Daily Mashriq


جندال کی پاکستان آمد

جندال کی پاکستان آمد

وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف کو ابھی پانامہ کیس اور ڈان لیکس کے شوروغوغے سے فرصت میسر نہیںآئی تھی کہ بھارتی بزنس مین سجن جندال کے پاکستان کے دورے اور ان سے خفیہ ملاقات کے تناظر میں ان سے ایک اور متنازعہ معاملے کی وضاحت مانگی جانے لگی۔ نواز شریف کی طرف سے بھارتی تجارتی حلقوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھنے کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے سجن جندال کے بعد نئے تنازعے کا آغاز حیرت کا باعث نہیںہے۔ لیکن یہاں پر سجن جندال کی نواز شریف کے ساتھ ملاقات کو دیگر تنازعات کے تناظر میں دیکھنا ناانصافی ہوگا۔ مذکورہ ملاقات ذاتی مفادات کے بارے میں بات کرنے کے لئے نہیں ہو سکتی کیونکہ نواز شریف ایک ایسے وقت میں سجن جندال جیسے بزنس مین سے ملاقات کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے جب وہ خود ہر طرف سے تنازعات میں گھرے ہوئے تھے۔ ان کو اس بات کا اچھی طرح سے اندازہ ہوگا کہ سجن جندال کی وفد کے ساتھ پاکستان آمد اور مری میں ان سے ملاقات چھُپی نہیں رہ سکتی اس لئے اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری تھا۔

یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ملاقات کا مقصد کیا تھا؟ غالب امکان یہ ہے کہ اس ملاقات کا مقصد پاکستان اور بھارت کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی میز پر لانا تھا۔ اسلام آباد اور نیو دہلی کے درمیان لفظی جنگ کے دوران ایسی کسی خفیہ ملاقات کو بعید از امکان نہیں کہا جاسکتا بلکہ اس ملاقات کا مثبت پہلو یہ ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت کو اس بات کا پوری طرح ادراک ہے کہ تنازعات اور لفظوں کی جنگ کے باوجود آج کے گلوبل ویلج میں پاکستان اور بھارت جیسے ہمسائے دشمنی کا رشتہ ہمیشہ کے لئے نہیں نبھا سکتے۔ آج کے جدید دور میں دونوں ممالک کو اپنے قومی مفادات کے حصول کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگر تاریخ پر نظر دوڑائیں تو دونوں ممالک ایک دسرے کے خلاف عسکری کارروائیاں کرتے رہے ہیں لیکن جوہری ہتھیاروں کی موجودگی میں مسائل کا عسکری کی بجائے سفارتی حل ہی دونوں ممالک کے پاس واحد راستہ بچاہے۔اس حوالے سے اگر کوئی مثال سامنے رکھنی ہو تو اُڑی حملے اور اس کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستان میں ' سٹر یٹجک سٹرائیک ' جیسے غیر سفارتی راستوں کا انجام دیکھا جاسکتا ہے۔ ایسے غیر سفارتی اقدامات سے دونوں ممالک کے مفادات کو فائدے کی بجائے نقصان پہنچتا ہے اور جب دھول بیٹھتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ دونوں ممالک کی ہار ہوئی ہے۔ بہت سے سابق بھارتی قائدین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بھارت کی بین الاقوامی سطح پر ایک بڑی طاقت بننے کی کوششیں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتیں جب تک وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تمام تنازعات حل نہیں کرلیتا۔ بھارتی معیشت کی ترقی کے لئے توانائی کی ضروریات بھی اس وقت تک پوری نہیں ہو سکتیں جب تک بھارت کو پاکستان کے راستے سینٹرل ایشیاء تک رسائی نہیں ملتی۔اس حوالے سے حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کی اسٹیبلشمنٹ حقیقت کا ادراک کرنا شروع ہوگئی ہے۔ سجن جندال کے پاکستان کے دورے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے فیصلہ ساز ٹیکٹیکل مسائل کو سٹریٹجک مسائل سے الگ کرنے کی ضرورت پر متفق ہو چکے ہیں۔ موجود سفارتی تعلقات اور 'سپائی گیٹ' کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس دورے کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ ماضی میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اعلیٰ سطح کے سفارتی تنازعے کے درمیان اس طرح کی بیک چینل سفارت کاری کی گئی ہو۔ ان سب مثبت اشاروں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے حوالے سے زیادہ امید نہیں رکھی جاسکتی۔ اگرچہ پالیسی سازی کے حوالے سے تھوڑی سے تبدیلی ضرور آئے گی لیکن پالیسی کے نفاذ میں پرانی روایات سے رُوگردانی کافی مشکل دکھائی دیتی ہے۔

اگر دونوں ممالک کو آگے بڑھنا ہے تو دونوں ملکوں کی قیادت کو اندرونی دبائو کا مقابلہ بھی کرنا ہوگا ۔ بھارت میں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد پاکستان مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی صورت میں مودی کو دائیں بازو کی جانب سے شدید مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مذاکرات کے دوران بھارت میں دہشت گرد کارروائیوں کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔پاک بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے موزوں حل یہی ہے کہ اس بیک چینل ڈپلومیسی کو جاری رہنا چاہیے کیونکہ حالیہ وقتوں میں کسی بھی اور طریقے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری نہیں لا جاسکی۔ یہ سچ ہے کہ بیک چینل ڈپلومیسی میں عوام کو اندھیرے میں رکھا جاتا ہے لیکن کسی اہم سنگِ میل تک پہنچنے سے پہلے ان ملاقاتوں کو خفیہ رکھا جانا ضروری ہے۔ سجن جندال کے دورے کے بعد نواز شریف اور مودی کے درمیان ملاقات کی رپورٹس بھی اس سارے سفارتی عمل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں کیونکہ اس عمل میں عوامی جذبات کی شمولیت کے بعد دونوں ممالک کے لئے کسی بھی اہم فیصلے پر پہنچنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کو دہشت گردی کے واقعات کی تصدیق کے حوالے سے بھی ایک دوسرے کو اعتماد میں لینا ہوگا کیونکہ مذاکرات کے درمیان ایسا کوئی بھی واقعہ مذاکرات کے عمل کو سبو تاژ کر سکتا ہے۔

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں