Daily Mashriq


نیک و بد سمجھا ئے دیتے ہیں

نیک و بد سمجھا ئے دیتے ہیں

کیا جدا لفساد کا مستقل علاج کیئے بغیر آپریشن ردالفساد سے وہ نتائج حاصل کیئے جا سکتے ہیں جس کا خواب لوگوں کو دکھا یا جا رہا ہے ؟ ۔ یہاںایک ضمنی سوال یہ بھی ہے کہ آپریشن ضرب عضب کا کیا ہوا؟ ۔ مطلب یہ کہ اگر پایہ تکمیل تک پہنچ گیا ہے تو '' ہاتھ کنگن کو آر سی کیا'' پارلیمان کا اجلاس بلوایئے ۔ اخراجات سے نتائج تک ساری باتیں ا س کے سامنے رکھ دیجئے۔ معاف کیجئے گا ایسا ہوگا نہیں کیونکہ پارلیمان اور منتخب حکومت (وہ جیسے بھی منتخب ہوئی ) نے خود کو خود بے توقیر بنایا ۔ افسوس یہ ہے کہ ہم ان پالیسیوں پر آج بھی نظر ثانی کرنے کو تیا رنہیں جو پڑوس کی لڑائی اور آگ کو ہمارے گھر میں لانے کوموجب بنیں ۔ بنیادی ایشو اورگھمبیر ہوتے مسائل پر الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے شہسوار بات کرتے ہیںنا چھاتہ بردار ۔ ورنہ سوال بہت سادہ ہے۔ 

پچھلے 40برسوں کے دوران جو لشکر ریاست کی سرپرستی میں تشکیل دیئے گئے ان کے حوالے سے پسند و ناپسند کا شوق تمام ہوا کہ نہیں ؟ ۔ لاریب ہم اس سوال کا جواب جاننا چاہیں گے ۔ اس لئے بھی زیاں بہت ہو چکا ہے ۔ وقت ریت کی طرح بند مٹھی سے پھسلتا جارہا ہے ۔ آرزوئیں خاک ہو رہی ہیں ۔ المیوں کی دستک میں ماہ وسال کا نہیں دنوں کا وقفہ آتا ہے ۔ بقول شخصے ۔ ''ہمارے ملک میں امن دہشت گردی کی ایک واردات سے دوسری واردات کے درمیانی عرصے کو کہتے ہیں ''۔ چلیں ہم بھول بھیلوں سے باہر نکل کر سادہ زبان میں بات کرتے ہیں ۔ پڑوسیوں سے تعلقات پر اثر انداز ہونے والی پالیسیوں کے ساتھ حق ہمسائیگی پر ضرب کاری لگانے والی تنظیموں کے علاج کی ضرورت ہے ۔ جغرافیہ تبدیل نہیں ہوتا۔ ہم کرائے کے گھر میں نہیں رہ رہے کہ کسی دوسری کالونی میں پراپرٹی ڈیلر کی معرفت مکان لے لیں گے ۔ بٹوارے کی تاریخ پر مختلف آراء رکھنے والے بھی اس سچائی کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ ہمارا ملک ہے ہم سب کا ۔ پانچ اقوام اور چار دستوری اکائیوں کا ۔

70برسوں میں انگنت تجربے ہوئے ثمرات کم اور المیوں نے زیادہ دستک دی ۔ ان المیوں کی بھینٹ چڑھنے والوں کی آنکھوں میں کوئی جھانک کر دیکھ سکے تو ویرانی کے سوا کچھ نہیں ۔ صدافسوس کہ ہم ایک ایسا ادارہ نہ بناپائے جو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والے 80ہزار مرد و زن کے خاندانوں کی سماجی بحالی میں معاون ومدد گار ہوتا ۔ کیا سانحات کے بعد کے ہمدردی کے اعلانا ت یا امدادی چیک (جن میں سے اکثرکیش نہیں ہوتے )بچھڑنے والے پیاروںکا نعم البدل ہو سکتے ہیں ۔ آسان ساجواب ہے ۔ جی نہیں ۔ تو ہم کب سیکھیں گے ، سمجھیں گے اور عملی تعمیر نو کے ساتھ سماج کے نشاط ثانیہ کا آغاز کب کر یں گے ۔ یہ اور اس جیسے چھوٹے چھوٹے سوالات جواب نہ ملنے پر گھائو بھرنے نہیں دیتے ۔ آئین اور قانون کی بالا دستی جاگتی آنکھ کا خواب بن کر رہ گئی ہے ۔ مسائل سو ا نیزے پر ہیں،بالادست طبقات کی دلچسپیاں اس کے سوا ،شکوہ کیا کیجئے کسی سے سات دہائیوں میں کوئی ایک ادارہ تو ایسا ہوتا جس پر فخر کیا جاسکتا ہم ماضی پر مٹی ڈال کر جی سکتے ہیں نا حال سے آنکھیں چُرا کر ۔ زندگی کی حقیقتیں بڑی تلخ ہیں ۔ سوال کرنے والوں کے منہ بند نہیں کئے جا سکتے اربوں روپے شکر بنانے پر اُجاڑے پھر کھربوں روپے لشکر اُجاڑنے پر اب ردالفساد نامی آپریشن دعائوں سے تو کامیابیاں حاصل نہیں کرے گا ۔ اس ملک کے سادہ لوح لوگوں کے خون پسینے کی کمائی اُٹھے گی اس پر سووہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ کر پنجاب کے ان طاقتور چہروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ممکن ہوگا جو انسانیت کے دشمنوں کی سر پرستی فرماتے رہے اور اب بھی ڈھال کا کردار ادا کر رہے ہیں ؟۔ٹھہریئے ۔ یہ آگے کی باتیں ہیں ۔ ہمیں آپریشن ضرب عضب کے حتمی نتائج سے آگاہ کیجئے ؟ ۔

یہ بھی بتلایئے کہ وہ کیا وجہ ہے جس کی بدولت آپریشن والے علاقوں کے لوگوں کی نئی نسل شاکی ہے ۔ ان شکایات کے ازالے کے لئے کیا ہوا ، جان کی امان ہو تو عرض کروں ، مسلم لیگ (ن) کے پاس کونسی گیڈر سنگھی ہے کہ وہ پنجاب میں عوامی خواہشات کے مطابق آپریشن کے مانع ہے اور اداروں کو اپنی مرضی کے ٹرک کی بتی کے پیچھے دوڑانے پر بضد ؟ ۔ مکر رعرض ہے ایک پر امن سماج اور قانون کی بالادستی ہی معاشی ترقی کے ساتھ نظام ہائے حکومت کے ثمرات عام شہریوں تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں پسند و نا پسند کے کھیل نے جس مقام پر ہمیں لا کھڑا کیا ہے یہ کوئی قابل فخر مقام نہیںثانیاًیہ کہ بہت ہوگیا علاقائی و عالمی سازشوں کا سیاپا اب وقت آگیا ہے کہ اپنے گھر کو صاف کرنے کے عمل کو دیانتداری سے مکمل کیا جائے ۔ لا ل قلعہ پر جھنڈے لہرانے اور ''ملک ملک ما است '' کے چورن کی فروخت بند کی جانی چاہیئے ۔ سازشوں کی کہانیاں بہت بیچ لیں اپنی ان پالیسیوں پر از سر نوغور کرنے کی ضرورت ہے جس نے تنہائی مسلط کی اور اقوام کی برادری میں منفی تاثر اجا گر کیا ۔ مذہبی جماعتوں دینی مدارس اور این جی اوز کے براہ راست غیر ملکی امداد لینے پر پابندی لگنی چاہیے ۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ امداد دینے والے ہمارے خونی رشتہ دار نہیں بلکہ وہ اپنا ایجنڈا رکھتے ہیں ۔ وہ ایجنڈا کیا ہے ا س کے پاکستان پر کیا منفی اثرات مرتب ہوئے اس پر بہت زیادہ مغز کھپانے کی ضرورت نہیں۔ یہی عرض کرنا مقصود ہے کہ تحفظات و شکایات کے باوجود یہ ہمارا ملک ہے اور ہماے ادارے ہیں بس براہ کرام ترجیحات تبدیل کیجئے ۔ انسانیت کے دشمنوں کے خلاف کارروائی لازم ہے مگر ان کے سہولت کاروں وہ کوئی بھی اور کہیں کے بھی ہوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی بھی ضروری ہے ۔ ایسا نہ ہوا تو رہی سہی کسر بھی پوری ہوگی اور قیام امن کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو پائے گا ۔

نیک وبد سمجھائے دیتے ہیں حضور آپ کو

متعلقہ خبریں