Daily Mashriq

 ایئر چیف : مشکل وقت ابھی ختم نہیں ہوا

ایئر چیف : مشکل وقت ابھی ختم نہیں ہوا

پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان کا کہنا ہے کہ مادرِ وطن کی سالمیت اور دفاع کے فریضے کو بطریقِ احسن انجام دینے پر پوری قوم پاک فضائیہ پر نازاں ہے۔

ایئر مارشل مجاہد انور خان نے پاک فضائیہ کے فارورڈ آپریٹنگ بیسز کا دورہ کیا۔انہوں نے اپنے دورے میں ان بیسز پر ہوا بازوں، ائیر ڈیفنس، انجئیرنگ اور سیکیورٹی پر مامور عملے سے ملاقات بھی کی۔اس موقع پر ائیر چیف نے دشمن کے خلاف حالیہ فضائی کامیابی کے دوران عملے کے بلند حوصلے اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔انہوں نے کہا 'ہم خدائےِ ذوالجلال کے حضور سربسجود ہیں، جس نے ہمیں یہ طاقت دی کہ ہم اپنی قوم کی اُمیدوں پر بھرپور انداز میں پورا اتر سکے۔ ایئر چیف مارشل نے مزید کہا کہ دشمن کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں مادرِ وطن کی سالمیت اور دفاع کے فریضے کو بطریقِ احسن انجام دینے پر پوری قوم پاک فضائیہ پر نازاں ہے'۔انہوں نے عملے کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت ابھی ختم نہیں ہوا ، ہمیں اب بھی دشمن کی جانب سے کسی بھی جارحیت کا بھرپورجواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا ہو گا۔

پاک-بھارت کشیدگی

واضح رہے کہ 14 فروری کو بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے پلوامہ میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بس پر حملے میں 44 پیراملٹری اہلکار ہلاک ہوگئے تھے اور بھارت کی جانب سے اس حملے کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیا گیا تھا جبکہ پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔26 فروری کو بھارت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے پاکستان کی حدود میں در اندازی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا مبینہ کیمپ کو تباہ کردیا۔بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر کے علاقے میں دراندازی کی کوشش کو پاک فضائیہ نے ناکام بناتے ہوئے اور بروقت ردعمل دیتے ہوئے دشمن کے طیاروں کو بھاگنے پر مجبور کیا تھا۔بعد ازاں پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے بتایا تھا کہ آزاد کشمیر کے علاقے مظفرآباد میں داخل ہونے کی کوشش کر کے بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی خلاف ورزی کی۔اس کے بعد 27 فروری کو بھارتی فضائیہ نے ایک مرتبہ پھر پاکستانی حدود میں دراندازی کی کوشش کی تھی جس پر پاک فضائیہ نے کارروائی کرتے ہوئے دونوں بھارتی لڑاکا طیاروں کو مار گرایا تھا اور ایک پائلٹ کو گرفتار کرلیا تھا جسے بعد ازاں یکم مارچ کو رہا کردیا گیا۔

متعلقہ خبریں