تعلیم کے گمبھیرمسائل اور معاشرے پر اس کے اثرات

تعلیم کے گمبھیرمسائل اور معاشرے پر اس کے اثرات

قیام پاکستان کے وقت حصول تعلیم کے پیچھے جذبہ تعمیر تھا۔ حکومت اور عوام کے دلوں میں حسرت اور خواہش تھی کہ علم کے ذریعے اپنے خاندان کیساتھ ساتھ ملک وقوم کی خدمت کی جاسکے۔ یہی وجہ تھی کہ تحصیل کی سطح پر ایک دو مڈل اور ہائی سکول ہونے کے باوجود دوردراز سے طلبہ میلوں پیدل سفر کر کے حصول تعلیم میں مگن رہتے۔ پھر سلسلہ آگے بڑھنے لگا۔ پاکستان اپنی ابتدائی مشکلات اور مسائل سے آہستہ آہستہ نجات حاصل کرتا چلا گیا۔ وسائل اور تعلیم یافتہ افراد کی تعداد میں اضافہ نے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالا اور اللہ کے فضل سے گورنمنٹ کی سطح پر معیاری اور بامقصد تعلیم سکولوں اور کالجوں میں دی جانے لگی۔ 1975ء تک پاکستان ہی کے سرکاری سکولوں اور کالجوں کے تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل کھیپ میسر آئی تو پاکستان نئے دور میں شامل ہوا۔ لیکن 80ء کے عشرے کے بعد پاکستان کی آبادی میں بے ہنگم اضافے اور ملکی سطح پر صحیح وقت پر صحیح مردم شماری نہ ہونے اور پھر مردم شماری کے مطابق منصوبہ بندی نہ ہونے کے سبب حالات دگرگوں ہونے لگے اور مسائل گبھیر ہوتے چلے گئے۔ پورے پاکستان میں تعلیم کا سب سے بڑا، پیچیدہ اور گمبھیر مسئلہ طبقاتی نظام تعلیم ہے اس کی بنیاد انگریز نے رکھی تھی اور آج تک رائج ہے۔ نظام تعلیم انسانی معاشروں کو طبقاتی ہونے کی صورت میں طبقات میں تقسیم کرتا ہے اور یکساں ہونے کی صورت میں فکری یکسوئی کے ذریعے ایک لڑی میں پروتا ہے۔ ہماری بدقسمتی، نالائقی اور کاہلی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ مملکت خداداد کے دو حصوں میں مغربی ومشرقی پاکستان کے دور میں میٹرک تک کا نصاب ایک نہ بناسکے۔ مغربی پاکستان کے چار یونٹوں میں تب اور اب الگ الگ نصاب پڑھائے جاتے ہیں۔ کون اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں بدلنے میں وہاں کے نصاب اور ہندو اساتذہ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ حالانکہ آج پاکستان کے سارے تعلیمی اداروں کو ایک ہی بامقصد، دین وملک کی ضرورت پر مشتمل اور عصری تقاضوں کے مطابق نصاب فراہم کرنا ماہرین تعلیم کیلئے کوئی مشکل کام نہیں۔
دوسرا بڑا اور پیچید ہ مسئلہ تب سامنے آیا جب تعلیم ایک کاروبار وتجارت بن گیا۔ والدین کی کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ ان کا فرزند ڈاکٹر بن کر ٹکسال بن جائے کہ دل کے سارے ارمان پورے ہوسکیں۔ ڈاکٹر اگر نہ بن سکے تو پھر انجینئر بننا تو لازمی ہے تاکہ سرکاری محکموں میں ملازمت کیساتھ ’’بالائی کمائی‘‘ بھی ہاتھ آسکے۔ ورنہ اور کچھ نہیں تو ان دوشعبوں میں ملازمت کا حصول تو آسان رہتا ہے۔ ان دو شعبوں میں اگر کامیابی نہیں ملتی تو پھر کوئی ایسا شعبہ تعلیم کی تلاش ہوتی ہے کہ جس کے ذریعے روزگار جلدی مل سکے۔ سوشل سائنسز میں ان مضامین کو ترجیح دی جاتی ہے جس کی مدد سے سی ایس ایس اور پی ایم ایس وغیرہ کلیئر کرنے میں آسانی ہو کیونکہ ہمارا ہر نوجوان افسر بن کر ملک وقوم کی خدمت کرنا چاہتا ہے۔ بہت کم طلبہ ایسے ہوتے ہیں جو کوئی فن وہنر سیکھ کر عزیز جہاں ہونا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں روزمرہ کے جتنے اہم فنی شعبے ہیں وہ نیم خواندہ یا زیادہ سے زیادہ میٹرک پاس لوگوں کے حوالے ہیں۔ ایئر کنڈیشننگ، ریفریجریشن، پلمبنگ، الیکٹریشن، گاڑیوں کے مستری ومکینک، بڑھئی اور علیٰ ہذالقیاس ان اہم شعبوں کا جائزہ لیں بلکہ ہم سے ہر شخص کا ان سے روزانہ کا واسطہ ہے۔ آبادی میں بے ہنگم اضافہ اور حکومتوں کا تعلیم کو ضروری توجہ واہمیت نہ دینے کے سبب سرمایہ کاروں کی نظر اس اہم شعبہ یعنی شعبہ تعلیم پر پڑی۔ امیر وکبیر اورکھاتے پیتے خاندانوں کے بچے جو سونے کا چمچہ منہ میں لیکر تن آسانی کے سبب مقابلے کے امتحانوں کے ذریعے میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں تک نہ پہنچ سکے۔ پرائیویٹ کالجوں سے بڑی آسانی کیساتھ چار پانچ سالوں میں پچاس لاکھ روپے کی ہلکی سی قربانی دیکر مطلوبہ ڈگریاں حاصل کر لیتے ہیں اور اپنے تعلقات وپیسے کے زور پر محنتی اور ذہین طلبہ سے آگے نکل جاتے ہیں۔
تعلیم میں تجارت اور کاروبار کی آمد نے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو بڑی اہمیت اس لئے دلائی کہ امراء کے بچوں کی اکثریت کو اچھے سرکاری تعلیمی اداروں میں میرٹ پر داخلہ بہت ہی شاز ونادر ہی ملتا ہے۔ ٹیوشن سنٹرز بھی اسی پرائیویٹ ایجوکیشن نظام کا عطیہ ہے اور اس لئے بھی اب یہ ناگزیر بن چکا ہے کہ ڈاکٹروں اور انجینئروں کی طلب زیادہ ہے۔ دولت کی ہوس کے علاوہ یہ ہمارے سماجی سٹیٹس اور رشتوں ناتوں کیلئے بھی بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کے قابل اساتذہ اپنے سرکاری کلاسوں میں کچھ لشٹم پشٹم ایک آدھ کلاس لیکر اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ ٹیوشن سنٹر کی پانچ ہزار روپے فی کلاس میں پہنچ جاؤں۔ دھوپ، سردی، بارش طوفان اور دیگر سماجی ومعاشرتی معاملات کوئی بھی ٹیوٹر کا ٹیوشن سنٹر کا راستہ نہیں روک سکتیں۔ یہ اب ایک مافیا کی صورت اختیار کر چکا ہے لہٰذا کوئی ریگولیٹری وغیرہ اس کی اصلاح کے قابل نہیں۔ ایک اچھی مشنری حکومت ہی اس کا سدباب اس طرح کر سکتی ہے کہ تعلیم کو پہلے کی طرح نیشلائز کرکے تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کرے اور تعلیم کو سرمایہ داروں اور بزنس مینوں کے ہاتھوں سے لیکر تعلیم کے ماہرین اور اہل درد کے ہاتھوں میں دے دیں۔ ورنہ معاملہ یوں ہی چلتا رہیگا۔

اداریہ