''کتاب مزید'' کا ایک ورق؟

''کتاب مزید'' کا ایک ورق؟

حکومت نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے پاکستان کا نام گر ے لسٹ میں شامل ہونے کے بعد جماعت الدعوة اور اس کی ذیلی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے اثاثے منجمد کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔ ان اقدامات میں دونوں تنظیموں کی ایک سو ستر جائیدادیں سرکاری تحویل میں لینا شامل ہے۔ جن میں سکول ومدارس اور ایمبولینسز بھی شامل ہیں۔ تنظیم کی چالیس ویب سائٹس بھی بند کر دی گئی ہیں جبکہ ستر افراد کیخلاف مقدمات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ جماعت الدعوة نے الزام عائد کیا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت بھارت اور امریکہ کی خوشنودی کیلئے ان کیخلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ جماعت الدعوة کا شمار اُن تنظیموں میں ہوتا ہے جنہیں اقوام متحدہ کی طرف سے دہشتگرد قرار دیا جا چکا ہے۔ اقوام متحدہ کس دباؤ میں اور کن مصلحتوں کے تحت گزشتہ دو ڈھائی عشرے میں فیصلے کرتی رہی ہے، ایک زمانہ اس حقیقت سے واقف اور آشنا ہے۔ بہرطور دنیا میں اس وقت بھی جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول رائج ہے۔ لاٹھی والوں کا مفاد اس میں ہے کہ اس وقت جنوبی ایشیا میں بھارت مضبوط اور طاقتور ہو اور خطے میں کوئی بھی اس کی بالادستی کو چیلنج کرنے والا نہ ہو۔ اگر خطے کا کوئی ملک بھارت کے قدکے اونچا ہونے میں رکاوٹ ہے تو اس کی قطع وبرید کچھ اس انداز سے کی جائے کہ بھارت ایک مینارکی صورت میں نمایاں اور ممتاز دکھائی دے۔ لاٹھی والوں کی سوچ کے آگے اقوام متحدہ سمیت مغربی دنیا میں قائم تمام فورمز اپنے انصاف کے خوشنما اور دلربا اصولوں کیساتھ ہیچ ہیں۔ اس منظر میں جماعت الدعوة ایک بہانہ ہے۔ مطالبات اور خواہشات کی ایک پرت ہے۔ انگریزی اصطلاح ''ڈومور'' جس کا عربی میں ترجمہ ''ہل من مزید'' بنتا ہے کی ضخیم کتاب کا ایک صفحہ ہے۔ اس ''کتاب مزید'' کے اگلے صفحات ایسے درجنوں مطالبات اور خواہشات سے بھرے پڑے ہیں جن میں بھارت کے کولڈ سٹارٹ آپریشن کو ناکام بنانے کی غرض سے تیار کئے گئے چھوٹے سٹریٹجک ایٹمی ہتھیار نصر میزائل اور پھر باقی ایٹمی اثاثے بھی شامل ہیں۔ ڈومور کی اس کتاب مزید میں آگے پاکستان کی جغرافیائی وحدت اور فوج کی تعداد اور جانے کیا کیا خواہشات درج ہیں۔ خطے میں اپنی گریٹ گیم کی نئی سکیم کیلئے وہ ایک نیا پاکستان چاہتے ہیں جو حکومت ان مطالبات کو ماننے پر مجبور ہے اسی کے وزیر داخلہ احسن اقبال کا یہ چونکا دینے والا بیان بھی اثاثے منجمد کرنے کی خبروں کیساتھ اخبارات کی زینت بھی بنا۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ امریکہ دباؤ بڑھا کر افغانستان میں اپنے ایجنڈے کی تکمیل چاہتا ہے، امریکہ چاہتا ہے کہ وہ لسٹ دیتا رہے اور ہم اس پر عمل کرتے رہیں۔ احسن اقبال کے اس بیان میں سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کی روح بولتی محسوس ہوتی ہے۔ چوہدری نثار علی خان جب اس طرح کے بیانات دیتے تھے تو سمجھا یہی جاتا تھا کہ وہ حکومت سے الگ لائن لینے کیلئے یا منفرد نظر آنے کے شوق میں یہ موقف اپنا رہے ہیں۔ اب احسن اقبال بھی وہی بات کر رہے ہیں جو چوہدری نثار علی خان کیا کرتے تھے۔ گویا کہ پاکستان کے وزرائے داخلہ کو جب داخلی سلامتی سے متعلق معاملات کو گہرائی سے جاننے اور جانچنے کا موقع ملتا ہے تو پھر رحمان ملک، چوہدری نثار اور احسن اقبال کے بیانات کی سرخی میں صرف نام کا فرق رہتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے دور میں جب حکومت اور میڈیا دہشتگردی کیخلاف طالبان طالبان کا منترا پڑھتی تھی تو رحمان ملک اشارتاً ہی سہی مگر تیسرے ہاتھ کا ذکر کرتے رہتے تھے۔ اس دوران امریکہ کی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز کا ایک بیان بھی دلچسپ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انتہا پسند تنظیموں کیخلاف پاکستان سے شراکت داری چاہتے ہیں۔ پاکستان افغان استحکام کیلئے اہم ہے اس سے تعلقات ختم نہیں کر رہے۔ انتہا پسند تنظیموں کیخلاف پاکستان سے شراکت داری میں امریکہ تنہا نہیں بلکہ امریکہ کا ایک اور بلکہ اصل شراکت دار بھی خطے میں موجود ہے اور وہ بھارت ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان انتہا پسند تنظیموں کیخلاف شراکت داری کی بیل منڈھے چڑھنا قطعی ناممکن نہیں۔ القاعدہ اور اس سے وابستہ کئی تنظیموں کیخلاف یہ شراکت داری برسوں کامیابی سے چلتی رہی ہے مگر یہاں پاکستان کے شراکت دار امریکہ کا ایک شراکت دار بھی چھری چاقو تیز کر رہا ہے اور سرجیکل سٹرائیکس کے نام پر ایسی کارروائیاں چاہتا ہے کہ جن پر پاکستان جوابی حملے کی صورت میں کارروائی اور نہ لفظی ردعمل ظاہر کرے۔ امریکہ کے ابتدائی ڈرون حملوں کی طرح پاکستان اس پر خاموشی نیم رضا مندی والا رویہ اپنائے رکھے۔ ایلس ویلز کا یہ کہنا کہ پاکستان افغان استحکام کیلئے اہم ہے احسن اقبال کی اس بات کو تقویت فراہم کرتا ہے کہ امریکہ دباؤ بڑھا کر افغانستان میں اپنے ایجنڈے کی تکمیل چاہتا ہے گویا کہ جنوبی ایشیاء میں امریکہ کے ایجنڈے میں پاکستان کی قطعی اہمیت نہیں، اگر ہے بھی تو صرف اتنی کہ اس کے ایٹمی اور روایتی ہتھیاروں یا کسی دفاعی سٹریٹجی سے بھارت کو کوئی گزند نہ پہنچنے پائے۔ جنوبی ایشیاء میں امریکہ کا وہی ایجنڈا ہے جو بھارت اپنائے ہوئے ہے۔ جماعت الدعوة کیخلاف اقدامات کسی دباؤ میں ہو رہے ہیں یا حکومت کے پاس اس تنظیم کیخلاف کوئی ٹھوس ثبوت ہے؟ قطع نظر اس بات کے ملکی مفاد اور ملکی قانون کو ہر صورت میں مقدم اور پیش نظر رکھنا ہوگا۔ ہمیں ذہنی اور عملی طور پر اس بات کیلئے تیار رہنا ہوگا کہ یہ صفحہ پوری طرح اُلٹ گیا تو اگلا صفحہ نئے مطالبات سے عبارت ہوگا۔مطالبات سے بھر پور اس''کتاب مزید'' کے بہت سے اوراق ابھی باقی ہیں کیونکہ اس کتاب کے مصنف کا مقصد کچھ اور ہے وہ ہر بار ایک نئے ورق کا اضافہ کردیتاہے جس سے ہمارا امتحان مقصود ہوتا ہے ۔ ہمیں تدبر اور بصیرت سے اس ان مطالبات کے سامنے اب رکاوٹ کھڑی کرنی ہوگی ورنہ ان کی خواہشات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ کبھی رکے گا نہیں۔

اداریہ