Daily Mashriq


دہشت گردی… سوالیہ نشان

دہشت گردی… سوالیہ نشان

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے گزشتہ روز واہ میں یوم مزدور کے حوالے سے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگرہمارے حساس مقامات دہشت گردی کے خطرے میں ہوں تو یہ ہماری ایجنسیوں پر سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان میں گزشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصہ سے دہشت گردی کے حوالے سے جو صورت حال ہے جس کے باعث ساٹھ ہزار سے زیادہ فوجی اور سویلین پاکستانی دہشت گردی یا اس سے متعلق وارداتوں میں شہید ہو چکے ہیں۔ یہ سوالیہ نشان صاف نظرآتا ہے۔ لیکن محض ایجنسیوں کی کارکردگی پر نہیں جن کی ایک تعداد خود چودھری نثار علی خان کی وزارت داخلہ کے ماتحت ہیں ۔انہوں نے کہا ہے کہ ان کا واہ میں خطاب بہت پہلے سے طے شدہ تھا۔ لیکن جب وہ واہ جانے لگے تو انہیں مشورہ دیا گیا کہ نہ جائیں کیوں کہ وہاںدہشت گردی کا خطرہ ہے۔ جس طرح وہ سوالیہ نشان ایک حقیقت ہے جس کا ذکر چودھری صاحب نے کیا اس طرح یہ خطرہ بھی حقیقت ہے ۔ ان کے واہ جانے سے پہلے آپریشن ردالفساد کے تحت ایک کارروائی میں دو دہشت گرد رینجرز کے ساتھ مقابلے میں ہلاک ہو گئے ۔ جن سے خود کش جیکٹ اور اسلحہ بھی برآمد ہوا ۔ جس طرح دہشت گردی کا خطرہ ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے اسی طرح خطرے کا سراغ لگانا اور اس کا ازالہ کرنا انہی ایجنسیوں پر اعتماد کا نشان بھی ہے۔ مختلف کارروائیوں میں دہشت گردوں سے جو اسلحہ کے انبار ' گولہ بارود کے جو بھاری ذخائر برآمد ہوئے ہیں۔ یہ ان ایجنسیوں ہی کی کارکردگی ہے جس کے باعث یہ معلومات سرکاری افسروں سے ہوتی ہوئی عوام تک پہنچتی ہیں۔ اور جتنے دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مقابلہ کرتے ہوئے مارے گئے ہیں ' جتنے گرفتار ہوئے ہیں اور جتنے فرار ہو گئے ہیں وہ بھاری تعداد بھی ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر اعتماد کا مظہر ہے۔ اس کے باوجود اگر ملک میں خطرہ ہے تو یہ سوالیہ نشان صرف ایجنسیوں کی کارکردگی تک محدود نہیں۔ اہل دانش اور سیاست' علمائے دین' اہل صحافت' اہل تعلیم و تعلم حتیٰ کہ عام شہر یوں کی معاشری ذمہ داریوں پر کم توجہی کا نشان ہے۔ واہ میں چودھری نثار کے جانے سے قبل جو دو دہشت گرد رینجرز سے مقابلے میں مارے گئے ان کے بارے میں پولیس نے کہا ہے کہ ان کا تعلق داعش سے تھا۔ اس تنظیم کو چند سال میں عالمی شہرت حاصل ہو گئی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان تنظیموں کا مقصد عام طرزِ زندگی کو اپنے ڈھب پر لانا ہے جسے وہ دینِ اسلام کہتے ہیں اور بزورِ بازو اس طرز زندگی کو نافذ کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ تاریخ میں کسی پیغمبر ' کسی مصلح نے بزور قوت لوگوں سے اپنی بات منوانے یا طرز زندگی تبدیلی کرنے کو نہ اختیار کیا گیا نہ جائز قرار دیا۔ توپھر اہل دانش اور ' علمائے دین اور اہل تعلیم و تعلیم کو دنیا میں ظاہر ہونے والے اس نقطۂ نظر پر غور کرنا چاہیے تھا۔ اگر وہ لوگوں کے طرز زندگی اور نظریات کو بزور قوت تبدیل کرنے کو جائز نہیں سمجھتے تو ان دہشت گرد تنظیموں کی نظریاتی اساس کا جائزہ لینا چاہیے تھا اور عوام الناس کو اس نقطۂ نظر کے مضمرات سے آگاہ کرنا چاہیے تھا۔ انفرادی سطح پر ایسی کوشش نظرآتی ہیں۔ لیکن اجتماعی طور پر علمی سطح پر بزورِ قوت طرزِ زندگی اور نظریات تبدیل کرنے کے نقطۂ نظر کی نہ کوئی خبر آئی اور نہ کوئی متفقہ علمی رویہ سامنے آیا۔ اہل سیاست اصولی طور پر معاشرے کی رہنمائی کرتے ہیں ' معاشرے میں عدل و انصاف ' اخوت و رواداری کو فروغ دیتے ہیں۔ معاشی مواقع' دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے کام کرتے ہیں۔ انہیں اس بات پر غور کرنا چاہیے تھا کہ ایسی کون سی وجوہ ہیں جن کی بنا پر آج کے نوجوان ' آج کی معاشی صورت حال میں اپنے لیے مستقبل کی تلاش نہیں کر پاتے۔ کیا معاشرے میں دولت کی منصفانہ تقسیم کا بندوبست ہے۔ کیا میرٹ کا احترام ہوتا ہے۔ کیا نوجوانوں کے لیے مسابقت کا منصفانہ ماحول ہے۔ آخر کیوں اچھے بھلے نوجوان امن و آشتی کے مستقبل کی امید ترک کردیتے ہیں۔ انہیں زندگی وہ ماحول کیوں مہیا نہیں کرتی جس میں وہ اپنا اور اپنے متعلقین کے سہانے مستقبل کا خواب دیکھ سکیں اور اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے دیانتدارانہ کوشش کے بار آور ہونے پر یقین کر سکیں۔ یہ سوالیہ نشان اہل تعلیم و تعلم اور والدین پر بھی ہے۔ یہ سوالیہ نشان حکمرانوں پر نہایت واضح ہے جن میں وہ تمام اہل کار بھی شامل ہیں جو نظامِ حکومت چلانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ معاشرے کے عموم کوتہ و بالا کرنے کے مقصد کے تحت قائم کی جانے والی کوئی بھی تنظیم سرمائے کے بغیر نہ قائم ہو سکتی ہے نہ کام کر سکتی ہے۔ اس کی شہادت تحریک طالبان پاکستان کے عناصر سے حاصل ہونے والا اربوں روپے کا اسلحہ اور گولہ بارود ہے۔ ان کے ہزاروں کارندوں کی روزمرہ کی کفالت کے اخراجات کا اندازہ ہے ۔ یہ سرمایہ آخر کہاں سے آیا ہے۔ یا تو ملک کی دشمن قوتیں فراہم کرتی ہیں جو ملک کے معاشرے کے امن کو تہ و بالاکرنا ہے۔ یا یہ پیسہ بلیک میلنگ اور کرپشن سے آتا ہے۔ بھتہ وصولی' بنک ڈکیتی' اغواء برائے تاوان میں سے حصہ یہ تنظیمیں وصول کرتی ہیں۔ ان سب کو اس سوالیہ نشان کا شاید احساس ہے۔ یہ سوالیہ نشان عام شہریوں پر بھی ثبت ہوتا ہے جو اس ملک کے مالک ہیں اور انہیں اسی حیثیت سے اس ملک میں جاگتے رہنا چاہیے۔ علاقے میں سبھی کے علم میں کسی نہ کسی حد تک ہوتا ہے کہ کون زور زبردستی کا قائل ہے اور کون گفت و شنید کے ذریعے معاملات طے کرتا ہے۔ بلدیاتی اداروں کے منتخب ارکان اپنے علاقے کے لوگوں کے میلانات سے واقف ہوتے ہیں۔ یہ جو دہشت گرد کہیں سے آ کر وارداتیں کرتے ہیں یہ کہیں قیام کرتے ہیں' کہیں تیاری کرتے ہیں اور کوئی ان کی معاونت کرتا ہے۔ کوئی سہولتیں بہم پہنچاتا ہے۔ یہ اہل سیاست اور حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام شہریوں کو حوصلہ دیں اور انہیں اپنے ملک ' اپنے علاقے کی حفاظت کے لیے دہشت گردوں کے خلاف متفق اور منظم کریں۔

متعلقہ خبریں