Daily Mashriq


رد الفساد کو سبب الفساد بنانے والا ذہن

رد الفساد کو سبب الفساد بنانے والا ذہن

پنجاب میں رینجرز کا آپریشن رد الفساد شروع ہوتے ہی اس کے ایک نسلی آپریشن میں بدلنے کی شکایات عام ہونا شروع ہوگئیں ۔ یہ تاثر دیا جانے لگا کہ غیر ملکیوں اور دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف شروع ہونے والا آپریشن ملک بھر کی پشتون آبادی کے خلاف آپریشن کی شکل اختیار کررہا ہے ۔یہ ایک خطرناک تاثر تھا جسے پنجاب کی کچھ مارکیٹوں میں لگنے والے ہاتھ سے لکھے گئے نوٹسز نے تقویت پہنچائی ۔جس انداز سے پنجاب کے مختلف حصوں میں پکڑ دھکڑ کے مناظر دکھائے گئے وہ بھی ایک نسلی تفریق کو ہوا دے رہے تھے ۔پنجاب میں ہونے والی پکڑ دھکڑ کے جواب میں سوات کے ایک کونسلر کی ویڈیو کلپ بھی سوشل میڈیا میں گردش کرتی رہی جس میں جواب کے طور پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدوروں حتیٰ کہ بھکاریوں کے خلاف آپریشن کیا جا رہا تھا ۔ان واقعات میں ردعمل کا دخل بھی ہوسکتا ہے مگر ایک طبقہ نفرتوں کو ہوا دینے کے لئے ہمہ وقت موجود ہوتاہے ۔ اس مرحلے پر بہت سی سازشی تھیوریاں بھی چلنے لگیں۔ایک تاثر یہ تھا کہ رینجرز کے ساتھ پنجاب پولیس کی معاونت نے آپریشن کو نسلی رخ دیا اگر رینجرز کو اپنے طور پر آپریشن کرنے کی اجازت دی گئی ہوتی تو یہ تاثر کبھی جنم نہ لیتا یوں رینجرز آپریشن کے سر پر پنجاب پولیس کی کلغی سجانا قطعی غیر ضروری تھا ۔جس پر ''اسی عطار کے لونڈے سے دوالینے '' کا مصرعہ صادق آتا ہے ۔ایک رائے یہ بھی تھی کہ آپریشن کو متنازعہ بنانے کے لئے اسے نسلی رخ دیا گیا ۔اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے پنجاب میں پشتونوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے نام پر بے شما رجعلی آئی ڈیز بنتی چلی گئیں اور ان کے ذریعے پروپیگنڈے کا ایک طوفان برپا کر دیا گیا ۔جس کا مقصد پنجاب اور پشتون تفریق کو ہوا دینا تھا ۔جس کے جواب میں پاک فوج کے ریٹائرڈ میجرجنرل سعدخٹک کی ایک ویڈیو کلپ بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی جس میں اس تاثر کی تردید کی گئی کہ آپریشن رد الفساد کا ہدف ملک کے مختلف علاقوں میں آباد پشتون آباد ی ہے۔ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا اس صورت حال میں تبصرہ بہت متواز ن رہا ۔پنجاب حکومت اور رینجرز حکام کو بھی پہلے مرحلے پر ہی صورت حال کی سنگینی کا انداز ہ اور احساس ہوا اور یہ واضح کیا گیا کہ آپریشن کسی مخصوص علاقے ،نسل اور وضع قطع کے لوگوں کے خلاف نہیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا کہ پشتون ہمارے بھائی ہیں اور ان کے خلاف آپریشن کا تاثردرست نہیں۔انہوںنے شکایات کے ازالے کے لئے ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے ۔آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے بھی آپریشن کے کسی مخصوص دائرے میں ہونے کے تاثر کی دوٹوک تردید کی ۔فوجی آپریشن ایک مخصوص فضاء میں ہوتے ہیں جہاں خوف اور ردعمل کارویہ بار بار عود کر آنا فطری بات ہوتی ہے ۔اس فضا میں بدحواسیاں اور بدتدبیری کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔اس لئے آپریشن رد الفساد کے آغاز پر بھی کچھ اس طرح کے رویوں کا محسوس ہونا عجیب نہیں تھا ۔پشتون آبادی پاکستان کی بازوئے شمشیر زن ہے ۔اس لئے کسی مرحلے پر یہ تاثر نہیں ملنا چاہئے کہ یہ آپریشن کسی مخصوص آبادی ،زبان اور نسل کے خلاف ہے ۔حتیٰ کہ افغان مہاجرین کو بھی بلاجواز تنگ کرنے اور قابل نفرت بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔ آپریشن ردالفساد کو سبب الفساد یعنی نسلی تقسیم اور تفریق پر مبنی ایک نئے فساد کی بنیاد بنانے سے بچانے کا یہی طریقہ ہے۔آپریشن کی کامیابی سے تکمیل ،مقاصد کا حصول اور اسے نسلی امتیاز سے بچانا دونوں ناگزیر ہیں۔یہ تنی ہوئی رسی پر سفر ہے کیونکہ افغانستان میں تشکیل پانے والے منظر نے پاکستان کو عجیب دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے ۔خطے کی موجودہ صورت حال میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بار بار کشیدگی در آرہی ہے اور یہ کشیدگی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے ۔اس کشیدگی کا محرک صرف افغانستان ہوتا تو شاید زیادہ پریشانی کی بات نہیں تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ افغان حکومت کے پلاسٹک ماسک کے پیچھے ''سی آئی اے'' اور'' را ''چھپی ہوئی ہیں۔افغانستان میں تشکیل پانے والے اس منظر نامے نے پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کو سیکورٹی رسک بنادیا ہے۔وہ زمانہ اور حالات بہت پیچھے رہ گئے ہیں جب افغانستان میں سوویت افواج نے مداخلت کی تھی اور بے خانماں مہاجرین نے اونٹوں پر سامان لاد کر پاکستان کا رخ کیا تھا ۔پاکستانی عوام نے ان مہاجرین کا کھلی بانہوں سے استقبال کیا تھا ۔نائن الیون کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر کنٹرول حاصل کیا تو یہ صورت حال تبدیل ہو نے لگی ۔امریکہ کی فوجی معاونت نیٹو اور یورپ نے کی مگرامریکہ نے افغانستان کے سیاسی خلا کو بھارت کے ذریعے پر کرنے کی کوشش کی ۔بھارت کی خفیہ ایجنسی ''را'' اور افغان خفیہ ایجنسی ''این ڈی ایس'' کے درمیان تعلقات میں من وتو کی تمیز ختم ہو گئی ۔جس سے پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرات بڑھتے چلے گئے ۔اب واہگہ اور طورخم کے خطرات گڈ مڈ ہو کر رہ گئے ہیں ۔ افغان حکمران اس وقت امریکہ اور بھارت کے اثر رسوخ تلے کراہ رہے ہیں۔ ایک عالمی طاقت اور انتظام کے زیر اثر انہیں بھارت کی جھولی میں ڈال دیا گیا ہے ۔اس عالم مجبوری میں وہ آزادانہ روش اختیار کرنے پر قادر نہیں رہے ۔ان کی یہ روش برقرار رہی تو بدلتے ہوئے حالات اور منظرنامہ شمال سے کسی ایسی طاقت کو جنم دے گا جو اس ساری صورت حال کو واپس لانے کے مقاصد کے ساتھ سامنے آئے گی۔

متعلقہ خبریں