پاکستان کی تبدیل ہوتی خارجہ پالیسی

پاکستان کی تبدیل ہوتی خارجہ پالیسی

جمہوری ممالک کی خارجہ پالیسی عوام کے اُمنگوں کے مطابق پارلیمنٹ کے ذریعے ملکی مفادات کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی ہے۔ پاکستان قائم ہوا تو بابائے قوم نے خارجہ پالیسی کے جو خدوخال مختلف مواقع پر بیان کئے اس کا لب لباب یہ تھا کہ پاکستان ایک مسلمان ملک کی حیثیت سے مسلمان ممالک کیساتھ اسلامی اخوت کی بنیاد پر تعلقات استوار رکھے گا اور دنیا کے دیگر ممالک کیساتھ بھی انسانی برادری اور حق' جائز اور صحیح امور میں ہر ملک کی حمایت اور باہمی تعاون کو پیش نظر رکھے گا لیکن پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ بابائے قوم اور لیاقت علی خان کو اپنی طے شدہ خارجہ پالیسی پر عمل کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ہماری خارجہ پالیسی کے حوالے سے آج بھی یہ بحث چلتی رہتی ہے کہ لیاقت علی خان کو روس کے بجائے امریکہ کا دورہ نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اس حوالے سے سازشی تھیوری کا ذکر بھی آتا ہے کہ روس نے نواب صاحب کو روس کا دورہ کرنے کی دعوت پہلے دی تھی اور آپ کا ارادہ تھا کہ علاقائی سپرپاور کا دورہ پہلے کیا جائے لیکن وہ دعوت نامہ اسٹیبلشمنٹ میں موجود امریکہ کے بعض ''وفاداروں'' نے چھپا کر امریکہ کا دعوت نامہ آشکارہ کر دیا لیکن یہ سب باتیں ہی ہیں۔ اصل معاملہ یہ تھا کہ بھارت نے پاکستان کے اثاثے اور اسلحہ روک کر ابتداء ہی سے دیگر گمبھیر مسائل کی موجودگی میں مفلوج کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور نہرو طبعاً کمیونزم، سوشلزم کی طرف مائل تھا لہٰذا روس کے زیادہ قریب تھا۔ دوسری بات یہ تھی روس کے زیر نگین مشرقی بلاک پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے صدمات کے سبب خود بھوک وافلاس کا شکار تھا۔ ایسے میں اگر پاکستان مغربی بلاک کے بجائے مشرقی بلاک میں چلا جاتا تو 1958ء سے 1968ء تک کے عشرے میں جو ترقی ہوئی وہ نہ ہوتی جس کے سبب پاکستان کو استحکام ملا اور بھارتی نیتاؤں کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی کہ پاکستان کا قیام تو بس چند دنوں کی بات ہے لیکن شکر ہے کہ پاکستان آج ایک مضبوط ومستحکم ایٹمی طاقت ہے۔ البتہ امریکی یا مغربی کیمپ میں جاکر ہمارے ساتھ بڑا ہاتھ ہوا۔ یہ بات بھی سب کو معلوم ہے کہ امریکہ نے ہمیں بری طرح استعمال کیا۔ اب جبکہ خطے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں اور امریکہ کھل کر پاکستان کے مفادات اور عزت سادات کیخلاف بھارت اور اسرائیل کے ہاتھوں یرغمال بن چکاہے' پاکستان مجبور ہو کر اپنی خارجہ پالیسی کے اصول وخطوط نئے سرے سے نئے انداز میں وضع کرنے پر تیار ہو چکا ہے۔ چین کو اب پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کونے کے پتھر کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے اور روس کیساتھ بہت تیزی کیساتھ دفاعی' تجارتی اور سٹریٹجک تعلقات پروان چڑھ رہے ہیں۔ نئے بلاک وجود میں آچکے ہیں۔ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کی ضرورت بن چکے ہیں۔ اگرچہ سعودی عرب کی نئی قیادت محمد بن سلمان کی صورت میں امریکہ کے اتنے قریب جا چکی ہے کہ پاکستان کیلئے اس کا ساتھ دینا بعض حالات میں بہت مشکل ہو جاتا ہے۔اسی طرح علاقائی ممالک میں ایران کیساتھ بھی پاکستان کے تعلقات پیچیدگیوں کے شکار ہیں۔ ایران کی مذہبی قیادت بہت جلدباز اور جذباتی ہے۔ پاکستان کی مجبوریوں کو نظرانداز کرتے ہوئے بہت جلد ردعمل کا اظہار کرتی ہے اور وہ بھارت کے قربت کی شکل میں کرتی ہے جو یقیناً پاکستان کو چڑانے کی کوشش ہوتی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کیساتھ تعلقات کے ردعمل میں ایران کے بھارت کیساتھ گہرے تعلقات کی استواری پاکستان کیلئے یقیناً تشویش کی بات ہوتی ہے اور خاص کر آج کے حالات وواقعات کی روشنی میں کہ کلبھوشن یادیو کی موجودگی اور پاکستان آمد چاہ بہار سے ہوئی تھی اور آج چاہ بہار بھارت کے پاس ہے۔ چین کے علاوہ روس پر خاص توجہ دینا ہوگی اور دونوں ملک ماضی کی تلخیوں اور یادوں کو بھلا کر اور پاکستان اور ترکی کیساتھ ملکر افغانستان کا مسئلہ حل کرنے میں کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ امریکہ یہاں سے رخصت ہو اور بھارت پاکستان کیخلاف گھناؤنا کردار ادا کرنے کے قابل نہ رہے۔ افغانستان کو بھی اب ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور پاکستان کو بھارت کی عینک سے نہیں ''پشتون'' مفادات کی نظر سے دیکھنا چاہئے۔ طالبان ایک کھلی حقیقت ہے لہٰذا طالبان کو تسلیم کرکے چین وسوویت یونین کے ذریعے مذاکرات پر آمادہ کرکے امریکہ بہادر اور مغرب کی نیٹو افواج کو جن کی سانس پھول چکی ہے اپنے ملکوں واپس جاکر آرام وعیش کی زندگی کے مواقع حاصل کرنے چاہئے اور اس خطے کے عوام کو گزشتہ چار عشروں کے المناک ودردناک حالات سے نکلنے اور نئی نسلوں کو بھی ڈھنگ کی زندگی گزارنے کے مواقع دینا چاہئے، یہی انسانیت کا تقاضا و مطالبہ ہے۔ شام میں بھی ترکی' سعودی عرب' پاکستان اور روس کو ملکر داعش کیخلاف اور کردوں کیخلاف ایک ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ وہاں کے مظلوم عوام بھی سکھ کا سانس لے سکیں۔ سعودی عرب کو بھی علاقائی طاقتوں کیساتھ ملکر شام وشمن کا مسئلہ حل کرنا ہوگا ورنہ پھر شاید حالات اس کے قابو سے نکل کر کسی اور طرف نکل پڑیں گے۔امت مسلمہ کو بہرحال آپس میں نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی بقاء کیلئے ایک دوسرے کیساتھ تعاون کرنا پڑے گا اور راستہ دینا ہوگا ورنہ ظالم اور مادہ پرست استعمار سب کا کچومر نکالنے میں دیر نہیں لگائے گا۔

اداریہ