مہنگائی کا سر چڑ ھتا جادو

مہنگائی کا سر چڑ ھتا جادو


گرانی کا جادو کب سر چڑھ کر نہیں بولتا، ہر دور حکومت میں عوام کا سب سے بڑا اور مشترکہ مسئلہ اشیائے صرف کی گرانی اور تاجروں کی ناجائز منافع خوری کا رہا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو گزشتہ تین ماہ کے دوران ماہوار پر لگنے کا جو سلسلہ شروع ہو چکا ہے اس سے مہنگائی کی رفتار میں تیزی آگئی ہے اور تاجروں کو بھی ایک بہانہ ہاتھ آگیا ہے ۔ضروری اشیاء کی گرانی میں مسلسل اضافے نے بتدریج اتنی سنگین شکل اختیار کرلی کہ حکومت کی حیثیت ایک بے بس تماشائی کی بن کر رہ گئی ہے۔ یہ درست ہے کہ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لئے اب تک جو اقدامات کئے ہیں ان کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل سکا پھر بھی اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ گرانی کا مسئلہ لا ینحل ہوگیا ہے۔ صحیح منصوبہ بندی اور ثابت قدمی سے کام لیا جائے تو عوام کو اس انتہائی پریشان کن مسئلہ سے بتدریج نجات بھی دلائی جاسکتی ہے اس سلسلے میں حکومت کا لائحہ عمل دو پہلوئوں پر مشتمل ہونا چاہئے۔ سب سے پہلے تو ایسے انتظامی اور اقتصادی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے کہ قیمتوں میں مزید اضافہ رک جائے۔ اگر حکومت ضروریات زندگی کے نرخوں کو ''منجمد'' کرنے میں کامیاب ہو جائے تو یہ بھی کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہوگا لیکن اس کے لئے حکومت اور سرکاری عملے کو غیر معمولی مستعدی اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد قیمتوں کو معقول حد تک کم کرکے انہیں مستحکم رکھنے کا مرحلہ شروع ہوگا۔اس وقت عوام کو سب سے زیادہ پریشانی اشیائے خوردنی کی گرانی کی وجہ سے اٹھانا پڑ رہی ہے۔ موثر انتظامی اقدامات کئے جائیں تو ان اشیاء کے نرخوں میں تخفیف ناممکن نہیں ہے۔ لیکن ہمیشہ کوئی ایسا رخنہ ڈال دیا جاتا ہے کہ تمام تر مساعی کے باوجود حکومت عوام کو مصارف زندگی کے روز افزوں بوجھ سے نجات دلانے میں ناکام رہتی ہے۔ تاجروں کو بار بار خبردار کیا جا چکا ہے کہ وہ منافع خوری' ذخیرہ اندوزی اور چور بازاری سے گریز کریں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپیل ' تلقین اور تنبیہہ کی زبان سمجھنے کیلئے تیارہی نہیں۔ پھر سوال یہ ہے کہ حکومت ان سے کب تک اسی زبان میں بات کرتی رہے گی اور وہ قوانین کب حرکت میں آئیں گے جو گرانی اور منافع خوری کو ختم کرنے کیلئے وقتاً فوقتاً نافذ کئے جاتے رہے ہیں۔ اس کیساتھ ہی حکومت کو ایک جامع منصوبے پر عمل کرنا ہوگا جس کے بغیر گرانی کے مسئلہ کا کوئی پائیدار حل نا ممکن ہے۔

اداریہ