Daily Mashriq


لفظ کچھ اور ہی اظہار کئے جاتے ہیں

لفظ کچھ اور ہی اظہار کئے جاتے ہیں

دل چاہتا ہے تو نکل جاتے ہیں اپنی فردوس گم گشتہ کی سیر کو، وہ گلیاں اور بازار جن کے درودیوار ساتھی تھے ہمارے بچپن کے

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

قصہ گوئی یا قصہ خوانی کی صدیوں پرانی روایت کو صرف پشاور کا قصہ خوانی بازار ہی نہیں نبھا رہا، یہاں کی ہر روایتی گلی اپنے بچھڑنے والے کو داستان پارینہ سناتی نظر آتی ہے، جیسے کوئی تلاش میں ہو اپنی شان رفتہ کی، جھک جھک کر ڈھونڈ رہی ہو عہد پیری میں اپنی کھوئی ہوئی جوانی۔ میں ایک بار پھر گھنٹہ گھر پشاور پہنچا۔ یوں لگا جیسے وہ بھگت رہا ہو جرم ضعیفی کی سزا، وقت کے ہاتھوں نڈھال، مردہ بدست زندہ کھڑا تھا بے چارا، اور مرہم پٹی کر رہے تھے اس کے چارہ گر۔ ایک سو اٹھارواں سال ہونے کو آیا۔ 1900ء میں ایستادہ کیا گیا تھا اسے پشاور کے بازار کلاں میں تحصیل گور گٹھری سے 450میٹر کی دوری پر، تب اس کا قد بہت سی عمارتوں سے اونچا تھا، 85فٹ کی اونچائی تھی اس کلاک ٹاور کی، دور دور سے نظر آتا تھا اور چونکہ اس کے گرد ونواح میں پلازوں کا جنگل آباد نہیں ہوا تھا اسلئے اس کے گھنٹوں کی آواز دور دور تک سنائی دیتی تھی۔ ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی کی خوشی میں اہالیان پشاور کو تحفے میں ملا تھا یہ گھنٹہ گھر، پشاوری اسے ''بالو دا گھڑیال'' کہتے تھے۔ اس لئے کہ ان دنوں 'بالو' کی اینٹوں سے تعمیر ہونے والا یہ پہلا مینارہ تھا، اس سے پہلے یہاں کی تعمیرات میں وزیری اینٹوں کا استعمال ہوتا تھا، پشاور میں ساڑھے چار انچ چوڑی اور 9انچ لمبی 'بالو' کی اینٹوں سے تعمیر کی جانے والی عمارتوں کا رواج انگریزی دور اقتدار میں شروع ہوا، گمان ہے کہ بالو کی اینٹوں کا بھٹہ 'بالو' نامی گاؤں میں تھا جس کی مناسبت سے گھنٹہ گھر پشاور کو ''بالو دا گھڑیال'' کہا جانے لگا۔ گھنٹہ گھر پشاور کی مینارنما عمارت کی اوپری منزل میں چہار سو گھڑیوں کے ایک سو اٹھارہ برس پرانے ڈائل نصب ہیں جن کی سوئیاں اس کے اندر نصب، لیوروں، گراریوں اور مشینری کے دیگر پرزوں کی مدد سے ڈائل پر گھومتی تھیں اور ہر گھنٹہ بعد اس کی انتہائی اوپری منزل پر نصب دھات کے بنے بہت بڑے کٹورے پر ہتھوڑا سا برسا کر اہا لیان شہر کو وقت کے گزرنے کا احساس دلاتی رہتی تھیں۔ زبانیں گنگ ہوگئیں شہریوں کی اور کان پک گئے ان انٹیک گھڑیوں کے خراب ہونے کی شکایتیں سننے والے ارباب اختیار کی۔ کوشش کی گئی مگر اس کا کوئی مستقل حل نہ نکل سکا، گھنٹہ گھر کی گھڑیاں عارضی طور پر ٹھیک ہوتیں اور کچھ مدت بعد اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں

کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

کے مصداق یہ بیماری دل لاعلاج ثابت ہو تی رہتی۔ راقم السطور جب بلدیہ پشاور کا ملازم تھا تو مختصر عرصہ کیلئے اسے گھنٹہ گھر پشاور کا برائے نام سا انچارج بنایا گیا جبکہ اس کی تزئین وآرائش کی ذمہ داری اس وقت کے نائب ناظم عبدالواحد قادری کو سونپ دی گئی۔ ان دنوں ہمیں متعدد بار گھنٹہ گھر کے اندر جانے کا موقع ملا۔جب ہم نے گھنٹہ گھر پشاور کے پنڈولم یا لٹکن کیساتھ بالو کی اینٹیں بطور وزن بندھی دیکھیں تو ہمیں بلدیہ پشاور کی بے سر وسامانی پر کف افسوس ملنا پڑا اور ہم چابی بھرنے والے دکاندار کی عقل رسا کی داد دئیے بنا نہ رہ سکے۔ بلدیہ پشاور والوں نے گھنٹہ گھر پشاور کی تصویر کا مونوگرام اپنی ہر فائل، لیٹر پیڈ اور دیگر اہم کاغذات پر پرنٹ کروایا ہوا تھا کہ شہر کے وسط میں ایستادہ یہ تاریخی گھنٹہ گھر ان کیلئے طرہ امتیاز سے کم حیثیت نہیں رکھتا۔ گھنٹہ گھر پشاور کے پہلو میں قبضہ مافیا نے ملی بھگت سے ناجائز تجاوزات قائم کر رکھی تھیں لیکن کل کی نسبت آج کی صورت دگرگوں ہے۔ آثار قدیمہ والوں نے گھنٹہ گھر پشاور سے تحصیل گور گٹھری تک کے450 میٹر کے راستے کو قومی ورثہ قرار دیتے ہوئے اس کی شان رفتہ کو بحال کرنا شروع کر دیا ہے۔ تب سے اب تک یہاں سے گزرنا محال ہے، پھر بھی ہم ایک نظر گھنٹہ گھر پشاور کو دیکھنے کے بعد آثار قدیمہ والوں کی کھودی ہوئی خندقین، کھائیاں، کیچڑ اور رکاوٹیں عبور کرتے تحصیل گورگٹھری کی جانب بڑھنے لگے۔ ابھی ہم محلہ باقرشاہ کے قریب پہنچے تھے کہ ہمیں سڑک کے بیچوں بیچ جلتے ٹائروں کے شعلے اور فضا میں بلند ہوتا دھواں نظر آیا۔

ہماراتجسس بڑھا، آگے بڑھے اور ہم نے دیکھا بازار کلاں کی تاجر برادری کے سرکردہ لوگ ٹائر جلا کر اپنا احتجاج ریکارڈکروا رہے تھے۔ کوئی دھواں دھار تقریر نہیں ہو رہی تھی، کوئی دھمکی آمیز بیان نہیں داغا جا رہا تھا، بس ایک دوسرے سے مذاق کر رہے تھے، ایک دوسرے پر آوازے کس رہے تھے، احتجاج کرنے والے زندہ دلان بازار کلاں ''اوئے تو کود جا اس آگ میں، یوں رنگ لائے گا ہمارا یہ احتجاج'' احتجاج ریکارڈ کرانے والوں میں سے ایک بولا جس کے جواب میں دوسرے نے نہلے پہ دہلا مارنے کے انداز میں جملہ کسا اور پھر سب لوگ بلک بلک کر قہقہہ باریاں کرنے لگے۔ 31 دسمبر 2017 تک مکمل ہونا تھا بازار کلاں کو پشاور کے ثقافتی ورثہ کے شایان شان بنانے کا یہ منصوبہ، لیکن آج 27فروری 2018 تک مکمل نہ ہوسکا، بھلا کتنا صبر کرتے، وہ احتجاج بھی یوں کر رہے تھے، جیسے کہہ رہے ہوں

دل پہ کچھ اور گزرتی ہے مگر کیا کیجئے

لفظ کچھ اور ہی اظہار کئے جاتے ہیں

متعلقہ خبریں