Daily Mashriq


برادران سیاست کسی کے دوست نہیں

برادران سیاست کسی کے دوست نہیں

سینیٹ الیکشن کیلئے جہاں سٹیج تیار، وہیں جوڑ توڑ کی سیاست کی خبریں بھی آتی رہیں۔ یہ کالم اگرچہ ایک روز پہلے لکھا جا رہا ہے اور اس کالم کے چھپنے تک سینیٹ کے انتخابات تکمیل پذیر ہو چکے ہوں گے، نتائج بھی سامنے آچکے ہوں گے۔ اچھی بات یہ تھی کہ ایم کیو ایم کے دونوں دھڑوں میں اُمیدواروں کے ناموں پر اتفاق رائے بھی ہوگیا تھا۔ تاہم پارٹی کا رابطہ کمیٹی کے کیلئے متفقہ کنویئیر کا مسئلہ سینیٹ انتخابات کے بعد ہی طے ہونے کے امکانات ہیں، دم تحریر خیبر پختونخوا میں اگرچہ عمران خان نے آکر صورتحال کو سنبھالنے اور تحریک انصاف کے اُمیدواروں کی کامیابی کیلئے حتی الامکان کوششیں کیں تاہم جماعت اسلامی نے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ مولانا سمیع الحق کی حمایت سے انکار کر دیا تھا اور اس کی وجہ بہت ہی واضح ہے کہ مولانا سمیع الحق نے ایم ایم اے میں شمولیت سے گریز کرتے ہوئے تحریک کی صوبائی حکومت سے اپنے مدرسے کیلئے کروڑوں روپے کے فنڈز کے حصول کو کامیابی سے ہمکنار کیا، جس پر پورے ملک میں لے دے ہو رہی ہے جبکہ اے این پی کے ایک اہم رہنماء زاہد خان نے بڑا اہم سوال اُٹھایا ہے کہ صرف ایک ہی مدرسے کو کروڑوں روپے کی امداد پر حیرت کا اظہار یوں کیا جا سکتا ہے کہ کیا دوسرا کوئی مدرسہ ایسا نہیں جسے ایک روپیہ کی امداد کے قابل بھی نہیں سمجھا گیا۔ دوسری جانب عدالتی احکامات کی وجہ اور اس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کے نتیجے میں ملک کی سب سے بڑی اور وفاق میں حکمران جماعت لیگ (ن) کو سینیٹ کے انتخابات سے باہر کئے جانے کے بعد اس کے اُمیدواروں سے ان کی ''شناخت'' اور انتخابی نشان ''شیر'' چھن جانے کی وجہ سے آزاد حیثیت سے میدان میں ہیں، جو سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق لیگ (ن) کو سینیٹ میں اکثریت کے حصول سے روکنے کی کوشش ہے، کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ لیگ (ن) کے آزاد اُمید وار انتخابات میں کامیابی کے بعد دوبارہ لیگ (ن) ہی میں شمولیت اختیار کر لیں اور جس طرح آج جب یہ کالم تحریرکیا جا رہا ہے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں سینیٹ انتخابات کیلئے انتخابی لائحہ عمل پر غور کے ہنگام بعض اراکین نے اس بات کا انکشاف کیا کہ انہیں ''نامعلوم'' نمبروں سے فون کالز موصول ہوتی ہیں، جس پر اجلاس میں سخت ردعمل کا اظہار بھی کیا گیا، پاکستان کی سیاست اپنے ماضی کے حوالے سے کچھ زیادہ خوشگوار ریکارڈ کی حامل بھی نہیں ہے اور ''آزاد'' اُمیدواروں کا رخ ''سیاسی آندھی طوفان'' کا رخ دیکھ کر بدل بھی سکتا ہے اور ''آزاد'' اُمیدواروں کا رخ ''سیاسی آزاد امیداروں کو انتخابی معرکہ سرکرنے کے بعد بھی ''نامعلوم ٹیلیفون کالز'' آتی رہیں گی تو وہ کب تک اور کس حد تک ان کالز میں ملنے والے پیغامات کے آگے ڈٹ کر کھڑے ہونے میں کامیاب ہو سکیں گے کیونکہ ہماری سیاسی تاریخ وفاداریاں بدلنے والوں کے تذکروں سے بھری ہوئی ہے، خاص طور پر یہ نام ''مسلم لیگ'' تو اتنا استعمال ہوا ہے کہ اگر بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے حقیقی مسلم لیگ کا ان کے رحلت کے بعد جائزہ لیا جائے تو اب تک کم وپیش ایک درجن کے قریب ملتے جلتے ناموں سے اس کا بار بار جنم ہو چکا ہے۔ دوسری جماعتیں بھی اس حوالے سے مبرا نہیں ہیں اور ان میں سے بھی اکثر کا ٹریک ریکارڈ قابل رشک نہیں تاہم اب صورتحال یہ تھی کہ نواز شریف کو نااہل کئے جانے کے بعد وہ جو بعض حلقے اس خوش فہمی میں مبتلا ہوگئے تھے کہ میاں نواز شریف کے منظر سے ہٹ جانے کے بعد مسلم لیگ (ن) ٹکڑوں میں بٹ جائے گی اور وہ کھیل کھیل سکیں گے، ان کی اُمیدیں نااُمیدی میںبدل جانے کے بعد مبینہ طور پر یہ نیا کھیل رچا یا گیا یعنی لیگ (ن) کے سینیٹ اُمیدواروں سے ان کی شناخت چھین کر نیا جال لائے پرانے شکاری کے مصداق سینیٹ میں لیگ (ن) کی ممکنہ اکثریت کے حصول کی راہ کھوٹی کرنے کی نئی ترکیب تلاش کی گئی حالانکہ الیکشن کمیشن کو مسلم لیگ (ن) کو یہ کہہ کر ریلیف دیا جا سکتا تھا کہ وہ نئے صدر کا انتخاب کر کے اس کے دستخطوں سے اُمیدواروں کے فارموں کی تصدیق کے عمل کو مکمل کرلے جبکہ بقول سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد، لیگ (ن) کے اُمیدواروں کو آزاد قرار دے کر الیکشن کمیشن نے رولز سے انحراف کیا ہے، اسلئے اب جبکہ کالم کے چھپنے تک انتخابی نتائج سامنے آچکے ہوں گے یہ دیکھنا پڑے گا کہ وہ جو انتخابی عمل کے دوران دولت کی ریل پیل کے حوالے سے بھی دعوے کئے جاتے رہے ہیں یعنی خود عمران خان نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں بھی آفر کی گئی تو سیاسی جماعتوں کے کتنے اُمیدوار کامیاب ہوئے اور لیگ (ن) کے آزاد اُمیدواروں کے علاوہ حقیقی آزاد اُمیدوار کتنے مبینہ طور پر دولت کے بل پر سینیٹ میں پہنچ گئے ہیں نتائج کچھ بھی ہوں اگر واقعی بعض ''چمک بردار'' انتخابی معرکہ جیتنے میں کامیاب ہوگئے ہیں تو اس پر پوری قوم کو شرم سے پانی پانی ہو جانا چاہئے کیونکہ بہرحال ان لوگوں کو جن ایم پی ایز نے بھی ''چمک سے متاثر ہو کر'' ووٹ تھمائے ہیں، وہ عوام ہی کے ووٹوں سے کامیاب ہوئے تھے، یوں عوام بھی بالواسطہ طور پر اس صورتحال کی ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتے۔

برادران سیاست کسی کے دوست نہیں

یہ بیچ دیں گے تمہیں کوڑیوں کے بھاؤ میں

متعلقہ خبریں