2018 کے انتخابات اور کالاغ ڈیم

2018 کے انتخابات اور کالاغ ڈیم

انتخابات کے نزدیک آتے ہی زیادہ تر سیاسی پارٹیوں بالخصوص پنجاب کی سیاسی پارٹیوں کے قائدین نے کالا با غ ڈیم کا مسئلہ پھر سے اُٹھا دیا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے پاکستان کے تمام مسائل کا حل کالا باغ ڈیم ہے۔ ایسے وقت میں جبکہ وطن عزیز میں عام انتخابات جولائی میں ہونے والے ہیں۔ پاکستان میں پانی کی کمی اور بھارت دشمنی کی باتیں شروع ہوگئی۔ ایک دفعہ پھر کالاباغ ڈیم کی افادیت بیان کر کے پاکستانیوں کو آپس میں کالا باغ پر لڑائے جانے کا منصوبہ ہے۔ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں اور نا قص خارجہ پالیسی اور بھارت کیساتھ امن کی آشا کی باتیں کرنے والے اب کالا باغ ڈیم کی باتیں کرتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ پانی سے بننے والی بجلی انتہائی سستی ہے، مگر کالاباغ ڈیم ایک متنازعہ ڈیم ہے۔ انتخابات میں گرما گرمی پیدا کرنے اور کالا باغ ڈیم کی حمایت اور مخالفت میں عوام کو تقسیم کرنے اور مُردہ گھوڑے میں پھر جان ڈالنے اور پھر اس ایشو کی مخالفت اور حمایت میں ووٹ لینے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ کالا باغ ڈیم سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 2400 سے 3500 میگاواٹ ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ایک لاکھ میگاواٹ، کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کی 2لاکھ میگاواٹ، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 50ہزار میگاواٹ اور شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 2لاکھ میگاواٹ ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ڈیم پر اتنا زور کیوں دیا جا رہا ہے جسے ملک کی تین صوبائی اسمبلیوں نے مسترد کیا ہے۔ دنیا میں اس وقت 8لاکھ ڈیمز ہیں جس میں 45ہزار ڈیمز بڑے ہیں۔ ان ڈیموں کی متوقع زندگی بیس سے چالیس سال تک ہوتی ہے۔ 1930سے 1970 تک ان 40سالوں میں اونچے ڈیموں کی ٹیکنالوجی بامِ عروج پر تھی۔ اِس عرصے میں پوری دنیا میں سینکڑوں ڈیم بنائے گئے۔ مصر کا اسوان ڈیم اور پاکستان کا تربیلا اور منگلا ڈیم اس دور کی یادگار ہیں۔ سائنسدانوں کی تحقیق بڑے ڈیموں کے فوائد اور نقصانات پر جاری رہی۔ انہوں نے مصر کے اسوان ڈیم اور دنیا کے بڑے پانچ ڈیموں جس میں پاکستان کا منگلاڈیم، افریقہ کے دو بڑے ڈیم والٹا اور کاریبا اور امریکہ کے میڈ اور پوویل ڈیم شامل تھے، پر ریسرچ اور تحقیق جاری رکھی اور ان کی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ بڑے ڈیموں کے نقصانات زیادہ اور فوائد کم ہیں۔ بڑے اور اونچے ڈیموںکے نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکہ نے سال 1950 میں اپنے ملک میں اس قسم کے ڈیم اور بند بنانا چھوڑ دیئے۔ امریکہ میں جو بڑے ڈیمز تھے وہ انہوں نے توڑنا شروع کر دیئے۔ عالمی سطح پر بڑے سائنسدان اور ڈیمز کے ماہرین اونچے ڈیموں کو ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں۔ سال1982 اور1997کے دوران امریکی کور آف انجینئرز نے امریکہ میں بنے ہوئے بڑے ڈیموں کا معائنہ کیا تو پتہ چلا کہ ان ڈیموں میں 45% غیر محفوظ ہیں۔1976میں امریکہ کی جنوبی ریاست idaho میں ٹییٹون ڈیم ٹوٹ گیا جس سے زندگی اور املاک کو شدید نقصان پہنچا۔ 1975میں چین کے صوبہ ہینان میں نہکاہوں اور شیمانٹس ڈیموں کے ٹوٹنے کی وجہ سے تقریباً3 لاکھ لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ 1963ء میں اٹلی میں ایپلس میں تعمیر شدہ ویونٹ ڈیم کے ٹوٹنے سے 3ہزار لوگ ہلاک ہوگئے اور 1979میں ہندوستان میں مکچو ڈیم ٹوٹنے کے باعث 2 ہزار لوگ لقمہ اجل ہوگئے۔ سال1974 میں تربیلا ڈیم اس وقت ٹوٹنے کے قریب تھا جب ڈیم کی چار میں سے دو سرنگیں بری طرح متاثر اور تباہ ہوگئیں۔ اس ڈیم کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے اس کی مرمت پر اتنی بھاری رقم لگی کہ ڈیم کا کل خرچ دوگنے سے بھی زیادہ ہو گیا۔ 1968 میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ تربیلا ڈیم کے منصوبے پر آٹھ سو ملین ڈالر خرچ ہونگے مگر ہوتے ہوتے یہ رقم 2000ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ ڈیم کے ناکام ہونے کی صورت میں لوگوں کو بچانا بہت مشکل ہوتا ہے اور اسی طرح جنگ کے دوران بھی ڈیم دُشمن کیلئے ایک بہت بڑا ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر خدانخواستہ دشمن ڈیم کو نشانہ بناتے ہیں تو اس سے نہ صرف بڑی تباہی ہوسکتی ہے بلکہ دوسری طرف جھیل کے سٹور شدہ پانی سے بہت زیادہ لوگ زخمی یا مر سکتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک بڑے ڈیموں کی وجہ سے پوری دنیا میں تقریباً 700ملین لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بین ا لاقوامی مالیاتی اداروں نے بڑے ڈیموں کے نقصانات اور تباہی سے بچنے کیلئے اس قسم کے ڈیموں کیلئے فنڈز دینے میں کمی کر دی ہے۔ مثلاً عالمی بینک نے سال 1994 میں بڑے ڈیموں کی تعمیر کیلئے 1438 ملین ڈالرز دیئے اور سال 1998 میں عالمی بینک نے بڑے ڈیموں کیلئے قرضہ کم کر کے 550 ملین ڈالر تک کر دیا۔ 1950 سے پہلے بڑے ڈیمز کسی ملک کی ترقی اور کامرانی کی علامت سمجھے جاتے تھے مگر 1950 کے بعد بڑے ڈیموں کو تباہی اور بربادی کی علامت سمجھا جانے لگا۔ اقوام متحدہ نے سال 1997 میں بڑے ڈیموں کے فوائد اور نقصانات کا اندازہ لگانے کیلئے ایک کمیشن قائم کیا اور اس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بڑے ڈیموں کے نقصانات زیادہ اور فائدے کم ہیں۔ پاکستان میں کالا باغ ڈیم بنانے کے علاوہ مزید جو مقاصد ہیں ان پر ڈیمز بنائے جائیں اور متبادل ذرائع توانائی سے فائدہ لیا جائے۔

اداریہ