Daily Mashriq


پھر ڈرون حملہ

پھر ڈرون حملہ

نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاک افغان سرحد ی علاقوں میں موجود عنا صر کے خلاف کارروائی کے اعلان کے اگلے دو تین دنوں کے اندر لوئر کرم کے علاقے میں افغانستان سے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے والے دو کمانڈروں کو نشانہ بنانے اور پاک افغان سرحد پر سرحد کے اس پار طالبان کے ٹھکانے کو نشانہ بنا کر چار طالبان کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کرنے کے واقعات سے دہشت گردوں کے خلاف نئی مہم کا عندیہ ملتاہے۔ بنوں کے علاقہ جانی خیل میں سیکورٹی فورسز کی گاڑیوں پر شدت پسندوں کے حملے میں پاک فوج کے لیفٹیننٹ اور نائیک کی شہادت کا واقعہ بھی دہشت گردوں کی نئی صف بندی اور حملوں کی منصوبہ بندی کا اشارہ ہے چونکہ دونوں واقعات کاصحیح وقت معلوم نہیں اس لئے ان واقعات کی باہم مماثلت اور جانی خیل کے واقع کوکرم ایجنسی کے ڈرون حملے کا رد عمل قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن بہر حال یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جب بھی قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے ہوتے رہے ہیں اس کا رد عمل پاکستانی علاقوں میں اور خاص طور پر پاک فوج پر حملوں کی صورت میں ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔ دہشت گرد عناصر کا یہ مو قف رہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں پاک فوج کی منشا ء بلکہ تعاون کے بغیر ڈرون حملے ممکن نہیں بہر حال اس سے قطع نظر تشویش کا باعث امر یہ ہے کہ دہشت گردوں نے ملک بھر میں کئی خوفناک حملے کئے اور گزشتہ روز کے دونوں واقعات اس بناء پر تشویش کا باعث ہیں کہ اس سے شدت پسندی کی نئی لہر شروع ہونے کا امکان ہے جن عناصر کو آپریشن ضرب عضب کے موقع پر دبایا بھگا دیا گیا تھا ان کے سر اٹھانے پر آپریشن رد الفسا د کی ضرورت آن پڑی۔ اب ایک بار پھر پاکستان کو ڈرون حملوں کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمارے تئیں اس طرح کی صورتحال کا حل یہ نہیں کہ اس طرح کے عناصر کوپاکستانی علاقے میں نشانہ بنا کرپاکستان کیلئے مشکلات پیدا کی جائیں۔ ان عناصر کے خلاف افغانستان میں وسیع پیمانے پر کارروائی ہو اور پاک افغان سرحدوں کی بہترنگرانی اور خاص طور پر افغان سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کی آمد ورفت اور ان کے کیمپوں کو ختم کر دیا جائے تو یہ زیادہ مئو ثر اور موزوں امر ہوگا ۔ پاکستان کو امریکی حکام سے ڈرون حملے کے خلاف احتجاج کرنے کی ضرورت ہے ان کو اس امر کا احساس دلایا جائے کہ ان کا یہ اقدام دہشت گردوں کو پاک فوج کے خلاف اور پاکستانی علاقوں میں کارروائی پر اکسانے کا باعث ہے ۔مستزاد ڈرون حملوں سے پاکستانی عوام کا خود اپنی حکومت اور اداروں پر اعتماد متزلزل کرنے اور ان کی ناراضگی کا باعث بن رہا ہے ۔

تجویز احسن مگر عمل درآمد بھی سوچا جائے

خیبر پختونخوا اسمبلی میں جہیز پر مکمل پابندی اور شادی بیاہ کی کسی تقریب پر پچھتر ہزار روپے سے زائد خرچ نہ کرنے اور دلہن کو دس ہزار روپے سے زائد مالیت کے تحائف دینے پر پابندی کا بل اپنی جگہ احسن ضرور ہے لیکن معروضی حالات میں اس پر عملدر آمد کے امکانا ت بالکل اسی طرح دکھائی نہیں دیتے جس طرح کئی ایک قوانین کی موجودگی میں اس کی دھجیاں اڑانے کی ریت ہے ۔ بارات پر تواضع صرف شربت سے کرنے اور ولیمہ میں چاول ایک سالن اور سویٹ ڈش پیش کرنے کی اجازت سادگی کم خرچ اور سہل طریقہ سے ایک خوشی کی تقریب کو نمٹا نا ہے اس طریقے کی جتنی تائید و حمایت کی جائے کم ہے ۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں دکھاوے نمود و نمائش کی لعنت ایسی رچ بس گئی ہے کہ اسراف و فضول خرچی جیسے شیطانی فعل کا تصور بھی ختم ہو گیا ہے ۔ جہیز پر پابندی احسن ہے مگر اس میں اس بات کی گنجائش ہونی چاہیئے کہ استطاعت کے مطابق والدین اور عزیز و اقارب اپنی بیٹی اور عزیز ہ کو کچھ دے سکیں ۔ہمارے تئیں جہیز دینے کی گنجائش ہونی چاہیئے البتہ اس کا مطالبہ اور فرمائش نہ صرف قانونی جرم قرار دیا جائے بلکہ معاشرے میں اس عمل کو باعث عار اور نا پسند یدہ بنانے کے بارے میں باقاعدہ مہم چلانے کی ضرورت ہے ۔ معاشرے میں جہاں جہیز لینے اور جہیز دینے کو باعث شرم بنانے کی ضرورت ہے وہاں بیٹیوں اور بہنوں کو حق وراثت سے محروم رکھنے کو باعث عذاب اور باعث شرم ٹھہرانے کیلئے ذہن سازی اور شعور اجاگر کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ خواتین کے حقوق کا تحفظ ہو سکے ۔ جہاں تک اس بل کے تحت قانون سازی اور اس کو قانون بنانے کے عمل کا سوال ہے ایوان میں اس بارے اتفاق رائے ہوگا لیکن قانون سازی کے بعد اس پر عملدرآمد کیلئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیار نہ کیا گیا تو یہ مذاق بن کر رہ جائے گا اس پر توجہ دی جائے ۔ شادیوں میں اسراف اور نمود ونمائش کی روک تھام کا ایک مفید طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان پر بھاری ٹیکس عائد کیا جائے اور انکم ٹیکس حکام شادی کی تقریبات اور مہندی جیسی فضول رسومات پر پانی کی طرح پیسہ بہانے والوں کے گوشوارے خصوصی طور پر چیک کریں ۔ علماء اور آئمہ حضرات ایسی شادیوں میں نکاح پڑھانے اور شرکت سے انکار کر کے نمود ونمائش کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں