Daily Mashriq


ریڈیو کی کچھ یادیں

ریڈیو کی کچھ یادیں

اب صرف خواتین کو ہی نہیں مردوں کو بھی اپنی عمر چھپانے کاخبط رہتا ہے ۔ خواتین کو تو خیر صنف نازک ہونے کی وجہ سے یہ حق دیا جا سکتا ہے ، حالانکہ چہرہ اگراُسکی باقاعدہ پلاسٹک سرجری نہ کی جائے عمر کی پردہ پوشی میں ناکام رہتا ہے۔ ہماری عمر پرائمری میں داخلے کے وقت ایک سال ہمارے ابا نے زیادہ درج کی تھی۔ اس اضافہ نے بعد میں ہمیں بہت فائدہ ملا ، اس پر بھی انشاء اللہ پھر کبھی بات ہوگی فی الوقت تو یہ بتا تے چلیں کہ ریڈیو پاکستان پشاور ہم سے دس سال بڑا ہے یہ بات ہمیں کل ایک اخبار سے معلوم ہوئی جس میں بتایا گیا تھا کہ ریڈیو پاکستان پشاور ماشاء اللہ بیاسی سال کا ہوگیا ۔ اس سے ہماری عمر کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور یہ بھی کہ پشاور ریڈیو کے پروگراموں سے بڑھاپے کا جو تاثر ابھرتا ہے وجہ اُسکی ضعیف العمری ہے ۔ ظاہر ہے 82سال کی عمر میں جہاں گوشت پوست کے انسان کے قویٰ مضمحل ہو جاتے ہیں تو اداروں کے اعصاب کمزور پڑجانے کو بھی ایک فطری امر جان کو قبول کر لینا چاہیئے۔ ہم مگر سمجھتے ہیں کہ ہمارے دوست لائق زادہ لائق جو ایک معروف دانشوربے شمارکتابوں کے مصنف اور ایک تجربہ کار براڈ کاسٹر ہیں اُن کی سربراہی میں ریڈیو پاکستان پشاور اپنی شاندار نشریاتی روایات برقرار رکھے گا ۔ اُن کے کہنے کے مطابق ریڈ یو پہلے بھی ایک اکادمی کا کردار اد ا کرتا رہا ہے اور آئندہ کے لئے اُسی جو ش و جذبے اور لگن کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے گا ۔ ہم بتا نا یہ چاہتے تھے کہ پشاور ریڈ یو سے ہمارا بھی ایک دیر ینہ تعلق رہا ہے ۔ اور اس ادارے سے ہماری زندگی کی خوبصورت یادیں وابستہ ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب ریڈیو نو آموز لکھاریوں کے لئے اکیڈمی کا درجہ رکھتا تھا ، مجھے یہ حقیقت تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ریڈیو سے ہی ہم نے ڈرامہ لکھنا سیکھا۔ ہم بڑے شوق سے ریڈیو ڈرامے سنا کرتے تھے ۔ اور پھر خود بھی ڈرامہ لکھنے لگے ہم نے جب ہوش سنبھالا تو اُ س زمانے میں ریڈ یو ہی کا چرچا تھا اور یہ تفریح کا ایک مئوثر ذریعہ بھی تھا ۔ صرف تفریح ہی نہیں بہت بڑے دانشور ماہرین تعلیم مذہبی سکالرز ریڈ یو سے اپنی تقریروں میں بڑی کار آمد معلومات فراہم کرتے۔ ڈرامہ بہرحال ہر عمر کے سامعین ، کے لئے ایک پسند یدہ سیگمنٹ تھا ۔ ریڈیو کے عروج کے دور میں ہفتہ میں ایک دن ڈرامے کے لئے مخصوص تھا اور لوگ بڑی شدت سے اس کا انتظار کرتے ، پشتو ڈرامہ جمعرات کے روز شام کے چھ بجے نشر ہوتا۔ دورانیہ اُسکا 30منٹ ہوتا تھا ، عبداللہ جان مغموم، شہزاد خان جو نیئر ، عبدالجلیل ، گل محمد خان گل اور رحیم شاہ نسیم ، اُس دور کے معروف صدا کار تھے ، امیر حمزہ خان شنواری ، سمندر خان سمندر ، رضا مہمندی ، رشید علی خان دھقان ، سید رسول رسا ایاز دائودزے ، اشرف مفتون اور شوکت اللہ اکبر کے شاہکار ڈرامے آج بھی ہماری یادوں کا حصہ ہیں۔ اجمل خٹک نے بھی پچاس کی دھائی میں جب وہ ریڈیو سے مسودہ کار کی حیثیت سے وابستہ تھے ، کچھ ڈرامہ لکھے ،مگر یہ ہماری یادوں سے پہلے کی بات ہے ۔جمعرات کی شام کو نصف گھنٹے کے ڈرامہ کے علاوہ ، خواتین اور بچوں کے پروگرام میں بھی 10منٹ کے مختصردورانیئے کے ڈرامے نشر ہوتے ۔ جنہیں ڈرامگئی کہا جاتا۔ 1935ئمیں جب پشاور کا ریڈیو سٹیشن قائم ہوا تویہاں سے ڈرامے نشر ہونے لگے پہلا ڈرامہ اسلم خٹک کا دوینو جام نشر ہوا ۔ وہ پشاور ریڈیوکے سٹیشن ڈائریکٹر بھی تھے ، اُس زمانے میںاس منصب کو ڈائرکٹر آف پبلک انسٹرکشن کہا جاتا ۔ اور وہ ریڈیو کے علاوہ زراعت اور تعلیم کے محکمو ں کی بھی نگرانی کرتے۔ دوینو جام ایک طویل دورانیئے کا ڈرامہ تھا ۔ہمارے ابا بتا تے تھے کہ یہ قسطو ں میں نشر ہوتا رہا ۔ اور یہ ہم حجرے میں بڑی باقاعدگی سے سنا کرتے ۔ حجرے کے لئے ریڈ یو سیٹ سرکار نے فراہم کئے تھے ۔ عبد الکریم مظلوم جو آل انڈیا ریڈیو کے معروف صدا کار انائونسر اور پیش کار تھے ۔انہوں نے دو ینوجام کی نوک پلک درست کی اور ریڈیو کی تکنیکی ضرورتوں کے مطابق اس میں مناسب ردوبدل کرکے ریڈیو سے پیش کیا ۔ انہوں نے خو دبھی دوینو جام میں کام کیا تھا ۔ ہم ابھی دسویں جماعت میں پڑھتے تھے کہ ریڈیو کے لئے لکھنے کا شوق پید ا ہوا حیرت اس بات پر ہوئی کہ سلورزرہ رویئے کے نام سے یہ ڈرامہ نشر بھی ہو گیا ۔ عمر ناصر صاحب ہمارے اس پہلے ڈرامے کے پیشکار تھے ، اُسی دور میں ہمارا دوسرا ڈرامہ تو رزن کا کا ، بچوں کے پروگرام باتو ر میں نشر ہوا ، ہمیں یاد پڑتا ہے ، گل محمد گل اس ڈرامے میں تورزن کاکا بنے تھے ، اُس دور میں ریڈیو میں نشر ہونے والے ڈراموں میں معاشرتی اصلاح کا پہلو نمایاں ہوتا اور ڈراموں کے کرداروں کہانی اور مکالموں کے ذریعہ پشتونوں کی معاشرتی زندگی کی بھر پور عکاسی ہوتی۔ بلاشبہ پشتو ریڈیائی ڈرامے نے پشاور ریڈ یو کی سرپرستی میں ایک طویل سفر طے کیا ہے جو اب بھی جاری ہے ۔ اس ضمن میں ریڈیو پاکستان پشاور کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہم تویہاں تک کہتے ہیں پشاور ریڈیو نے پشتو ڈرامہ کو زندہ رکھنے میں بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ بہرحال ہمیں خوشی ہوئی کہ پشاور ریڈیو جو ہم سے عمر میں دس سال بڑا ہے اُسکی 82ویں سالگرہ منائی جارہی ہے اور پورا یقین ہے کہ یہ ادارہ اپنی شاندار نشریاتی روایات کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے گا ۔

متعلقہ خبریں