Daily Mashriq


مستقبل کا لائحہ عمل

مستقبل کا لائحہ عمل

کی اہم ضرورت ہے کہ درخت لگائے جائیں۔ ملک میں لوگ جھلس رہے ہیں، گرمی سے بے حال کئی لوگ روز بے ہوش ہوتے ہیں اور متعدد افراد روز جاں بحق ہو رہے ہیں۔ یہ باتیں دن بہ دن اور بھی بگاڑ کی جانب سفر کر رہی ہیں۔ کبھی کسی جانب سے کوئی پکارتا ہے کہ آئندہ آنے والے دس سالوں میں حالات مزید بگڑ جانے کا امکان ہے، کبھی کوئی تحقیق نشاندہی کرتی ہے کہ برف باری کم ہونے کے باعث ملکی دریاؤں میں پانی بھی کم ہے۔ پاکستان میں ڈیم نہیں اس لئے پانی کا ذخیرہ کرنے کی اہلیت بھی محض تین سے چار روز کی ہے۔ مزید ڈیم بنانے کا کسی جمہوری حکومت نے کوئی عندیہ ہی نہیں دیا۔ کسی حکومت نے کبھی صدق دل سے محض اس ملک میں آب وہوا کی بہتری کو مقصد بنا کر درخت نہیں لگائے۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کا دعویٰ ہے، اس تعداد کے حوالے سے مسلسل بحث رہی ہے۔ مخالفین کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے جو دعوے کئے ان پر پوری نہ اتر سکی جبکہ پی ٹی آئی کے ذرائع کہتے ہیں کہ ان دعوؤں کے حوالے سے الزام تراشی تو ضرور کی جاسکتی ہے لیکن اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ ان درختوں کی تعداد کے حوالے سے آڈٹ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اور ابتدائی طور ایک آڈٹ کروایا بھی گیا ہے جس کے نتیجے میں یہ ثابت ہوا کہ ٹارگٹ سے زیادہ درخت لگائے گئے ہیں۔ اب اگر پی ٹی آئی کی اس بات اور دعوے کو سچ سمجھ لیا جائے تو یقیناً یہ ایک بہت خوش آئند بات ہے لیکن اگر بالفرض اس بات میں ایسی سچائی ثابت نہ ہو تب بھی کم از کم دل کی تسلی کو یہ بات اچھی ہے۔ انہوں نے کم از کم اس حوالے سے ابتداء تو کی۔ کوئی تو تھا جس نے اس حوالے سے سوچا۔ یہ درخت صرف ہمارے آج کی ہی نہیں ہمارے کل کی بھی اشد ضرورت ہیں۔

پاکستان میں صرف موسموں میں ہی ایسی شدت نہیں آئی کہ جس کے باعث لوگوں کی زندگی دوبھر ہو جائے بلکہ یہاں کے ماحول میں آلودگی کی شرح بھی بہت بڑھتی جارہی ہے۔ پانی کی آلودگی بھی ایک پریشان کن معاملہ ہے۔ لوگوں کی صحت بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ اب اس بحث میں الجھنے کی ضرورت نہیں کہ کیا ہوا، کس نے کیا، کیوں کیا؟ ہمارے دریاؤں کی کیا حالت ہے، بھارت کا کیا کردار ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی کن کن شقوں پر پوری طرح عمل نہیں کیا جارہا۔ اس وقت سب سے اہم یہ ہے کہ ہم اپنے مستقبل کا ایک لائحہ عمل طے کریں ۔ اس لائحہ عمل میںمحض حکومت کی پالیسی کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ لوگ یہ فیصلہ کریں کہ انہیں اپنی زندگیاں کس طور بہتر بنانی ہیں ۔ وہ طے کریں کہ ہر شخص درخت لگائے گا ۔ اور جو صاحب نصاب ہوں انہیں اس کام میں دوہرا حصہ ڈالنا چاہیئے ۔ انہیں کسی امداد کی ضرورت نہیں ۔ غریب سے غریب آدمی بھی کم از کم اپنے حصے کا ایک درخت تو لگا ہی سکتا ہے ۔ اس کی نگہداشت بھی کر سکتا ہے ۔ اسے اس قدر تناور کر سکتا ہے کہ اسکی بڑھوتری کی امید ماند نہ پڑے ۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد ، حکمت عملی طے کی جائے کہ انتخابات میں انہی لوگوں کو ووٹ دیا جائے جو درخت لگانے کی بات کریں ، اور اگر وہ اس جانب توجہ نہ دیں تو ان کا احتساب کیا جائے ۔ ہم ابھی تک اپنے مسائل کو پوری طرح سمجھ نہیں پائے ۔ ہماری ترجیحات بھی واضح نہیں تبھی تو ہمارے لٹیرے سیاست دان ، اپنی پسند سے ترجیحات وضع کرتے ہیں ۔ یہ وہی ترجیحات ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں درخت کاٹے جاتے ہیں اور ہر طرف کالی کارپٹ سڑک بچھا دی جاتی ہے ۔ یہ وہی ترجیحات ہیں جن کے نتیجے میں میگا کرپشن سکینڈل سامنے آتے ہیں ۔ یہ وہی ترجیحات ہیں جن کے سراب پکڑتے پکڑتے ہم اس حال تک آن پہنچے ہیں کہ پاکستان کو بتایا جارہا ہے آئندہ آنے والے دس سالوں میں آدھے سے زیادہ پاکستان میں رہنا ہی ممکن نہ رہے گا ۔ تھر میں بھوک سے بلکتے اور سسکتے بچے ایک ایک کر کے موت کے گھاٹ اترتے رہے لیکن اس ملک میں کبھی کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہ ہم اس حوالے سے کسی سدباب کا سوچیں ، سدباب کرتا بھی کون درخت لگانے میں نہ کوئی کک بیکس ملتے ہیں اور نہ ہی کوئی اور فائدہ ہوتا ہے ۔ لیکن دیکھ لیجئے کہ جب ملک میں درخت نہیں ہوتے تو معاملات کس نہج کے مسافرہوجاتے ہیں ۔

محکمہ موسمیات ہمیں آگاہ کر رہا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے ۔ بارش کا کوئی امکان نہیں اور اس درجہ حرارت کے ابھی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ اگر عدالت عالیہ اس حوالے سے سوموٹو لے سکے، تو یہ معاملہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ اگر فوج کی مدد طلب کرنا پڑے تو اس وقت اس سے بھی احتراز نہ کرنا چاہئے۔ ہنگامی بنیادوں پر یہ فیصلے بھی کئے جانے ضروری ہیں اور ان معاملات کا سدباب ہونا بھی انتہائی اہم امر ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے ایمرجنسی نافذ کی جانی چاہئے اور ہر شخص کو اس معاملے کے حل کیلئے مستعد نظر آنا چاہئے کیونکہ اگر آج اس معاملے کو حل نہ کیا گیا تو ہماری زندگیاں ہی اس طور نہ رہیں گی جیسے ہم دیکھ رہے ہیں۔ ذرا سوچئے۔ یہ وقت سوچ بچار کا بھی ہے، فیصلے کرنے کا بھی اور ان فیصلوں کی جانب قدم بڑھانے کا بھی۔

متعلقہ خبریں