Daily Mashriq


ثالثی کے تکلف سے بھارت ماننے والا نہیں

ثالثی کے تکلف سے بھارت ماننے والا نہیں

امریکا نے ایک مرتبہ پھر لائن آف کنٹرول (ایل او سی )پر بڑھتی ہوئی باہمی کشیدگی پر پاکستان اور بھارت کو براہ راست مذاکرات پر زور دیا ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے براہ راست مذاکرات کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ماننا ہے کہ عملی تعاون ہی پاکستان اور بھارت کے مفاد میں ہے ۔خیال رہے کہ بھارت نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی فوجیوں نے کشمیر میں گشت کے دوران دو بھارتی فوجیوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی تھی۔پاک فوج نے بھارت کے اس الزام کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے ایل او سی پر جنگ بندی یا کراس فائرنگ کی خلاف ورزی نہیں کی گئی اس لیے لاشوں کی بے حرمتی ممکن نہیں ہے۔لیکن بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوجیوں نے ہلاکتوں کا بدلہ لینے کے لیے بارڈر پر مارٹر بم اور گرینیڈ فائر کیے تھے ۔بھارت کے وزیردفاع ارون جیٹلی نے نئی دہلی میں صحافیوںسے کہا کہ فوج مناسب انداز میں جواب دے گی ۔اطلاعات کے مطابق بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی اپنی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ پاکستان کو جواب دے ۔واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان ہر تھوڑے عرصے بعد سرحدوں پر اس قسم کی سر گرمیاں سامنے آنے لگی ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان ممکنہ تصادم کا خطرہ پیدا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ایک طویل عرصہ کوئی سرحدی مسئلہ اٹھ کھڑا نہ ہوا مگر جب سے مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں نے ایک مرتبہ پھر پوری قوت سے بھارتی جبر و استبداد کو للکارا ہے تو بھارت خفت مٹانے کے لئے سرحدی کشیدگی پیدا کر رہا ہے جس سے رفتہ رفتہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی آرہی ہے۔ کچھ عرصہ قبل تو یہ خطرہ محسوس ہونے لگا تھا کہ دو ایٹمی ممالک میں تصادم ہوگا اور خطہ سمیت دنیا کا امن خطرے میں پڑ جائے گا۔ صورتحال کو معمول پر لانے کے لئے دنیا کی مساعی کار گر ضرور ثابت ہوئیں لیکن پاک بھارت کشیدگی ہنوز باقی ہے۔ امریکہ اور ترکی کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی انہی دنوں پیشکش سامنے آئیں جن کا پاکستان کی طرف سے خیر مقدم کیاگیا لیکن بھارت کسی ثالثی کو ماننے کے لئے تیار نہیں اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اس صورت میں ان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور شدہ قرار دادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ سامنے نہ آئے۔ثالثی وہاں ہوتی ہے جہاں فریقین کا ثالثوں پر اعتماد ہو اور فریقین کے موقف پر کسی فورم سے کوئی فیصلہ نہ آیا ہو۔ مقبوضہ کشمیر بارے عالمی ادارے کی نہ صرف منظور شدہ قرار داد موجود ہے بلکہ بھارتی وزیر اعظم اس پر عملدرآمد کی یقین دہانی بھی کراچکے ہیں۔ اس پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر بات چیت کی گنجائش ہے مگر بھارت اس پر بھی تیار نہیں۔ ہمارے تئیںجہاں تک اس تنازعے کے مستقل حل کی مساعی اور ذمہ داری کا سوال ہے یہ حکومت اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے۔ اس ضمن میں کبھی خاموشی اور کبھی گرمجوشی دیکھنے میں ضرور آتی ہے لیکن کوئی بھی مساعی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو پاتیں۔ سابق صدر جنرل( ر) پرویز مشرف کے دور حکومت میں تو ایک موقع پر یہ گمان ہونے لگا تھا کہ گویا مسئلہ کشمیر پر دونوں ممالک کے درمیان سمجھوتہ ہونے کو ہے لیکن اس کے بعد چھائی ہوئی خاموشی رفتہ رفتہ کشیدگی کا باعث بنتی گئی۔ بھارت سے معاملت میں سیاسی و فوجی قیادت کے درمیان پوری طرح ہم آہنگی اور اعتماد کی مکمل کیفیت کا نہ ہونا بھی ایک مسئلہ ہے جسے تسلیم کیا جانا چاہئے اور اس پر توجہ کی ضرورت ہے ۔ جہاں تک اس ضمن میں عالمی سطح پر مساعی کا سوال ہے گو کہ اس ضمن میں امریکہ کی جانب سے ثالثی کی پیشکش ہوتی رہی ہے ترکی کے صدر نے بھی دونوں ممالک کو نیک مشورہ دیا ہے ۔لیکن بھارت مسلسل احراز کی پالیسی پر کار فرما ہے۔ بھارتی رویئے پر ایک ہاتھ سے تالی نہیں بجتی کا مقولہ صادق آتا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس صورتحال میں پاکستان کی جانب سے مثبت رویہ اور ثالثی کی پیشکش کو تسلیم کرنے کا یکطرفہ رویہ یکطرفہ ٹریفک کی طرح ہے جب تک بھارت اپنی سوچ اور رویہ تبدیل نہیں کرتا کسی بھی سعی سے توقعات وابستہ کرنا حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا۔ بھارتی وزیر داخلہ کی طرف سے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ مرکز کے خیال کے مطابق کشمیر میں صورتحال قابو کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مساجد کو حکومت کے تحت کیاجائے' مدرسوں اور میڈیا پر پابندیاں عائد کی جائیں اور اپنے ہم خیال سیاستدانوں سے رابطہ کیاجائے۔ یہ تجویز اپنی جگہ اس امر کا صاف اظہار ہے کہ بھارتی قیادت اور صلاح کاروں کو تشدد اور بہیمیت سے آگے کچھ سوجھتا ہی نہیں اور وہ ہوش کے ناخن لینے کو تیار نہیں۔ہمارے تئیں اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت وادی میں جاری حریت پسندوں کی جدوجہد کا جائزہ لے اور یہ سوچ بچار کرے کہ وادی میں بے چینی ہی بے چینی کی وجوہات کیاہیں۔ بہر حال جو لوگ ابھی تک مندرجہ بالا سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں مندرجہ بالا صورتحال مد نظر رکھنی چاہئے۔دکھ کی بات تو یہ ہے کہ اقوام عالم اور خاص طور پر مغربی قوتیں کشمیر کو ایک مسئلہ تو تسلیم کرتی ہیں لیکن وہ اسے دو ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعہ سمجھتی ہیں نہ کہ ایک عالمی مسئلہ جہاں پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ یوں اسے ابھی تک دو طرفہ مسئلے کی حیثیت ہی حاصل ہے۔ تبدیلی صرف اتنی آئی ہے کہ اس مسئلے کے بارے میں یہ کہا جانے لگا کہ مسئلے کا ایسا حل تلاش کیا جائے جو کشمیریوں کے لئے قابل قبول ہو۔امریکہ اگر مسئلہ کشمیر کے حل میں واقعی سنجیدہ ہے تو اسے چاہیئے کہ وہ ان معاملات اورمسائل کی طرح اس مسئلے کے حل میں بھی دلچسپی لے جن معاملات و مسائل کے حل کیلئے وہ اقوام متحدہ اور عالمی دنیا کو دبائو میں لانے کی کوشش کرتا ہے جس میںاسے کامیابی بھی ملتی ہے محض ثالثی کی پیشکش سے کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس کے حل کیلئے امریکہ سمیت دنیا بھر کے ممالک کو بھارت پر اس قدر سفارتی دبائو ڈالنا ہوگا کہ وہ سنجیدہ بات چیت کیلئے مذاکرات کی میز پر آئے ۔

متعلقہ خبریں