Daily Mashriq


گورنر کے لئے قابل توجہ مسئلہ

گورنر کے لئے قابل توجہ مسئلہ

ٹی وی سکرینز اور حکام کی زبانی قبائلی علاقوں میں تعمیر و ترقی کے جو دعوے سننے کو ملتے ہیں ان کا کوئی معروضی وجود بر سر زمین نظر نہیں آتا بلکہ اس طرح کے دعوئوں سے قبائلی عوام کے زخموں پر نمک پاشی ہوتی ہے۔ قبائلی علاقہ جات خاص طور پر متاثرہ علاقوں میں قدیم کی زندگی لوٹ آئی ہے اور عوام حیران و پریشان کھڑے ہیں۔ وہ اس دور میں اسلاف کے دور میں کیسے لوٹ جائیں مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر ہمارے میران شاہ بیورو کی یہ رپورٹ ملاحظہ ہو جو تعلیم جیسے اہم شعبے میں حکام کی کارکردگی و بحالی کی مساعی کی حقیقی تصویر ہے۔ ہمارے بیورو کی رپورٹ کے مطابق شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے بعد سے اب تک گرلز ایجو کیشن بحال نہ ہو سکی ہے۔900کے قریب سکولوں میں سے ابھی تک نصف درجن ادارے ہی فعال ہو سکے ہیں جن میں چند سو لڑکیاں تعلیم حاصل کرر ہی ہیں۔مارچ 2015ء کے بعد سے اب تک چند ایک علاقوں کو چھوڑ کرباقی علاقوں میں اگر چہ متاثرین کی واپسی کا عمل مکمل ہو چکا ہے تاہم باربار اعلانات کے باوجودابھی تک میرانشاہ میں صرف گرلز ہائی سکول میرانشاہ کالونی ، جبکہ میرعلی میں بھی ایک دو سکولوں کے علاوہ کوئی اور ادارہ فعال نہیں کیا جاسکا ہے۔جن بچیوں نے دوران آپریشن بنوں اور پشاور میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی ایجنسی میں گرلز کالج کی عدم موجودگی کے باعث طالبات آگے تعلیم کے حصول سے محروم ہو رہی ہیں۔گورنر نے میرعلی میں گرلز کالج کے قیام کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک اس ا علان پرکو ئی عمل درآمد نہیں ہوا ۔صرف یہی نہیں ستم بالائے ستم یہ کہ ایجو کیشن آفس اور اکائونٹس آفس کا عملہ ملی بھگت سے شمالی وزیرستان سے باہر کی غیر مقامی خواتین اساتذہ بھرتی کررہے ہیں جو بھرتیوں کے بعد تدریس کے فرائض کی ادائیگی میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہیں اور اگر دیکھا جائے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ غیر مقامی خواتین یہاں رہ کر کام کریں۔ کیا گورنر خیبر پختونخوا ان مسائل سے بے خبر ہیں اور وہ کب حقیقی صورتحال سے آگاہ ہو کر اصلاح احوال پر توجہ دیں گے۔

متعلقہ خبریں