Daily Mashriq


خواتین بارے صوبائی وزیر کے نازیبا کلمات

خواتین بارے صوبائی وزیر کے نازیبا کلمات

خیبر پختونخوا اسمبلی میں صوبائی وزیر نے خواتین کے حوالے سے جو لب و لہجہ اختیار کیا ہے وہ کسی طور دوسری جماعتوں کے مرد حضرات کے وقتاً فوقتاً خواتین ممبران کے حوالے سے اختیار کردہ لب و لہجہ سے مختلف نہیں۔ واضح رہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ کسی مرد صوبائی رکن اسمبلی نے خاتون رکن کے ساتھ مبینہ بد تمیزی کی ہو۔ اس سے قبل ایسا ہی ایک واقعہ سندھ اسمبلی میں پیش آچکا ہے جبکہ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی خاتون رکن اسمبلی کو بھی استہزائیہ نام دے کر پکارا گیا تھا۔پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ کسی بھی قانون ساز کا کسی خاتون کے بارے میں نازیبا الفاظ کا استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے اور اگر ایسا دوبارہ ہوا تو ایسے قانون ساز کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا ہمارے مذہب اور ہماری ثقافت دونوں کے خلاف ہے۔یہ بات عمران خان نے منگل کے روز ایک ٹویٹ میں کہی۔ تحریک انصاف کے قائد اگر بختاور اور بلاول بھٹو کی طرح اپنی جماعت کے صوبائی وزیر کو معافی مانگنے پر مجبور کرتے تو مناسب تھا مگر د وسروں کے لئے درشت لب و لہجہ اختیار کرنے والے قائد نے اپنے صوبائی وزیر کو لگام دینا مناسب نہ سمجھا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی اور معاشرے کی کچھ روایات ہیں جسے ایوان کو بازیچہ اطفال بنانے والوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں