کیا کشکول ٹوٹ گیا؟

کیا کشکول ٹوٹ گیا؟

پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت اپوزیشن کا کردار ادا کررہی تھی ،پنجاب میں گو پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت تھی اور شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے ، اس وقت وہ جوش خطابت میں اکثر ایک بات کہا کرتے تھے کہ جب ان کی حکومت آئے گی تو وہ کشکول توڑ دیں گے ،اور ملک و قوم کا پیسہ لوٹنے والوں کا پیٹ پھاڑ کر پیسہ نکالیں گے ،آج وفاق میں ان کی جماعت کی حکمرانی ہے اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ وہ خود ہیں لیکن قوم سے کئے گئے وعدے نا معلوم وجوہات کی بنا پر ایفا نہیں ہو سکے ہیں بلکہ پاکستان کی موجودہ معیشت پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ جتنے قرضے مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت نے لئے ہیں ماضی میں شاید ہی کسی حکومت نے لئے ہوں ۔ایک سوال ہر ذی شعور شہری کی زبان پر ہے کہ اگر ملکی معیشت حکومتی بقراطوں کے بقول واقعی بہتر ہو رہی ہے تو عام شہری کی زندگی میں بہتری نظر کیوں نہیں آرہی؟پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار ان دنوں عالمی بنک اور آئی ایم ایف کے اجلاسوں میں شرکت کے لئے پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔اسحاق ڈار نے امریکا میں مختلف تھنک ٹینکس، امریکی دانشوروں اورماہرین معیشت کوبتایا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار دنیا بھر کے لئے مثالی ہے۔ پاک امریکا رہنمائوں کے درمیان ان مذاکرات میں مرکزی نکتہ پاکستان کی معاشی امداد کی بحالی کی بجائے د ہشت گردی اور جنوبی ایشیا میں امن تک محدود رکھا گیا تھا اس طرح یہ ظاہر ہوتاہے کہ امریکی حکام اب پا کستان کو کچھ دئیے بغیراور کسی ترغیب کے بغیر اپنے ایجنڈے کے لیے کام کرنے پر مجبورکرنا چاہتے ہیں جبکہ پاکستان کے سامنے فی الوقت کسی ترغیب کے بغیر ہی کام کرتے رہنے کی حامی بھرنے کے سوا کوئی چارہ کار بھی نہیں۔ اس لئے یہ توقع کرنا کہ اسحاق ڈار کے اس دورے سے پاک امریکا تعلقات کی نوعیت اب ماضی سے مختلف ہوگی ،عبث ہوگا۔امریکی تھنک ٹینک کے اجتماع سے گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے پاکستان کی معاشی ترقی کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ عالمی ادارے 2050 تک پاکستان کو ''جی ٹوئنٹی'' میں دیکھتے ہیں لیکن ہم یہ ہدف 2030 تک حاصل کر لیں گے۔امریکی تھنک ٹینک کے سامنے پاکستان کی کامیابیوں کی عکاسی کابنیادی مقصد یقینا امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دیناتھا لیکن ایسا معلوم ہوتاہے کہ امریکی تھنک ٹینک کے ارکان نے پاکستان کی ترقی کے حوالے سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی،شاید اس کا سبب یہ ہو کہ وزیر خزانہ ایک ایسے وقت واشنگٹن کا دورہ کر رہے ہیں جب پاکستان میں حکمران جماعت پر پاناما کیس پر عدالت کے فیصلے اور مزید تحقیقات کے ضمن میں دبائو کا سامنا ہے، پاناما کیس کی وجہ سے حکومت کے سر پر لٹکتی تلوار نے اس حکومت کے 2018تک قائم رہنے کے تصور کو دھندلا دیاہے، اور امریکی سرمایہ کار اس غیر یقینی صورت حال میں کسی بڑی سرمایہ کاری کا فیصلہ کرنے کے بجائے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی کے تحت پاناما کیس کے فیصلے یا ممکنہ قبل از انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنا چاہتے ہوں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ اقتصادی اعشاریوں نے پاکستان کو بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے بہت پرکشش جگہ بنا دیا ہے پاک چین اقتصادی راہداری کے ممکنہ فوائد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے امریکی سرمایہ کاروںکا کو یقین دلایا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے سی حاصل ہونے والے بے شمار بہتر ین معیشت کے عکاس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک میں46 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی گئی ہے جس میں 8ارب ڈالر بجلی کے منصوبوں پر خرچ ہوں گے۔ان کے بقول، سی پیک سے سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جس سے عام آدمی مستفید ہوگا۔ اس ضمن میں وزیر اعظم پروگرام کے تحت افرادی قوت کو ہنرمند بنایا جا رہا ہے، تاکہ وہ ان مواقع سے استفادہ کر سکیں۔وزیر خزانہ نے امریکا کوپاکستان کا بہترین شراکت دار قرار دیا۔وزیر خزانہ نے امریکی تھنک ٹینک کے دانشوروں اورماہرین معاشیات کے سامنے بلاشبہ پاکستان کی معیشت کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے،لیکن اس کے باوجود تعجب کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی تیز ترمعاشی ترقی کی عکاسی کرنے کے باوجود وہ نہ تو امریکی حکام سے پاکستان کے لیے کسی اقتصادی امداد کی یقین دہانی حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے ہیں اور نہ ہی امریکی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں کسی غیرمعمولی دلچسپی کااظہار کیاہے۔یہ صورت حال قابل غور ہے ، تاہم امید کی جاتی ہے کہ امریکا میںموجود پاکستانی سفیر اور تجارتی اتاشی اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے امریکی سرمایہ کاروں کی وزیر خزانہ سے براہ راست ملاقات کا اہتمام کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ وزیر خزانہ امریکی سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمایہ کاری کے وعدوں کے ساتھ پاکستان واپس آئیں۔

اداریہ