Daily Mashriq


ایک اور نوحہ

ایک اور نوحہ

نوحے لکھ لکھ کر ہاتھ تھک گئے ہیں اور یہاں ظلم تمام نہیں ہوتا۔یہ کیسا ظالم معاشرہ ہے، یہ کیسے ظالم لوگ ہیں ،یہ چھوٹی چھوٹی بچیوں کو مار ڈالتے ہیں۔عرب بدنامی کے خوف سے مار ڈالتے تھے اور یہ پیسے کے لالچ میںمار ڈالتے ہیں۔ہم مسلمان کہلاتے ہیں کیا ہم مسلمان کہلانے کے لائق بھی ہیں۔اپنے ہی مسائل کے رونے روتے ہمیں اپنی پہچان بھی بھول گئی۔نہ یہ یاد رہا کہ انسانیت بھی کوئی صفت ہے نہ یہ خیال ہے کہ اسی معاشرے میں کبھی لوگوں کی عزت اور بچے سانجھے ہوا کرتے تھے ۔کل سے شاید لفظ ہی نہیں ملے میں کل بھی بہت دیر تک خاموش ان سفید کاغذوں کو گھورتی رہی لیکن کسی لفظ میں وہ جان ہی نہ تھی کہ اس دکھ کو زبان دے سکتا۔ایک دس سال کی بچی ہمسایوں نے پیسوں کے لالچ میں اغوا کی اور پہچانے جانے کے خوف سے قتل کر دی۔میں وہ خبر ہی نہ پڑھ سکی۔ان قاتلوں کی تصویریں اخبار میں چھپی ہوئی تھیں۔نہ ندامت نہ خوف بس سپاٹ چہرے۔۔کیسے؟؟وہ ماں کس کرب سے گزررہی ہو گی۔دلاسے کے لفظ تو اس کے پاس آکر اس کے آنسوؤں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہوں گے۔اس کی بھری پری گود کیسے لالچ نے اجاڑ دی اور وہ بے بس ہی رہی۔وہ باپ جو پاگلوں کی طرح ان لوگوں کے مطالبات پورے کرنے کے لئے وسائل ڈھونڈتا رہا۔گاڑی بیچی لوگوں سے ادھار مانگے۔اس کی کوئی کاوش اس کی بچی کو نہ بچا سکی۔وہ بھی تہی داماں سا اپنے ہی گھر کے کسی کونے میں سمٹا ہو گا۔کیسے اپنے بچوں کو ماں باپ تیز دھوپ سے بھی بچا تے ہیں،کہیں گرمی نہ لگ جائے۔سرد ہوا ہو تو ماں اپنی چادر میں چھپا لیتی ہے۔وہ ماں اب کیا کرے گی اس نے تو اپنی بیٹی کو سفید چادر میں لپیٹ کر اس زمین کے حوالے کر دیا جہاں سے اس کا اٹھایا گیا تھا۔لیکن یہ بڑاگہرا دکھ ہوتا ہے اولاد کا دکھ۔۔۔اولاد کی قبر ماں کے سینے کے اندر بن جایا کرتی ہے اور باپ کے کاندھوں سے یہ جنازہ کبھی نہیں اترتا۔میں ماں ہوں جانتی ہوں لیکن وہ نہیں جانتے تھے جنہوں نے خواہش اور دولت کی ہوس میں وہ رالیں ٹپکائیں کہ اس معصوم کی سانس ہی رک گئی ۔ہم سے تو اچھے جانور ہیں کہ دوسروں کے بچوں کو بھی نقصان نہیں پہنچاتے ۔یہ کیسی بے بسی ہے کہ اسے زبان دینا ہی ممکن نہیں لگتا۔یا شاید پاگل پن ہے۔ایک عجیب پاگل پن جو اس ملک کے بادشاہوں سے لے کر ایک عام آدمی تک سب کی آنکھوں میں نظرآتا ہے ۔غور سے دیکھوں تو سب کی باچھوں سے جھاگ اڑتی محسوس ہوتی ہے۔یہاں ننھی منی بچیاں کبھی کسی کے ہاتھ کس طور لگ جاتی ہیں،کبھی کس طرح مار دی جاتی ہیں کسی کو ترس ہی نہیں آتا۔یہ معاشرہ نفسیاتی مریضوں کا معاشرہ ہے۔ بھوکوں کا معاشرہ ہے۔ان کی بھوک ایسی ہے کہ انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا،انہیں جو ملے یہ چاٹ جاتے ہیں ۔حلال ہو یا حرام۔مردار ہو ہا زندہ یہ دانت نکوسے پل پڑتے ہیں۔یہ زندہ بچیاں کھا جاتے ہیں اور معصوم بچوں کو نوچ لیتے ہیں۔یہ کسی ماں کی کوکھ نہیں چھوڑنا چاہتے ، کسی باپ کا سینہ ٹھنڈا نہیں دیکھ سکتے۔اور ہم بزدل ہیں جو بے بس ہیں جو مجبور ہیں جواپنے آپ کو قانون کے دھاگوں میں کسی دباؤ کے نفسیاتی قرض میں باندھے رکھتے ہیں۔ہم ان درندوں کو کسی چوراہے میں پھانسی پر لٹکانے کی بات نہیں کرتے،کر ہی نہیں سکتے۔اپنے اپنے بچے لے کر کونوں میں دبک کر سایوں میں چھپ کر زندگیاں گزار رہے ہیں۔کوئی ایک معمولی سا خط بھی نہیں لکھتا کہ صدر صاحب ایک اتنا ہی حکم صادر فرما دیجئے۔یہ بچی آپ کی نواسیوں کی مانند ہو گی۔ اسکے قاتلوں کو کسی چورا ہے میں بند ھو ا دیجئے کہ لوگ انہیں پتھر مار مار کر ختم کردیں ۔ انہیں کسی چوک میں پھانسی ہی دلوا دیجئے یا اپنے آزاد میڈیا کو ہی کہیے کہ اس کے پھانسی دیئے جانے کو اس ملک کے ہر ایک گھر میں دکھا دے تاکہ ان منحوس مجرموں میں کوئی خوف پیدا ہو ۔ یہ ہمارے بچوں کو آزاد چھوڑ دیں ۔ یہ اب ہمارے بچوں کو بھنبھوڑ ڈالتے ہیں ، انکے سروں میں گولیاں ماری جانی چاہئیں کہ ان کے دماغ کا بھیجا جب کسی گرم سڑک پر گرے گا تو باقیوں کے دماغ کا خناس دور ہو جائے گا ۔ اب ایسا ہی کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ سوچ کر کہ کہیں بین الاقوامی ہیومین رائٹس کی تنظیمیں پاکستان کے مخالف نہ ہوجائیں ۔ کہیں سیاست کی پیشانی پر کوئی داغ نہ لگ جائے ، آخر کب تک لوگوں کے بچوں کو یوں ہی بے دردی سے مسل دیئے جانے کے لیے چھوڑ دینگے ۔ حکمرانوں کے بچوں کو کوئی خطرہ نہیں اس لیے دوسروں کے بچوں کی پرواہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں ۔ یہ خاموش بچے جو ایک دن پہلے تک قلقاریاں مارتے مائوں کے سامنے باپوں کے آنگنوں میں موجود ہوتے ہیں ، دوسرے دن قبر کی تختی میں تبدیل کر دیئے جاتے ہیں ،اس لئے اس سدباب کا کوئی راستہ تلاش نہیں کیا جا تا ہے ۔ حکام وقت کو کسی بات کی پرواہ نہیں لیکن ہمیں تو اپنے بچے عزیز ہیں ۔ وہ بچے جو گلیوں میں کھیل نہیں سکتے کہ کہیں پڑوس میں رہتا کوئی درندہ انہیں مار نہ ڈالے ، وہ بچے جو اب کھیلوں کے میدانوں تک بھی جانے کے لیے آزاد نہیں چھوڑ ے جا سکتے کہ کون جانے کہاں کوئی ان کی تاک میں بیٹھا ہو ، ان والدین پر نہیں تو ان بچوں پرہی حکام وقت احسان کردیں ۔ کسی ایک قاتل کو ایک بار دیکھنے والوں کے سامنے سزا دیں تاکہ عبرت ہو ۔ تاکہ ہمارے بچے محفوظ ہوں ، ورنہ تو اب نوحے ہی نوحے ہیں اور شنوائی تو پہلے بھی کہیں نہ تھی لیکن اولاد کی تکلیف باغیوں کو جنم دیا کرتی ہے ۔ اور ان کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔

متعلقہ خبریں