Daily Mashriq


کالاباغ ڈیم اور چو دھری شجاعت حسین

کالاباغ ڈیم اور چو دھری شجاعت حسین

جوں جوں عام انتخابات قریب آرہے ہیں ہر سیاسی پا رٹی کی کو شش ہے کہ وہ تمام صوبوںاور بالخصوص پنجاب کے عوام کواپنے طر ف متوجہ کرے اور انکی حمایت حا صل کرے۔ ہر سیاسی پا رٹی اس صوبے میں لا بنگ کے لئے کو شش کر رہی ہیں ۔ جس میں پی پی پی، نواز لیگ، پی ٹی آئی اورچودھری شجاعت حسین کی مسلم لیگ شامل ہے۔ اوریہ حقیقت ہے کہ جس پا رٹی کی پنجاب میں اکثریت ہوتی ہے وہ وفاقی اور پنجاب کے بڑے صوبے میں حکومت بنا لیتے ہیں ۔ اور یہی وجہ ہے عوام کے مزاج پر ہاتھ رکھ مونس الٰہی نے 2018 ئکے الیکشن کے لئے کالا باغ کو ایشو بنایا ہے اور کہتے ہیں کہ کالا با غ ڈیم ضرور بنے گا۔ کالا با غ ڈیم حکومت پاکستان نے1953ء میں منظور کیا۔ اس منصوبے کا مقصد پا نی ذخیرہ کر نا تھا اور 1973 تک اس منصوبے کو پانی ذخیرے کا منصوبہ کہا گیا۔ اُ س وقت کالا با غ ڈیم پر لاگت کا کل تخمینہ 5 ارب ڈالر لگا یا گیا تھا اور اب اس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ15 ارب ڈالر لگا یا گیا ہے ۔ خیر آباد کے مقام جہاں پر دریائے کابل اوردریائے سندھ ملتے ہیں، کالاباغ ڈیم اسی پوائنٹ سے 92 میل ڈائون سٹریم یعنی نیچے کی طرف فا صلے پر ہے ۔اس منصوبے کے پی سی ون کے مطا بق اس ڈیم میں 105 ملین ایکڑ فُٹ پا نی ذخیرہ کر نے کی گنجائش ہو گی ۔ علاوہ ازیں اس سے 2400 میگا واٹ سے لیکر 3600 میگا واٹ تک بجلی بھی حا صل کی جا سکے گی۔ کا لا با غ ڈیم کی جھیل کاکل رقبہ162 مربع میل ہو گا جو 92 میل دریائے سندھ کی طر ف، 36 میل سوان کی طر ف اور 10 میل دریائے کا بل کی طر ف ہو گا۔ماہرین کے مطابق اس جھیل سے 1,3600 ایکڑ زمین نیچے آئے گی۔ایک محتاط اندازے کے مطابق اس سے تقریباً 2 لاکھ لوگ بے گھر ہوں گے، جس میں ایک لاکھ 20 ہزار خیبر پختون خوا اور 80 ہزار پنجا بکے لوگ شامل ہوں گے۔کالا با غ ڈیم کی تعمیر کے بعد ایک سے لیکر 4 سال بعد 60 ہزار ایکڑ مزید زمین سیلاب سے متا ثر ہو گی اور20 دیہات زیر آب آئیںگے۔ اسکے علاوہ 70 ہزار مزید لوگوں کی دوبارہ بحالی کرنی پڑے گی اور ایک لاکھ 75 ہزار مزید لوگوں کو اپنے مال اور جائیداد کو محفوظ کر نے کی ضرورت پڑے گی۔ پو ری دنیا میں بڑے ڈیموں کی تعمیر کا رواج تقریباً ختم ہو رہا ہے ۔ عالمی بینک اور دوسرے بین الاقوامی مالیاتی ایجنسیوں نے ما حو لیاتی بگاڑ، لوگوں کے بے گھر ہو نے اور قدرتی آفات کی وجہ سے بڑے ڈیموں کے لئے قرضے دینا بند کر دیئے ۔ امریکہ اور دوسرے یو رپی ممالک میں جو بڑے ڈیم موجود بھی ہیں اُنکو بھی توڑ ا جا رہا ہے۔ کا لا باغ ڈیم پر ما سوائے پنجاب کے تینوں صوبوں کے تحفظات ہیں ۔ اور وطن عزیز کی تینوں صو بائی اسمبلیوں نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت میں قراردادیں بھی منظور کی ہیں۔ اگر ہم جمہوری اقدار اور جمہو ریت پر یقین رکھتے ہیں تو جب تینوں صوبائی اسمبلیوں نے اس کے خلاف قرار دا دیں منظور کی ہیںتو اسکو بنانے کے بارے میںسوچا کیوں جاتا ہے ۔ کا لا با غ ڈیم جس کی اونچائی تقریباً 940فٹ ہو گی اس سے 25 کلو میٹر نیشنل ہائی وے پانی میں ڈوب جائے گا۔ اسکے علاوہ 4 کلومیٹر مردان نو شہرہ سڑک ، 15 کلومیٹر نظام پور اٹک سڑک اور 25 کلومیٹر پیر سباق جہانگیرہ سڑک پانی میں ڈوب جائے گی۔ علاوہ ازیں خیر آباد اور نو شہرہ کے در میان 8 کلو میٹراور نو شہرہ اور مردان کے درمیان 12کلومیٹر ریلوے پٹڑی پانی میں ڈوب جائے گی۔ اور خو شحال گڑھ کا پُل پانی میں مکمل طو ر پر ڈوب جائے گا اور کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی وجہ سے خیر آباد پُل 20 فٹ مزید اونچا تعمیر کر نا پڑے گا۔جہانگیرہ روڈ کو 50 فی صد دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ اور نو شہرہ مر دان پُل کو 12 فُٹ مزید اُوپر کر نا پڑے گا۔مر دان، جہانگیرہ ، نو شہرہ اور اٹک میں ٹیلی کام ، بجلی اور گیس کی لائنیں نئے سرے سے بچھائی جائیں گی۔علاوہ ازیں کالا باغ ڈیم کے بننے کے بعد زمین میں پانی جذب ہوگا اور اس سے نئی اور پرانی دونوں عمارتیں تباہ ہو جائیں گی۔کیونکہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے بعد نو شہرہ مردان، صوابی ، جہانگیرہ ، چار سدہ اور پشاور وادی میں پانی ان عمارتوں کی بنیادوں میں چلا جائے گا۔کرک اور مضافاتی علاقوں میںکا لا باغ ڈیم کی وجہ سے پانی کھارا یعنی نمکین ہو جائے گا جو پینے کے قطعاً قابل نہیں ہو گا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ ڈیم نہ صرف زلزلوں والے علاقے میںبنے گا بلکہ یہ میاں والی کالاباغ ، کھیوڑہ اور کو ہاٹ کے علاقہ سا لٹ رینج کے علاقے میںہوگا جس سے اس ڈیم کو مزید نُقصان پہنچ سکتا ہے۔جہاں تک بلو چستان کے تحفظات کا تعلق ہے تو اس کا کہنا ہے کہ اگر کالابا غ ڈیم بن گیا تو اس سے بلو چستان کے پانی میں مزید کمی ہوگی۔ بلو چستان گدو اور پٹ فیڈر سے 3400کیوسک پانی لیتا ہے جو 3 لاکھ ایکڑ زمین کو سیراب کر رہا ہے۔اس ڈیم سے دریائے سندھ کے استعداد میں کمی آجائے گی جسکی وجہ سے بلو چستان کے مستقبل کی ضروریات پو را کر نے کے لئے پانی مہیا نہیں ہو گا۔ جہاں تک سندھ کا تعلق ہے تو اس کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا تو سیلاب کی تباہ کاری سے تباہ و بر باد ہو جائے گا جبکہ صوبہ سندھ پانی کی کمی کی وجہ سے انتہائی نامساعد حالات کا سا منا کرے گا۔ ما ہرین کہتے ہیں کہ ہم جس طرح چاہیںاس ڈیم کے ڈیزائن میںتبدیلی کریں مگر یہ منصوبہ ملک اور قوم کے عظیم مفاد میں نہیں۔ اگر ملک میں ایک لاکھ میگا واٹ پانی سے بجلی پیداکرنے کی، 50 ہزارمیگا واٹ ہوا سے بجلی پیدا کر نے کی ، بائیو گیس سے گھریلو سطح پر 75فی صدتوانائی کی ضروریات پو را کر نے کی صلا حیت ہے تو پھر اس متنا زعہ ڈیم پراتنا زور کیو ں دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں