چمچہ مینہ منگے

چمچہ مینہ منگے

مینہ منگے چری آٹا منگے‘‘ کے نعرے لگاتا ہاتھوں میں بالٹیاں ڈول ڈولچیاں گلاس اور کٹورے تھامے نیکر پہنے ننگ دھڑنگ پشاوری لڑکوں بالوں کا جلوس شہر کی سڑکوں پر گھومتا گھماتا کسی درگاہ پر پہنچتا اور درگاہ میں موجود کسی ولی یا بزرگ کی مرقد پر بے تحاشا پانی ڈال کر اسے غسل دیتا اور گڑگڑا کر بارش کے برسنے کیلئے دعائیں کرتا۔ پھر یوں ہوتا کہ آسمان کالے سیاہ بادلوں سے ڈھک جاتا، بادل گرجتے بجلی کڑکتی، رم جھم پھوار پڑتی، موسلا دھار بارش برستی، میدان جل تھل ہو جاتے اور موسم میں خوشگوار تبدیلی آجاتی۔ یہ سب کچھ کیسے ہوتا، کیوں ہوتا، کسی کو اتنا سوچنے کی فرصت نہیں تھی۔ پیڑ گننے کی بجائے وہ آم کھانے کو اہمیت دیتے۔ انہیں موسم کی حدت اور شدت کو کم کرنے کیلئے بارش اور ٹھنڈے موسم کی ضرورت رہتی جس کیلئے انہیں جو قیمت ادا کرنی پڑتی ادا کرتے، جو سوانگ بھرنا پڑتا بھرتے، جو ٹوٹکا استعمال کرنا ہوتا استعمال کرتے۔ وہ سمجھتے تھے کہ آسمان سے بارش اس لئے نہیں برستی کہ ہمارے گناہوں کی تعداد بڑھ چکی ہے۔ چنانچہ چمچہ مینہ منگے، چری آٹا منگے، کا شورڈالتے ننگ دھڑنگ لڑکوں بالوں کے اس جلوس میں کچھ لڑکے بالے اپنا منہ بھی کالا کر لیتے تھے تاکہ بزعم خود وہ قدرت خدا وندی کو یہ باور کرسکیں کہ ہم اپنی کوتاہیوں، لغزشوں اور غلطیوں پر شرمندہ ہیں۔ ہم اپنے گناہوں سے اٹے کالے منہ لیکر بارگاہ کن فیکون میں حاضر ہیں، ہماری التجا ہے کہ آسمان سے باران رحمت کا نزول ہو۔ ہمیں یاد پڑتا ہے ایک جلوس میں ایک نیکر پہنے ننگ دھڑنگ بندے کو اس کا منہ کالا کرکے گدھے پر سوار کر دیا گیا تھا۔ اس کے گلے میں جوتیوں کا ہار بھی لٹکا دیا گیا تھا اور چمچہ مینہ منگے چری آٹا منگے کا پانی اچھالتا جلوس پشاور کی گلیوں اور بازاروں پر گھومتا گھماتا گنج گیٹ پشاور کے باہر ایک درگاہ میں پہنچ کر بارگاہ کو غسل دینے کے بعد درگاہ کے متولی یا اس درگاہ کے سجادہ نشین کی دعایہ نشست میں تبدیل ہو گیا تھا۔ وہ جو منہ کالا کروا کر گلے میں جوتیوں کا ہار ڈالے بندہ پانی اچھال جلوس کے گھیرے میں گدھے پر سوار چلا آرہا تھا، ہم سمجھے وہی وہ چمچہ ہے جس کے متعلق ننگ دھڑنگ زندہ دلان جلوس کہہ رہے ہیں کہ ’’چمچہ مینہ منگے۔ چری آٹا منے‘‘ بچے اور سوچ سمجھ کے کچے تھے سو ہم منہ پر کالک اور گلے میں جوتیوں کا ہار پہنے اس عجیب ڈھنگ کے بندے کا طرفہ تماشا عجیب سے انداز سے کرنے اس جلوس میں شامل ہو جاتے ۔ جب ہم غور کرنے اور سوچ کر سمجھنے کے عادی ہوئے تو ہم پر عقدہ کھلا کہ ’’چمچہ مینہ منگے چری آٹا منگے‘‘ اصل میں چھم چھم مینہ منگو، چری آٹا منگو یا چھم چھم مینہ مانگو چری آٹا مانگو جیسے جملے کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔ جب ہم نے اپنے سے اس نظریہ کی مزید تحقیق کیلئے لغت بینی کی تو ہمیں معلوم ہوا کہ ’’چری‘‘ آٹے کی ایک قسم ہے۔ گویا نکر پہنے ننگ دھڑنگ زندہ دلان پشاوریوں کا پانی اچھالتا جلوس یہ تلقینی جملہ دہرا دہرا کر لوگوں کو کہہ رہا ہوتا کہ آؤ اور ہمارے ساتھ مل کر چھم چھم بارش کی دعا کرو جس کے نتیجے میں چری اور آٹا دستیاب ہو اور ہم رزق کی فراوانی سے مستفید ہوسکیں۔ اللہ جانے پشاوریوں کے دعا مانگنے اور التجا کرنے کے اس لوک رنگ کو کتنے فتویٰ گروں نے کفر اور بدعت کا نام دیا ہوگا، ہمیں اس سے غرض نہیں۔ ہم بیتے دنوں کی چشم دید گواہیاں پیش کرکے پشاوریوں کی سادہ دلی پر مبنی گمگشتہ کلچر کی ایک کڑی اپنے قارئین عظام کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ عزیز اعجاز کے مشہور مصرعہ ’جیسا موڈ ہوتا ہے ویسا منظر ہوتا ہے‘ کی تحریف کرتے ہوئے عرض کئے دیتا ہوں کہ ’جیسی سوچ ہوتی ہے ویسی ہی بات سمجھ میں آتی ہے‘۔ سخت گرمی کے دنوں میں ایک نمازی، نماز کے بعد بآواز بلند باران رحمت کا آوازہ لگاتا اور لوگ بارش کے نزول کیلئے دعا بدست ہوجاتے۔

مالی دا کم پانڑی دینڑا بھر بھر مشکاں پاوے
مالک دا کم پھل پُھل لانڑا، لاوے یا نہ لاوے
نماز کے بعد ہر روز باران رحمت کا نعرہ لگانے والے نے دعا کے مستجاب نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہوکر ایک دن باران رحمت کی بجائے ’’تیرہ آنے رحمت‘‘ کا نعرہ لگا دیا۔ لوگوں نے جب اس سے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟۔ تو وہ کہنے لگا کہ میں روزانہ ’بارہ آنے رحمت‘ کی صدا لگاتا تھا۔ لیکن بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر آج تیرہ آنے رحمت کا نعرہ لگایا ہے۔ فکر ہر کس بقدر عقل اوست کے مصداق ہم بارش کیلئے چمچہ مینہ منگے کی اس گمگشتہ روایت کو، آج بھی چند کوچہ گرد بچوں کی مختصر سی ٹولی کے روپ میں
گاہے گاہے باز خواں
ایں قصہ پارینہ را
کی شکل میں پنپتا دیکھتے ہیں۔ وہ نکر پہنے ننگ دھڑنگ چمچہ چمچہ مینہ منگے کا نعرہ لگا کر نسل درنسل سفر کرتی کرتی اس تھکی ہاری رسم کو لاشعوری طور پر زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ بارش کیلئے صدقہ خیرات کرنے کی غرض سے چندہ بھی اکٹھا کرتے ہیں اور بعض اوقات چاولوں کی دیگ پکوا کر غریبوں میں کھانا بھی تقسیم کر دیتے ہیں۔ لیکن بارش اسی وقت ہوتی ہے جب اللہ کا حکم ہوتا ہے۔ ہمیں تو رمضان المبارک 1439 کا عشرہ رحمت یاد آتا ہے تو بے اختیار ہوکر سبحان تیری قدرت کا ورد کرنے لگتے ہیں۔ یاد کریں کتنا خوشگوار موسم تھا عشرہ رحمت کے دوران اور کتنی شدید گرمی ہے مغفرت مانگتے رہنے والے رمضان المبارک کے اس دوسرے عشرے کے دوران
استغفراللہ ربی، من کل زنب واتوب الیہ

اداریہ