مذاکرات کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دیتا

مذاکرات کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دیتا


اگرچہ افغان طالبان نے تاحال صدر اشرف غنی کی جانب سے مذاکرات اور طالبان کو کابل میں دفتر کے قیام کی پیشکش کا کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا ہے البتہ طالبان کے ترجمان نے امریکی جریدے نیویارکر میں گزشتہ ہفتے شائع ہونے والے ایک کھلے خط کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکومت افغانستان کے عوام پر امریکہ نے مسلط کی ہے جس سے بات چیت کا مطلب امریکی قبضے کو تسلیم کرنا ہے۔ گزشتہ روز جاری ہونے والے بیان میں افغان طالبان نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں دہشتگرد حملوں سے متعلق بین الاقوامی تحفظات پر نیک نیتی سے بات چیت کیلئے تیار ہیں اور امریکہ یا کسی دوسری طاقت سے تصادم نہیں چاہتے لیکن کیا واقعی دہشتگردی ہی امریکہ کا مسئلہ ہے یا وہ افغانستان سے اس کی معدنی دولت ہتھیانا، ایک مصنوعی حکومت مسلط کر کے اسلامی نظام کا قیام روکنا اور افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے خطے میں اپنے سامراجی عزائم کا حصول چاہتا ہے؟ بیان کے مطابق اگر حالات یہی ہیں تو طالبان کو امریکہ کی کوئی پرواہ نہیں اور ایسے میں وہ امریکہ سے مذاکرات کرنا چاہیں گے اور نہ ہی اپنی مزاحمت ترک کریں گے۔ دوسری طرف امریکہ نے واضح کیا ہے کہ طالبان کو افغان حکومت سے ہی بات کرنی ہوگی۔ بات چیت بین الاقوامی برادری یا امریکہ کیساتھ نہیں بلکہ جائز اور اقتدار اعلیٰ کی مالک افغان حکومت اور افغانستان کے عوام کیساتھ کرنا ہوگی۔گوکہ ابھی طالبان کا حتمی مؤقف آنا باقی ہے لیکن محولہ صورتحال سے بجا طور پر اس امر کا ادراک ہوتا ہے کہ افغانستان میں ابھی بات چیت کا مرحلہ نہیں آیا اور مرحلہ اس وقت تک آنا مشکل ہوگا جب تک معاملے کے فریق اپنے اپنے مؤقف میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں لاتے ۔

اداریہ