Daily Mashriq


اسلحہ کنٹرول کرنے کی نرالی تجویز

اسلحہ کنٹرول کرنے کی نرالی تجویز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسلحے کے استعمال کو کنٹرول کرنے کے لیے سکول کے اساتذہ کو اسلحہ فراہم کرنے کی تجویز کی منطق سمجھ سے باہر ہے۔اسلحے کے کنٹرول کو موثر بنانے کے لیے اسلحے کی مزید فراہمی اسلحے کی خرید وفروخت میں اضافہ کرنے والی بات ہے ۔جس سے بے شک اسلحہ بنانے والی صنعت کو فائدہ ہو گا۔لیکن اُستاد کے ایک ہاتھ میں کتاب اور دوسرے میں اسلحہ دینا نہایت مضحکہ خیزبات ہے کہ اُستاد کلاس روم میں سبق پڑھائے گا۔لیکن جونہی خطرہ محسوس کرے گا یا سکول پر باہر سے حملہ ہوگا تو وہ بندوق اُٹھا کر مقابلہ کرے گا۔ایک ترقی یافتہ ملک میں اس قسم کی تجویز اُس کے اکابرین کے ذہن کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ قوم کو مسلح کریںاور اسلحے کی فراوانی اور استعمال میں اضافہ کریں۔درسگاہوں میں کتاب کی بجائے اسلحہ لانا ایک عجیب سوچ ہے جس کا مقصد تعلیمی اداروں میں اسلحے کا استعمال عام کرنا ہے۔جو کسی صورت میں جدید علمی تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔درسگاہ ہمیشہ سے امن کا گہوارہ رہا ہے۔امن سکھاتا ہے۔ امن کی بات کرتا ہے۔طالب علموں کے ذہنوں میں جب زمانہ طالب علمی سے اسلحے کا تصوربیٹھ جاتا ہے۔اسلحے کو استعمال کرنے پر پابندی بھی نہیں ہوتی ۔اسلحے کی نمائش کی جاتی ہے۔اسلحے کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔اسلحے کی ساخت اورقسموں میں اضافہ ہوتا ہے تو یقینا اسلحے کے استعمال میں اضافہ ہوگا۔جو کسی بھی ملک میں امن کے لیے خطرہ کا باعث ثابت ہو سکتا ہے۔امریکہ میں اسلحے پر پابندی اور جلسے جلو سوں کا آغاز اُس وقت شروع ہوا۔ جب پارک لینڈ فلوریڈا (امریکہ) میں ایک سابق طالب علم نے سکول میں گھس کر نہتے طلباء اور طالبات پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی ۔جس سے کئی طلباء اور طالبات زخمی اور کئی ہلاک ہوئے۔سات منٹ کے دوران 17طلباء و طالبات کو قتل کردیا گیا ۔اس ہولناک خونی ڈرامے کا طلباء و طالبات اور اُن کے والدین اور عزیزوں پر گہرا اثر ہوا۔جنہوں نے حکومت کی اسلحے کے استعمال کی پالیسی کے خلاف آواز بلند کرنا شروع کی۔کیونکہ سکولوں میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔بلکہ 2012 ء میں بھی ایک سکول میں اس قسم کے واقعہ میں 26طلباء و طالبات قتل کئے گئے تھے۔ایک سروے کے مطابق امریکہ میں 100افراد میں 90فراد اسلحہ رکھتے ہیں۔2016 ء کے ایک سروے کے مطابق امریکہ میں اسلحہ کی تعداد26کروڑ50لاکھ ہے۔جبکہ امریکہ میں نوجوانوں کی تعداد 24کروڑ20سے زیادہ ہے۔دُنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ امریکی عوام کے پاس ہے۔ یمن میں 100افراد میں سے 60لوگوں کے پاس اسلحہ ہوتا ہے۔سوئٹزر لینڈ اور فن لینڈ میں 100میں سے پچاس افراد کے پاس اسلحہ ہوتا ہے۔قبرص میں 100میں سے چالیس افراد اور سعودی عرب میں 100 میںسے 39 ، عراق میں 100میں سے 36 ، کینیڈامیں 30 ، اور آسٹریا میں 30افراد کے ہاتھوں میں اسلحہ پایا جاتا ہے۔جبکہ پاکستان میں پرائیویٹ آرمز کی تعداد 100افراد میں سے 11.62ہے۔ 2012ء میں ایک سروے کے مطابق پاکستان میں کل سویلین افراد کے پاس گنز کی تعداد ایک کروڑ اسی لاکھبتائی جاتی ہے۔دُنیا کے کل 178ممالک میں پاکستان پرائیویٹ گنز کے لحاظ سے61 ویںنمبر پر ہے۔ پاکستان میں قبائلی علاقے میں اسلحہ کافی تعداد میں پایا جاتا ہے۔امریکہ کی طرح پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آج تک اسلحے کے لائسنس کا رواج یا قانون نہیں ہے۔ حالانکہ اس جدیددور میں اسلحے کی تعداد ،اندراج اور لائسنس ہونا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔امریکہ میں اسلحہ سازی بہت منافع بخش کاروبار ہے اور اس کاروبار سے وابستہ افراد کی ایک مضبوط ایسوسی ایشن ہے ۔جو نیشنل رائفل ایسوسی ایشن کے نام سے منسوب ہے ۔صرف لابنگ پر ہر سال تقریباً 2.5سے لیکر 3بلین ڈالر خرچ کرتے ہیں اور رائفل کی خرید وفروخت یا پابندی لگانے کی پالیسی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔امریکہ میں عوامی رائے رائفلز پر پابندی کے بارے میں منقسم ہے۔ 46فیصد عوام موجودہ گن پالیسی سے مطمئن نہیں ہیں۔جو اسلحے پر کنٹرول کے بارے میں بات کرتے ہیں۔جبکہ 39فیصد امریکی عوام موجودہ گن پالیسی سے مطمئن ہیں۔پچھلے کئی سالوں سے گن پالیسی کے بارے میں غیر مطمئن افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔امریکہ میں پے درپے شوٹنگ کے واقعات نے عوام کی رائے میں تبدیلی پیدا کی ہے۔کسی بھی معاشرے میں کثیر تعداد میںاسلحہ کی موجودگی امن کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔گنز کی بجائے کتاب کو اپنا کر معاشرے میں امن وآشتی کا پیغام دیا جاسکتا ہے۔اسلحہ کبھی بھی امن لانے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔بندوق کے ساتھ محبت نے ہمیشہ نقصان دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان میں لائسنس یافتہ اسلحے کے علاوہ بغیر لائسنس کے ہتھیاروں کی بہتا ت ہے۔لیکن حکومت کی طرف سے رائفلز یا گنز کی حوصلہ افزائی نہیں کی جارہی ہے۔جبکہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ اسلحے کی وجہ سے پیدا شدہ خطرات کو کم کرنے کے لیے سکول کے اساتذہ کو اسلحے سے لیس کرنا چاہتے ہیں۔جو کسی طرح بھی ایک دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہے۔بلکہ اسلحے کی وجہ سے پیدا شدہ خطرات کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔یہ رویہ جارحانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اندرونی اور بیرونی طور پر خانہ جنگی کے بادل منڈ لانے کی پالیسی کو ہر گز دانشمندانہ اور انسانیت کی بھلائی کے لیے موزوں نہیں کہا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں