مشرقیات

مشرقیات


حضر ت احنف بن قیس کی قیادت میںسلطنت ایران کے شہر یکے بعد دیگرے فتح ہوتے جا رہے تھے اور سلطنت اسلامیہ کا حصہ بنتے جارہے تھے ۔ ادھر کسریٰ ایران یزد جرد بن شہریار کی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔ اب کسریٰ کو یقین ہوا چلاتھا کہ ایرانی قوت اسلامی قوت کے سامنے دم توڑ چکی ہے اور مسلم مجاہدین سے مقابلہ ناممکنات میں سے ہے ۔ چنانچہ اس نے ایران کے سارے خزانے اکٹھا کرنا شروع کردیے ۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ اپنے خزانوں کے ساتھ شاہ ترک یا شاہ چین کے پاس چلا جائے اور وہیں اپنی بقیہ زندگی گزار دے ۔ اس موقع پر شاہ ایران اور اس کی ر عایا میں جو گفت و شنید ہوئی ، اسے ملاحظہ فرمائیں : ریاعا :''آپ کیا چاہتے ہیں ؟ ''کسریٰ : میں شاہ ترک خاقان یا شاہ چین کے پا س جا کر انہیں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں ۔ رعایا کو اپنے خود غرض اور مفاد پرست بادشاہ کی بات سن کر بڑا غصہ آیا اور انہوں نے اس وقت بادشاہ سے جو بات کہی وہ مسلم مجاہدین کی پاکیزگی و رواداری اور عدل و انصاف کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ رعایا نے اپنے بادشاہ کو مخاطب کر کے کہا : '' رک جائو تمہاری ، رائے انتہائی غلط ہے ، تم تو خود ایک حکومت میںجا کر پنا ہ گزین ہو جانا چاہتے ہو اور اپنے ملک اور قوم کو (حالات کے رحم وکرم پر ) چھوڑ دینا چاہتے ہو ؟ بلکہ تم ہمارے ساتھ ان لوگوں (مسلمانوں ) کے پاس چلو تاکہ ہم ان سے مصالحت کرلیں ، کیونکہ یہ مسلمان وفادار اور دیندار ہیں اورہماری سرزمین سے وہی قریب ہیں ۔ ہمارے دشمن جو ہماری سرزمین سے قریب ہیں ، ان دشمنوں سے زیادہ اچھے ہیں جو ہماری سرزمین سے دور اپنے ملکوں میں ہیں ، ان کے پاس کوئی دین بھی نہیں ہے اور ہم ان کی وفاداری کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ۔ مگر کسریٰ نے اپنی ریاعا کی تجویز ماننے سے انکار کر دیا ۔ اس وقت رعایا نے بھی اپنے بادشاہ کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور کہنے لگے : تمہیں جہاں جانا ہے جائو ، مگر اس ملک کے تمام خزانے چھوڑ جائو ۔ لیکن کسریٰ نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا ۔ چنانچہ رعایا نے اسی وقت اپنے بادشاہ کو معزول کردیا ، جبکہ اس کے حاشیہ بردار وزراء اس کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اب یہ جھگڑا خانہ جنگی میں تبدیل ہوگیا اور بادشاہ کے حاشیہ برداروں اور رعایا میں جنگ ہونے لگی ۔ ریاعا نے بادشاہ کو شکست دے کر پورے خزانے اس سے چھین لیے اور اسے بے دخل کریا ۔ اس کے بعد انہوں نے حضرت احنف بن قیس کو یہ پوری داستان لکھ بھیجی ۔ سلمانوں نے خبر ملتے ہی کسریٰ کا پیچھا کیا اور مقام مرو پر اس سے قتال کیا ۔ یہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب کے زمانے کی بات ہے ۔ ادھر ایرانی قوم کا وفد حضر ات حنف بن قیس کی خدمت میں پہنچا اور مسلمانوں سے معاہدہ کر لیا ۔ وفد اپنے ملک کے خزانے اور امول حضرت احنف بن قیس کے حوالے کر کے اپنے ملک میں واپس چلا گیا ۔اسی لئے کہتے ہیں کہ اصل فضل وکرم ، شان وخوبی اور اعلیٰ ظرفی وہ ہے جس کی گواہی دشمن بھی دیں ۔ (تاریخی واقعات)

اداریہ