Daily Mashriq


افادہ مختتم کی لکیر عبور نہ کی جائے

افادہ مختتم کی لکیر عبور نہ کی جائے

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پونے 5 سال پورے ہوگئے ہیں' انتخابات میں تین ماہ سے کم وقت رہ گیا ہے۔ ہم نے انتہائی نامساعد حالات میں پانچ سال پورے کئے ہیں۔ حکومت کے لئے پہلے دن سے ہی مختلف حیلے بہانوں سے مسائل کھڑے کئے گئے اور حکومت کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ کبھی دھرنے دیئے گئے اور کبھی کینیڈا سے لوگوں کو بلوایا گیا' یہ ساری صورتحال قوم کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں احتساب کا دور ہے اور احتساب ہونا بھی چاہیے لیکن کیا تمام احتساب اور تعزیریں اس پارلیمان کیلئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں قائداعظم محمد جناح' لیاقت علی خان اور فاطمہ جناح کا احتساب ہوا لیکن کسی نے غلام محمد خان کا احتساب نہیں کیا۔ ملک کے آئین کو توڑنے والوں کا کوئی احتساب نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی اختیارات پارلیمان اور حکومت کا حصہ ہیں۔ اس کو اگر کوئی دوسرا ادارہ اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے گا تو اس سے مسائل پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سزا جرم کے مطابق ملنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب لاکھوں کیسز عدالتوں میں زیر التوا پڑے ہوں اور ایسے میں گورننس کے ایشوز کو اٹھایا جائے تو اسے انصاف نہیں کہا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ تمام اداروں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس سے مسائل پیدا ہوں گے۔ میں انتہائی ادب سے جج صاحبان سے کہتا ہوں کہ آپ اپنا کام کریں اور پارلیمان اور حکومت کو اپنا کام کرنے دیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر اصلاح احوال اور قانون سازی کی گنجائش موجود رہتی ہے۔وفاقی وزیر امور کشمیر چوہدری محمد برجیس طاہر نے شکایت کی کہ حکومت عدلیہ کیساتھ دیگر اداروں میں ضروری اصلاحات چاہتی ہے لیکن اس کی اجازت نہیں دی جارہی۔انہوں نے کہا کہ پہلے صدرِ پاکستان کو ججز کی تعیناتی کا حق تھا لیکن وہ اب چھین لیا گیا، اسی طرح آئین میں 18ویں ترمیم کے تحت پارلیمانی کمیٹی بھی ججز کی تعیناتی کا معاملہ اُٹھا سکتی تھی لیکن اسے بھی محروم کردیا گیا، پارلیمنٹ کو عزت و وقار دینا چاہیے۔دوسری جانب سپریم کورٹ نے پارٹی سربراہ کے حوالے سے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔ جس میںاس امر کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ماتحت قانون کے ذریعے آئین کو بائی پاس نہیں کیا جاسکتا۔ لوگوں کو دانستہ فائدہ پہنچانے کیلئے آئینی شقوں سے انحراف نہیں کیا جاسکتا۔ عدالتیں قانون کے مطابق کام کررہی ہیں ایک شخص کیلئے کی گئی قانون سازی عدالت کو آنکھیں دکھانے کے مترادف ہے، اس سے مقننہ کو ایسے لوگ کنٹرول کریں گے جو آئین کے تحت پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بن سکتے۔ جو شخص بادشاہ بننے کیلئے نااہل ہوا اسے کنگ میکر بننے کیلئے فری ہینڈ نہیں دیا جاسکتا۔ نااہل کا انتخابی عمل سے گزرے بغیر بطور پپٹ ماسٹر سیاسی طاقت استعمال کرنا آئین سے کھلواڑ ہے۔ عدلیہ، حکومت اور حکمران جماعت کی کبھی اہل و کبھی نااہل قیادت کے درمیان غلط فہمیاں پھیلانے اور معاملات کو ہوا دینے میں میڈیا کا کردار بھی کچھ کم آلودہ نہیں لیکن بہرحال میڈیا کو الفاظ کے پرزور معنی دینے کی حد تک یہی الزام دیاجا سکتا ہے اس سے زیادہ کا میڈیا مکلف نہیں او راگر میڈیا نے حد سے تجاوز کیا تھا تو اس کا نوٹس لیا جانا ضروری تھا۔ یہاں سمجھ سے بالا تر امر یہ بھی ہے کہ خود منصفین کو اپنی نیت کا یقین دلانے کیلئے عوامی سطح پر قسم کھانا پڑتی ہے۔ قبل ازیں سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز اور چند وزراء کا لب ولہجہ سخت تھا، کبھی کبھار وزیراعظم بھی ایک خاص دائرہ کار کے اندر اظہار خیال کرتے تھے، جلسوں میں وزراء دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس بھگت رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ معاملات میں ٹھنڈک آنے کی بجائے گرما گرمی ہونے کا امکان زیادہ ہے اور سینیٹ کے انتخابات کی تکمیل کے بعد مقننہ اور عدلیہ کے درمیان کشاکشی کا ایک نیا دور ناممکن نہیں ۔اس امر کا اشارہ مشاہد اللہ کے بیان سے بھی ملتا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت آخری تین ماہ کے دوران قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں قانون کی منظوری کی حامل اکثریت ملنے کے بعد کچھ ایسی قانون سازی کر سکتی ہے جو قبل ازیں مشکل تھی، ایسا ہونا اس لئے بھی نوشتہ دیوار نظر آتا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات کے بعد اب حکومت کے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں مگر حساب برابر کرنے کیلئے کافی وقت موجود ہے۔ جہاں تک اہلیت ونااہلی کے قانون کا تعلق ہے یقیناً اسضمن میں وہی ہونا چاہئے جو قانون کا تقاضا ہو اور جو عدالت عظمیٰ کے احکامات ہوں مگر دوسری جانب یہ بھی بہرحال مدنظر رہے کہ قانون کا ایک طریقہ کار اور دائرہ ہوتا ہے جس کی حد تک اہلیت ونااہلی کے معاملے کی تعمیل ہو چکی۔ اب معاملات جس دائرہ کار میں آگئے ہیں وہاں قانون کی عملداری کی بجائے جمہور کا فیصلہ اور جمہورکی مرضی کا دائرہ اختیار ہے جس میں مداخلت نہیں ہو سکتی جہاں اگر بادشاہت کیلئے نااہل بادشاہ گر کا جادو سر چڑھ کر بولے گا تو اسے تسلیم کرنا ہی آئین وقانون کا تقاضا ہوگا۔ سیاسی عناصر کا کمال ہی منفی معاملات کو مثبت کے طور پر پیش کرنا ہوتا ہے۔ اس کمال کا خاص مظاہرہ دکھائی دیتا ہے اور ا س کا مزید مظاہرہ الیکشن کے دوران سامنے آنا فطری امر ہوگا۔ ایسا لگتا ہے کہ معاملات افادہ مختتم کو پہنچ چکے ہیں جہاں کسی بھی جانب سے مزید ایک قدم سے پیمانہ چھلک جائے گا۔ لہٰذا بہتر ہوگا کہ افادہ مختتم سے آگے نہ بڑھا جائے اور تمت بالخیر کے بعد عوام سے رجوع کر کے جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی پر آگے بڑھنے دیا جائے۔

متعلقہ خبریں