Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضر ت لقمان حکیمؒ کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ ’’آپ کی دانش مندی مسلمہ تھی‘‘۔ آپؒ غلام تھے۔ ایک مرتبہ آپ کے آقا نے آپ کو بیچنے کیلئے پیش کیا تو ایک آدمی نے جو کاشتکار تھا، آپ کو خرید لیا اور اپنے ساتھ گھر لے گیا۔ آپ سارا دن اس کی خدمت میں مصروف رہے، حتیٰ کہ رات آگئی۔ جب آپؒ نے عشاء کی نماز پڑھی تو آپ کا آقا سوگیا۔ لہٰذا آپ ایک خالی کمرے میں تشریف لے گئے اور نماز ادا کرنے لگے۔ جب رات ایک پہر بیت چکی تو آپؒ نے اپنے آقا سے کہا: ’’میرے آقا! بہشت کو آراستہ کر دیا گیا ہے اور جہنم کو بھڑکا دیا گیا ہے، جو شخص آخروی نعمتوں کو حاصل کرنا چاہتا ہے، وہ اتنا زیادہ سویا نہیں کرتا‘‘۔ مالک نے جواب دیا: اے غلام! چلے جاؤ، میرا رب بڑا غفور رحیم ہے۔ یہ کہہ کر وہ سوگیا اور حضرت لقمانؒ اپنی جگہ واپس آگئے اور پھر نماز میں مشغول ہوگئے۔ جب رات کا دوسرا پہر بھی گزر گیا تو پھر اپنے آقا کے پاس آئے اور اس کو ہلا کر کہنے لگے: ’’میرے آقا جو وقت گزر گیا، وہ تو گزر گیا، اب بھی اُٹھ جاؤ اور باقی وقت میں رب کی رحمت طلب کرلو اور توشہ آخرت تیار کر لو، کیونکہ تھوڑی دیر ہی بعد تجھے آخرت کے سفر پر روانہ ہونا ہے‘‘ اب کے مالک نے پھر جواب دیا کہ اے غلام! چلے جاؤ، مجھے سونے دو۔ میرا رب بڑا غفور ہے اور نہایت مہربان ہے۔ حضرت لقمانؒ پھر اپنی جگہ واپس آگئے اور نماز ادا کرنے لگے۔ رات کا تیسرا پہر بیت گیا اور صبح ہونے کے قریب ہوگئی تو آپؒ پھر اپنے مالک کے پاس گئے اور کہا: ’’میرے آقا اب تو پرندے بھی اپنے گھونسلوں سے نکل کر ذکر میں مشغول ہو چکے ہیں۔ بیابانوں میں جنگلی درندے بھی اپنے ٹھکانوں کو چھوڑ کر رب تعالیٰ کی حمد وثنا میں مصروف ہیں، آپ بھی اپنے رب کی بارگاہ سے جو مانگنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے یہ بہترین وقت ہے‘‘۔مالک نے جواب دیا: ’’اے غلام مجھے کچھ دیر اور سونے دو، میرا رب بڑا غفور اور مہربان ہے‘‘۔ حضرت لقمانؒ پھر واپس چلے گئے اور صبح کی نماز ادا کرنے لگے، نماز کے بعد اپنے اوراد میں مصروف ہوگئے، اتنے میں آپ کا آقا بھی بیدار ہوگیا۔ اس نے آپ کو دس سیر جو دیئے اور کہا کہ جاؤ، ان کو زمین میں کاشت کرو۔ حضرت لقمانؒ وہ جو لے کر اپنے پڑوسی کے پاس گئے اور اس کو دے دیا اور اس کے بدلے میں باجرہ لیا اور زمین میں باجرہ کاشت کردیا۔کچھ عرصہ بعد وہ باجرہ اُگ آیا، جب آقا نے زمین میں باجرہ اُگا دیکھا تو کہنے لگا: ’’اے لقمان! میں نے تو تجھے کہا تھا کہ زمین میں جو بونا ہے، لیکن تو نے باجرہ کیسے بو دیا؟‘‘حضرت لقمانؒ نے کہا: ’’میرے آقا! میرا رب بڑا غفور رحیم ہے، وہ ضرور جو اُگا دے گا‘‘۔ مالک نے کہا: تو نے درست کہا ہے، لیکن جب تو زمین میں باجرہ بوئے گا تو پھر اس میں سے جو کیسے نکلے گا؟ حضرت لقمانؒ نے فرمایا: ’’بالکل اسی طرح میرے آقا! جب آپ غافلوں کی طرح پڑے سوتے رہے ہیں گے، تو صالحین کے درجات کو کیسے پاسکیں گے‘‘۔ (عبرت آموز واقعات)

اداریہ