Daily Mashriq


تعصب کی زد میں میں کیوں ہوں ؟

تعصب کی زد میں میں کیوں ہوں ؟

تعصب اور عصبیت میں فرق تو بہرحال موجود ہے ۔عصبیت اپنی انفرادی یا اجتماعی پہچان پر فخر کرنا ہے جبکہ تعصب اپنی پہچان کے تفاخر میں کسی دوسرے فرد یا گروہ کو کم تر سمجھناہے ۔عصبیت ایک مثبت رویہ ہے کہ انسان اپنی اس حیثیت سے محبت کرتا ہے کہ جس حیثیت میں اسے رب نے پیدا کیا ہوتا ہے لیکن تعصب اس رب کی مشیت پر استہز ا کے مترادف ہے کہ جس نے کسی انسان یا گروہ کو جس حالت میں پیدا کیا ہے اور ہم اس سے نفرت کریں یا خود سے کمتر جانیں ۔اللہ انسان کو انسان کا مونس و غمخوار دیکھنا چاہتا ہے ،انسان کو انسان کا ہمدرد دیکھنا چاہتا ہے ۔ انسان کو انسان سے محبت کرنے کا حکم دیتا ہے لیکن تعصب انسان کو انسان سے دور لے جاتا ہے اوراس تعصب میں انسان فرد یا گروہ کی حیثیت سے دوسرے افراد یا گروہوں سے نفرت کا رویہ اختیار کرلیتے ہیں۔یوں انسان انسانیت کے ارفع مقام سے بہت نچلے درجے پر آجاتا ہے ۔اگر تعصب کوئی اور کرے تو شایدکھینچ تان کر اس کا جواز بھی تلاش لیا جائے لیکن ایک مسلمان کی حیثیت سے تعصب رکھنا ایمان کا نقصان ہوسکتا ہے ۔ حضرت بلال کی مثال کیا ہمارے سامنے نہیں ہے کہ اس دور میں جب غلام ہونا سماج کی سب سے کمزور حیثیت تھی لیکن اس حبشی غلام کو نبی کریم ۖ کے معتمد اور برگزیدہ صحابہ کرام میں مقام ملا ۔ یہی اسلام کی شان ہے ورنہ قریش کے معززومعتبر قبیلے سے تعلق رکھنے والے نبی ۖ ایک غلام کو اپنا بہترین دوست کیوں سمجھتے ہیں ۔مسلمان توحکم کے پابند ہیں کہ جو حکم قرآن نے دے دیا اور جو حکم نبی ۖ نے فرمادیااور جب فرمادیا گیا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر فوقیت حاصل نہیں ماسوائے تقویٰ کے ،تو پھر ہمارے لیے کسی بھی قسم کے تعصب کی گنجائش کہاں نکلتی ہے ۔سوچیے ہمارے تعصبات ہمیںکہاں لے کر جارہے ہیں کہ ایک ہی وطن میں رہنے والے رنگ و نسل اورفرقوں میںبٹ کر ایک دوسرے سے نفرت کے مرتکب ہورہے ہیں۔یہ وطن جس دو قومی نظریے کی بنیاد پر بنا ہے اس میں بھی دیکھا جائے ہندوؤں کا مسلمانوں کے خلاف وہ تعصب کارفرماتھا کہ جورفتہ رفتہ مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت ہوتا گیا۔ تعصب تقسیم ہند تک ہی کیا موقوف یہاں تو اسی ظالم تعصب نے ملک کے دو ٹکڑے کرڈالے، افسو س کہ ہم نے کچھ نہ سیکھا ۔ تعصب کے اسی زہر کو شربت سمجھ کر پی رہے ہیں جیسے وہ زہر نہ ہوتریاق ہو۔ تعصب نے ہمارے سماج کو جتنا نقصان پہنچایا اتنا نقصان تو ہمیںہمارے کرپٹ لیڈروں نے بھی نہیں پہنچایا ۔ تعصبات سے ادھ موے ہو کر بھی ہم اس مصیبت سے ابھی جان چھڑانہیں پائے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہم خسارے میں نہیں ، اگر اس کا جواب اثبات میں آتا ہے تو پھرسوال یہ بھی اٹھنا چاہیئے کہ ہمارے دانشور اس ضمن میں کیا سوچتے ہیں اور اس کا کوئی حل کبھی کسی نے تلاش کیا ہے ۔میرا یقین ہے کہ اگر ہم ان سوالوں کا جواب تلاش کرلیں تو قوم اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجائے گی ۔ہماری زبان کیا ہے؟ ، ہمارا عقیدہ کیا ہے ؟ہمارا مسلک کیا ہے ؟ہماری نسل کیا ہے ؟

یہ سب حوالے بہت بڑی حقیقت ہیں اور ان حقیقتوں کو بھلا کو ن جھٹلا سکتا ہے ۔ لیکن ان سب حقیقتوں میں ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جو ہم میں سے نہیں ہے اس کی بھی ذات کے ساتھ ایسی ہی حقیقتیں منسلک ہوتی ہیں اور جب ہم اپنی حقیقتوں کو منوانا چاہتے ہیں تو ہمیں دوسروں کی حقیقتوں کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا ۔پنجاب میں دہشت گردی کی نئی لہر کے بعد پختونوںکے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے وہ کسی طور بھی قابل قبول نہیں ۔پاکستان کا ہر شہری آزاد ہے اور پاکستان کے طول و عرض میں کہیں بھی رہائش اختیاراور کاروبارکر سکتا ہے ۔پاکستان ہم سب کا ہے ۔نہ تو پختونخوا میں کسی پاکستانی کے آنے پر پابندی ہے اور نہ ہی کوئی کسی پختون کوکہیں جانے سے روک سکتا ہے ۔ میرا لباس یا حلیہ کسی سے ملتا ہے تو اس میں میر اکوئی قصور نہیں ہے کہ یہ لباس یہ حلیہ میرے آباؤاجداد سے چل کرمجھ تک پہنچا ہے ۔ اب کوئی اچھا یا برا میرے لباس اور میرے حلیے میں کوئی بری حرکت کرتا ہے اسے میرے لباس یا میرے حلیے کے کھاتے میں ڈالنا ناانصافی ہے ۔ میں تو اس ملک کی معیشت کے پہیے کو گھمانے میں اپنا خون پسینہ ایک کررہا ہوں ۔ مجھے دیوار سے نہ لگایا جائے ۔میں پاکستانی ہوںبلکہ میں پاکستان ہوں ۔مجھ پرکوئی لیبل نہ لگائے ۔ نہ ہی مجھے کسی وضاحت کی ضرورت ہے نہ ہی مجھے وفاداری کے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ وفاداری میرے خون میں شامل ہے ۔ اپنی کوتاہیوں کو مجھ پر مسلط نہ کیا جائے ۔ حصار لگانا تمہارا کام ہے میر اکام نہیں ۔یہ حصار کس نے توڑا کیوں توڑا یہ سوال تمہارے لیے ہے میرے لیے نہیں ۔حصار جب جب بھی ٹوٹا میں بھی گھائل ہوا ۔اور میرے کندھے توابھی درد کررہے ہیں جنازے اٹھا اٹھا کر ۔ میرے اپنے پھولوں کے شہر میں اب تو کانٹوں کی فصل اگتی ہے۔ میں تو اپنے گھر میں قید ہوں ،میرے اپنے شہر میرے لیے اجنبی بن چکے ہیں ۔میری نسل ،میری زبان ، میرا دستور کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا ،میں جینا چاہتا ہوں بس مجھے جینے دو۔ اور ہاں میرے سر پر کوئی سیاست بھی کیوں کرے ۔بھڑکیں لگانا ہی میرے مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اگر کوئی میرا خیر خواہ ہے تو مکالمہ کرے ،میرے حقوق کسی بھی دوسرے پاکستانی سے کم نہیں ۔اگر کوئی میری چاہت رکھتا ہے تو مجھے یہ حق دلادے ۔۔۔۔اور وہ حق یہ ہے کہ مجھے کوئی کسی بھی برے کے ساتھ بریکٹ نہ کرے ۔۔۔۔

متعلقہ خبریں