقی دعویداروں کی کوئی گنجائش نہ ہونے پر اتفاق کے بعد ایسے ہی ایک اتحاد کی اشد ضرورت تھی جسے اقتدار میں لاکر عالمی مقاصد پورے کئے جائیں اور اس مقصد میں انہیں بہت حد تک کامیابی حاصل ہوئی تھی مگر اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھ کر اس اتحاد میں شامل بعض جماعتوں کو اپنے بارے میں جو خوش فہمی بلکہ غلط فہمی ہوئی اس نے انہیں بزعم خویش ایک عجیب سرخوشی عطا کی، اور وہ جو پشتو کہاوت ہے کہ چیندخ پہ لوٹہ اوختو کشمیر یے اولیدو، تو ان کی بھی وہی صورتحال بنی، حالانکہ اصل صورتحال غالب کے اس شعر ہی کے مطابق تھی کہ

بناہے شہ کا مصاحب پھر ے ہے اتراتا

وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

بدقسمتی اس وقت ہوئی جب بالآخر اتحاد میں پھوٹ پڑگئی اور یہ بکھر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ اگلے انتخابات میں تمام جماعتوں نے سولو فلائیٹ کرکے اپنی رہی سہی اہمیت کو بھی گھٹا دیا۔ اب خدا جانے ایک بار انہیں پھر کیا سوجھی کہ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑہ، بھان متی نے کنبہ جوڑا حالانکہ ان میںدونوں بڑی جماعتوں کے مابین فاٹا کے معاملے پر شروع ہی سے بعد المشرقین تھا۔ جماعت فاٹا انضمام کی حامی، موید اور وکیل تھی تو جمعیت آج بھی اس فیصلے پر اندر ہی اندر کرب کا شکار ہے اور قائد جمعیت نے اس مسئلے پر سابق قبائل کا گرینڈ جرگہ طلب کر لیا ہے، پھر جن دو اضلاع میں دونوں جماعتیں آمنے سامنے آچکی ہیں ان میں گزشتہ انتخابات کے نتائج کی بنیاد پر ہی ایک جماعت چاہتی ہے کہ صرف اسی کے امیدواروں کو ٹکٹ دیئے جائیں اور ایسا لگتا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا اور ایک جماعت کے موقف کے برعکس دوسری جماعت کے امیدواروں کو ترجیح دی گئی تو یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ محروم رہ جانے والی جماعت کے حامی ووٹ ’’اتحاد‘‘ ہی کے پلڑے میں ڈالیں گے، بلکہ عین ممکن ہے کہ کسی بھی مخالف سیاسی جماعت کے امیدوار کو درپردہ سپورٹ کریں گے یا پھر دل پر جبر کر کے سرے سے ووٹ پول کرنے کیلئے اپنے حامیوں کو باہر لانے ہی نہیں دیں گے، دونوں صورتوں میں نتیجہ کیا ہو سکتا ہے یہ کوئی پوشیدہ امر نہیں ہے۔ بقول حسن رضوی

چار جانب گونجتی آواز کے تیور سمجھ

دو گھڑی کو سوچ تیرے گھر میں کیا ہونے کو ہے

ادھر تحریک انصاف میں بھی ’’سب اچھا‘‘ نہیں ہے، جہاں ایک جانب پنجاب کی وزارت علیاء کیلئے نامزدگیوں پر پارٹی کے رہنماؤں میں ایک دوسرے پر الزام تراشی سے صورتحال خراب ہو رہی ہے اور نامزد امیدواروں کے ’’کردار‘‘ کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں، وہاں لیگ (ن) کے سابقہ اہم ساتھی ذوالفقار کھوسہ کے پورے خاندان سمیت تحریک انصاف میںشمولیت کا معاملہ بھی مخالفانہ نعرے بازیوں اور بیان بازیوں کا شکار بنتا جارہا ہے، تحریک کے ترجمان فواد چوہدری نے جیسے ہی سردار ذوالفقار کھوسہ کے فرزند ارجمند دوست محمد کھوسہ کی شمولیت پر بیان دیا کہ موصوف پر ایک اہم مقدمہ میں ملوث ہونے کی وجہ سے تحریک کے دروازے نہیں کھولے جاسکتے تو سردار ذوالفقار کھوسہ نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی جوائن کیا ہے، فواد چوہدر ی کو نہیں، فواد چوہدری میرے لئے کوئی چیز نہیں، عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے دوست محمد کھوسہ کی شمولیت پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ قومی اسمبلی کے دو اور صوبائی اسمبلی کے تین حلقے ہمارے سپرد کئے ہیں۔ اب تحریک انصاف کی صفوں میں بھی یا تو اس صورتحال سے دراڑ پڑ سکتی ہے یا پھر انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ یہ معاملہ سانپ کے منہ میں چھپکلی والا بن چکا ہے، ویسے فواد چوہدری کو اب معلوم ہو چکا ہوگا کہ شریف خاندان کیخلاف بولنے اور سردار ذوالفقار کھوسہ خاندان کے خلاف زبان درازی میں بہت فرق ہے، یعنی اب انہیںاحساس ہوگیا ہوگا کہ چھوٹا منہ بڑی بات کا کیا مطلب ہوتا ہے اور وہ اپنی جماعت کی لیڈر شپ کو کہہ رہے ہوں گے کہ بقول جون ایلیاء

بولتے کیوں نہیں مرے حق میں

آبلے پڑ گئے زبان میں کیا؟

متعلقہ خبریں