Daily Mashriq


فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام کا فیصلہ

فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام کا فیصلہ

وفاقی کابینہ کی جانب سے فاٹا اصلاحات سے متعلق سرتاج عزیز کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی سفارشات کی اصولی طور پر منظوری کے بعد قبائلی علاقہ جات کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کی راہ ہموار ہوگئی ہے ۔جس کے بعد فاٹا کے انضمام سمیت دیگر تجاویز اور معاملات پر بحث و مبا حثہ کا باب بند ہوگا اور قبائلی عوام کی سوچ کا محوراب ایک ہی سمت ہوگا ۔ اگر چہ سیاسی زعما کی طرف سے اس عمل کی پانچ سال کی مدت میں مرحلہ وار تکمیل پر اعتراض ہے۔ وہ یہ حقیقت نظر انداز کررہے ہیںکہ اتنے بڑے فیصلے پر عملدر آمد راتوں رات ممکن نہیں بلکہ مرحلہ وار سوچ سمجھ کر اور عملی طور پر پیشرفت کے دوران سامنے آنے والی مشکلات اور پیچید گیوں کو دور کر کے ہی کرنا احسن اور ممکن ہوگا اور یہی عملی اور معروضی صورتحال کا تقا ضا بھی ہے ۔ اس کمیٹی کے قیام اور سفارشات کی تیاری کے دوران بھی اس امر کا یقین نہیں تھا کہ اس'' کا رلا حاصل''کا کوئی نتیجہ نکلے گا ۔ مگر بالا خر'' یہ کارلا حاصل''خوشگوار طور پر نتیجہ خیز ثابت ہوا اور اس کی سفارشات کی منظوری کے بعد وہ تمام خدشات غلط ثابت ہوئے ۔اس مرحلے تک کے حوالے سے سیاسی جماعتوں اور حکومت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں معدودے چند کے تحفظات اور خوشہ چینی کی ہر جگہ گنجائش رہتی ہے اور کسی بھی معاملے پر سوفیصد اتفاق رائے ویسے بھی ممکن نہیں ہوا کرتا ۔ سیاسی جماعتوں کو اس معاملے پر تحفظات ہیں کہ وفاقی حکومت نے فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کی بجائے پانچ سال کے بعد انضمام کا فیصلہ کیوں کیا ۔ سیاسی جماعتوں کو اختلاف رائے کا حق حاصل ہے انہیں انضمام کے مرحلے تک پہنچتے پہنچتے از خود اس امر کا احساس ہوگا کہ حکومتی فیصلہ درست تھا ۔ دہشت گردی سے متاثرہ اور پسماندہ قبائلی علاقہ جات کی پانچ سال بعد خیبر پختونخوا میں ضم ہو کر قومی دھارے میں شمولیت ملکی تاریخ کا اہم دن ہوگا۔ قبائلی عوام بتدریج جن مراحل سے گزریں گے اس کا رخ تو متعین ہوگیا ہے ۔ایف سی آر کو رواج ایکٹ کے ساتھ تبدیل کرنے کے بعد اجتماعی ذمہ داری کا قانون ختم ہوگا اور ہر شخص اپنے اپنے انفرادی فعل کا ذمہ دار ہوگا جس کے بعد فطری طور پر جزا و سزا کاعمل لاگو ہوگا۔ قبل ازیں اجتماعی ذمہ داری کے تحت قبائلی عوام ابتلا کے جس دور سے گزرتے رہے ہیں اس کا خاتمہ ہوگا ۔ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے سے فاٹا کے لوگوں کو مساوی حقوق ملیں گے اور وہ اپنے آپ کو دوسرے درجے کا شہری سمجھنے کی بجائے تمام حقوق کے حقدار شہری سمجھنے لگیں گے ۔ فاٹا میں قیام امن کیلئے 20ہزار لیویز کی بھرتی سے بیس ہزار قبائلی نوجوانوں کو روز گارکے مواقع میسر آئیں گے ۔فی الوقت اس امر کی وضاحت نہیں کہ 20ہزار افراد کی بھرتی قبائلی علاقہ جات ہی سے ہوگی اگر ایسا نہیں تو پھر ایسا ہونا چاہیے کہ قبائلی علاقہ جات کیلئے لیویز فورس کی بھرتی مقامی نوجوانوں ہی سے کی جائے ۔ ایف سی کی استعدادکار میں اضافہ کر کے نئے ونگز بنائے جائیں ۔اس میں بھی فطری طور پر قبائلی نوجوانوں کو خاطر خواہ حصہ ملنا فطری امر ہوگا ۔ فاٹا کے تمام علاقوں کو اپ گریڈ کر کے خیبر پختونخوا کے علاقوں کے برابر لایا جائے گا۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پاکستان بیت المال اور مائیکرو فنانس سکیموں کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھایا جائے گا۔ سٹیٹ بنک فاٹا میں بنکوںکی شاخیں کھولنے کیلئے بنکوں کی حوصلہ افزائی کر ے گا ۔ فاٹا کو سی پیک کے ساتھ مناسب مقامات پر جوڑا جائے گا فاٹا کو این ایف سی ایوارڈ کا تین فیصد حصہ دینے سے قبائلی علاقوں کی ترقی کیلئے خطیر رقم میسر آئے گی اور اسی رقم کے خرچ اور آڈٹ کا نظام وضع ہونے کے بعد یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ فاٹا کا ترقیاتی فنڈ پولیٹکل حکام فاٹا سیکر ٹریٹ اور معدود ے چند قبائلی عناصر کی جیبوں میں جانے کی بجائے قبائلی عوام پر خرچ ہوگا ۔ ان تمام محاسن کے باوجود اور فاٹا کے انضمام کے اعلان کے باوجود ابھی کئی پیچید گیوں مشکلات اور اختلافات کا سامنا کرنا باقی ہے کیونکہ فاٹا کے عوام ا س سلسلے میں ایک رائے نہیں رکھتے ایک عنصر انضمام کا جبکہ دوسرا عنصر فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنانے کا حامی ہے ۔اگر یہ اختلاف رائے چیلنج کی صورت اختیار کر جاتا ہے تو حکومت کیلئے اتفاق رائے کے حصول اور ہم آہنگی کیلئے ریفرنڈم کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا ۔ سیاسی جماعتوں کے حوالے سے خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی ایجنڈے کے تحت انضمام کی حامی ہیں لیکن انہیں اس صورتحال سے کوئی سر کار نہیں جس سے یہ حساس خطہ متاثر ہوگا۔ بہر حال معاملا ت کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور حکومت کو ان اصلاحات اور فاٹا کے مستقبل کے موجودہ فیصلے کو حتمی مرحلے تک لیجانے اور اس پر عملدرآمد میں کیا مشکلات پیش آتی ہیں اس بارے وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے سوائے اس کے کہ حکومت ایسے امور جن میں قبائلی عوام میں کوئی اختلاف نہیں ان معاملات کو اولین ترجیح بنا کر آگے بڑھے تاکہ قبائلی علاقوں میں شعور و ذہن سازی کے ساتھ قبائلی عوام کا اعتماد بڑھے۔ جو ں جوں قبائلی عوام اپنے اور شہری علاقوں کے عوام کے درمیان تفاوت میں کمی ہوتی ہوئی محسوس کریں گے توں توں وہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے فیصلے کے قائل ہوتے جائیں گے ۔

متعلقہ خبریں