Daily Mashriq

احتساب کے نام پر سول سروس کی بھیانک حالت کردی گئی، وزیراعلیٰ سندھ

احتساب کے نام پر سول سروس کی بھیانک حالت کردی گئی، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ صوبے میں سول سروس میں اصلاحات کے نام پر جو احتساب شروع کیا گیا ہے اس کی وجہ سے اس کی حالت بہت بھیانک ہوگئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی لٹریچر فیسٹیول کے اختتامی تقریب میں شرکت کے دوران کیا۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو ’سندھ کی معیشت‘ کے حوالے سے ایک پینل میں شامل کیا گیا جہاں ان کے علاوہ سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین اور ڈاکٹر شمشاد سے سندھ کی معیشت کے حوالے سے سوالات پوچھے گئے۔

اس دوران وزیرِ اعلیٰ سندھ نے پاکستان کا تاریخی پس منظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی سندھ میں بڑے پیمانے پر ہجرت ہوئی اور اس وقت سندھ کی معیشت مسائل کا شکار ہوئی۔

انہوں نے کہ ان کی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے حکومت میں آنے سے ہی صوبے میں معیشت دوبارہ بہتر ہوئی۔

وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ملک میں لگائے جانے والے مارشل لا کی وجہ سے صوبے میں ترقی کا پہیہ جام ہوتا رہا۔

انہوں نے سابق وزیرِاعظم اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے دور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں پورے پاکستان کی معیشت کی دوبارہ تعمیر ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ میں نوجوانوں کو آگے لانے کے لیے کوٹہ سسٹم متعارف کروایا گیا، جس کے بعد صوبہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہوا، تاہم اس کے بعد پھر ایک اور مارشل لا لگا جس کی وجہ سے ملکی ترقی رک گئی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ بڑی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ملک میں جمہوریت آئی اور 1990 کی دہائی میں کس طرح جمہوریت کا پہیہ چلا یہ سب جانتے ہیں، اور اس کے بعد جنرل (ر) پرویز مشرف کا مارشل لا آیا جس میں معیشت بری طرح متاثر ہوئی تاہم اب ایک مرتبہ پھر ملک میں جمہوریت موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوری حکومتیں افغان جنگ اور آمریت کے دوران پیدا کردہ مسائل ہی ٹھیک کرتی رہی ہے۔

کراچی سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہرقائد کی معیشت، سماجی زندگی اور تعلیم سب امن و امان کی خراب صورتحال کے نذر ہوگیا تھا، تاہم ٹارگیٹڈ سیکیورٹی کا آپریشن کے ذریعے اس شہر کا امن بحال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس شہر کی تعمیر و ترقی کے لیے کھربوں روپے لگائے گئے، جس کے بعد یہ شہر اب ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ صرف سندھ کے پاس ہی ملک کے توانائی بحران کا حل ہے، کیونکہ صوبے میں موجود کوئلے کے ذخائر، ونڈ اور سولر انرجی کوریڈور کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کول مائننگ کا کام بہتر انداز میں تیزی سے جاری ہے جبکہ سندھ حکومت جون میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے قابل ہوجائے گی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے صوبے میں تعلیم، ذراعت اور صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

تقریب کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ صوبے میں سول سروس میں اصلاحات کے نام پر جو احتساب شروع کیا گیا ہے اس کی وجہ سے اس کی حالت بہت بھیانک ہوگئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سول سروس میں کوئی بھی افسر فیصلے لینے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ ایک ایک ریٹائرڈ افسر کا بھی اتنا میڈیا ٹرائل کیا جارہا ہے کہ اس کا اب مذاق اڑنے لگا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمیں افسران کو نہ صرف حفاظت بلکہ ان کی ہمت افزائی اور کام کرنے کے لیے انہیں اچھے ماحول میں مواقع فراہم کرنے ہوں گے، بصورتِ دیگر ہماری بیوروکریسی بُری طرح متاثر ہوگی۔

بھارتی جارحیت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ قومی، صوبائی اور دیگر اسمبلیوں نے بھی اس حوالے سے قرار دادیں پاس کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے اندرونی خلفشار اور اپنے ذاتی مفاد کی خاطر خطے کے امن کو متاثر کرنا چاہتا ہے اور جنگی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہماری مسلح افواج نے بھارت کو اس کی جارحیت کا بھرپور جواب دے دیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی جانب سے مسلسل امن کی بات بھی کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری پوری قوم اور سیاسی جماعتیں اس معاملے پر متحد ہیں اور ایک پیچ پر ہیں جبکہ بھارت میں ایسا نہیں ہے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت کا مؤقف تھا کہ ہمیں او آئی سی کا پلیٹ فارم خالی نہیں چھوڑنا چاہیے تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی اور تمام اپوزیشن جماعتوں نے وفاقی حکومت کو بھی یہ یقین دہانی کروائی ہے ہم اس معاملے میں حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

سندھ کے سرحدی انتظامات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے اپنی جانب سے تمام تر انتظامات کرلیے ہیں۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ہم اس معاملے میں تعاون نہیں کر رہے اور تعاون نہ کرنے والی بات درست نہیں۔

متعلقہ خبریں