Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

علامہ ابن جوزی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے ایک مصیبت پیش آئی ، جسے دور کرنے کیلئے میں نے رب تعالیٰ سے بہت دعائیں مانگیں ، لیکن قبولیت کا اثر ظاہر نہیں ہوا تو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شیطان نے اپنی چالوں کا جال بننا شروع کردیا اور اس نے مسلسل میرے دل میں مختلف وسوسے ڈالنا شروع کر دیئے ۔ چنانچہ کبھی کہتا کہ خدا کا کرم بڑا وسیع ہے اور اس سے بخل کا امکان نہیں ہے ، پھر قبولیت میں تاخیر کی وجہ کیا ہے ؟ یوں مجھے بہکانے کی کوششیں شروع کردیں ، گویا میرے اور شیطان مردود کے مابین مقابلہ شروع ہوگیا ۔ اس موقع پر میں نے شیطان سے یہ کہہ دیا کہ دورہو جا ملعون ۔ مجھے تجھ سے فیصلہ کرانا ہے اور نہ تجھ کو وکیل بنانا چاہتا ہوں اور اپنے نفس سے کہا کہ خبر دار ! شیطان کے وسوسوں کو جگہ مت دینا ، کیونکہ اگر قبولیت کی تاخیر میں اس کے سوا کوئی اور حکمت نہ ہو تجھ کو شیطان لعین کے مقابلے میں آزما یا جائے تو یہی کافی ہے ۔ نفس نے کہا : اچھا تو پھر مجھے اس معاملے میں جس میں مبتلا ہوں تاخیر کی حکمت بتلا کر تسلی کر دیجئے ۔

میں نے کہا : دلیل سے ثابت ہو چکا ہے کہ رب تعالیٰ مالک ہیں اور مالک کو دینے اور نہ دینے دونوں کا اختیار ہوتا ہے ، لہٰذا اس پر اعتراض کی گنجائش نہیں ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کا حکیم ہونا مضبوط دلائل سے ثابت ہو چکا ہے ، لہٰذا ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو اپنی مصلحت سمجھو ، لیکن اس کی حکمت کا تقاضا اس کے خلاف ہو (اس کی حکمت تم پر ظاہر نہ ہو) تیسری بات یہ کہ کبھی تاخیر ہی مصلحت ہوا کرتی ہے اور جلد بازی نقصان دہ ۔ چنانچہ حضرت سید نا حضور اکرم ۖ نے فرمایا : انسان جب تک جلد بازی نہ شروع کردے کہ کہنے لگے میں نے دعا کی لیکن قبول نہ ہوئی ، اس وقت تک تاخیر میں رہتا ہے ۔ ''چوتھی بات یہ ہے کہ کبھی عدم قبولیت خود تیرے اندر پائے جانے والے کسی سبب سے ہوتی ہے ، ممکن ہے تیری غذا مشتبہ ہو یا تیرا دل دعا کے وقت غافل رہتا ہو یا تیری ضرورت روک کر اس گناہ کی سزا میں اضافہ مقصو دہو ، جس سے تو نے سچی توبہ نہ کی ہو ۔ چنانچہ ان چاروں باتوں پر غور کرنے سے دل کو سکون حاصل ہو جاتا ہے ۔ پانچویں بات یہ ہے کہ اپنے اس مطالبہ کے مقصود کی تحقیق کرو ۔ ممکن ہے اس کے حامل ہونے کی تقدیرپر گناہ میں اضافہ ہو جائے یا وہ کسی مرتبہ خیر سے پیچھے رہ جانے کا ذریعہ بن جائے تو ایسی صورت میں دعا قبول نہ ہونے ہی میں مصلحت ہے ۔ بعض سلف کے بارے میں مروی ہے کہ وہ رب تعالیٰ سے جہاد کی دعا کرتے تھے ، ان کو ایک غیبی آواز نے پکارا کہ اگر تم جہاد کروگے تو قید کر لئے جائو گے اور قید ہوئے تو نصرانی ہو جائو گے ۔ چھٹی بات یہ ہے کہ محرومی ذریعہ بن جاتی ہے بارگاہ خدا وندی میں بار بار کی حاضری اور التجا کا اور اس کا حصول سبب ہو جاتا ہے خدا سے غفلت اور لا پروائی کا اور دلیل یہ ہے کہ اگر یہ مصیبت نہ آتی تو اس وقت ہم تمہیں التجا کر تا ہوا نہ دیکھتے ۔

متعلقہ خبریں