Daily Mashriq


فاٹا اصلاحات ‘کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک

فاٹا اصلاحات ‘کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے دم رخصت فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد اسی ماہ کرانے کا اعلان کرکے قبائلی عوام میں امید کی تازہ لہر ضرور دوڑا دی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس ایک ماہ کے دوران وہ معجزہ کیسے رونما ہوگا جسے پورے دور حکومت میں رونما نہ کیا جاسکا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب جبکہ فاٹا میں اعلیٰ عدالتوں کا دائرہ کار بڑھا دیاگیا ہے تو حقیقت پسندانہ امر یہی نظر آتاہے کہ حکومت کو پوری توجہ اس کو روبہ عمل لانے اور عدالتی نظام کی تشکیل اور اس کو فعال بنانے پر دینی چاہئے۔ ایک مکمل عدالتی نظام کے قیام اور اس نظام کو عملی طور پر متعارف کرانے سے فعال بنانے تک کا عمل خاصا طویل اور صبر آزما مرحلہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ عمل بظاہر بھی آسان نہیں جبکہ اس کو روبہ عمل لانے کے مراحل پورے فاٹا میں عدالتی بنیادی اساس کا قیام ہائیکورٹ سے لے کر سول ججز تک کی تقرری اور ان سمیت ما تحت عملے کے ساتھ ساتھ ان ضروری لوازمات کا انتظام جس میں تھانے کی حوالات سے لے کر بڑے مقدمات کے لوازمات کے ایک مربوط عمل کی تشکیل کی ضروریات شامل ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فاٹا میں اصلاحات کے عمل کو بیک وقت متعارف کرانے کی بجائے پہلے عدالتی مشینری کی فعالیت کا اہتمام کیا جائے اس کے بعد ہی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشنز کا ٹائم فریم ضروری اقدامات کی تکمیل کے بعد کیا جائے۔ اس ضمن میں سیاسی جماعتوں میں مشاورت اور اتفاق رائے ہی کا فی نہ ہوگا بلکہ قبائلی عوام اور ان کے نمائندوں کی تجاویز کو بھی سمونے کی ضرورت پڑے گی جس کے لئے وقت درکار ہوگا۔ فاٹا کے انتظامی معاملات چلانے کے لئے پولیٹیکل انتظامیہ کی جگہ سول انتظامیہ کو وجود میں لانا بھی بتدریج اور مرحلہ وار ہی ممکن ہوگا۔ محولہ اور غیر محولہ امور و معاملات کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم کے بیان کا جائزہ لیا جائے تو اس کی سنجیدگی کا سوال ضرور پیدا ہوگا۔ حکومتی امور و معاملات ہتھیلی پر سرسوںجمانے کے نہیں ہوتے بلکہ پوری منصوبہ بندی کے متقاضی ہوتے ہیں۔ موجودہ حکومت کے اقدامات کو اس وقت ہی سنجیدہ قرار دیا جاتا جب ابتدا ہی سے ایک ایک کرکے اقدامات و انتظامات کی صورت میں پیش رفت ہوتی رہتی جس سے قبائلی عوام مانوس بھی ہوتے اور ان کو اپنے مطالبات کے حق میں بار بار احتجاج اور مظاہروں کی ضرورت نہ پڑتی یہ اپنی جگہ بہر حال قابل اعتراف امر ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں ہی فاٹا کو دہشت گردوں سے پاک کرایا گیا اور فاٹا کے عوام کی اپنے اپنے علاقوں کو واپسی ممکن ہوسکی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت جبکہ قبائلی علاقہ جات میں قیام امن کے بعد استحکام امن اور بنیادی اساس کی بحالی کا مرحلہ ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے اس پر پوری توجہ دے کر اس کو یقینی بنایا جائے ۔ فاٹا کے عوام کے بنیادی مسائل اور خاص طور پر کاروبار و روز گار کی بحالی کو اولیت دی جائے تاکہ نظام کی تبدیلی روبہ عمل لایا جائے تو فاٹا کے عوام کو اس نظام میں ڈھلنے میں مشکلات کی بجائے راحت کا احساس ہو۔ فاٹا اصلاحات کا بنیادی مقصد ہی عوام کی فلاح اور مسائل کا خاتمہ ہے۔ اگر عوام کو اس کا عملی طور پر احساس نہ ہوا تو وہ ایک اور مایوسی کا شکار ہوں گے۔ اگر دیکھا جائے تو ان کا ایسا ہونے کا پوری طرح خطرہ ہے۔ عوام کے مسائل کا حل جزوی اور واجبی طور پر نظام کی تبدیلی ہوسکتی ہے لیکن اس امر کی کوئی ضمانت نہیں کہ فاٹا اصلاحات عوام کے لئے باعث راحت ثابت ہوں اس کے لئے اقدامات ناگزیرہیں۔ فاٹا کے عوام ستم گزیدہ ہیں ان کو اصلاحات کے نام پر ہر بار بہلایا جاتا رہا ہے۔ فاٹا اصلاحات میں اب بھی ان کی پوری طرح رائے شامل نہیں۔ فاٹا اصلاحات کی ہر بار کی سفارشات داخل دفتر ہوتی رہیں۔ فاٹا کے عوام کو قبل ازیں اس طرح کی اصلاحاتی مساعی سے واسطہ پڑا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو قبائلی اصلاحات کے کئی مواقع آئے اور ضائع گئے۔2006ء صاحبزادہ امتیاز احمد رپورٹ کو فاٹا میں انتظامی اصلاحات میں پہلی جامع کوشش قرار دیا جاتا ہے لیکن آئین سے متعلق ترامیم پر کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔2008ء جسٹس (ر)میاں محمد اجمل رپورٹ میں برطانوی راج سے نافذ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن میں ترامیم تجویز کی گئیں لیکن ایف سی آر 2011میں سب کو شامل نہ کیا گیا۔2011صدر آصف علی زرداری نے سیاسی جماعتوں کو سرگرمیوں کی اجازت دی اور لوکل باڈیز ریگولیشن بھی تیار کیا گیا لیکن سیکورٹی صورتحال کی وجہ سے ان پر آج تک عمل درآمد نہ ہوسکا۔2015ء میں گورنر خیبرپختونخوا نے فاٹا ریفارمز کمیشن تشکیل دیا جس کی سفارشات پر بھی جزوی عمل درآمد ممکن ہوسکا۔اب بالآخر 2018ء کے پہلے ماہ قبائلی عوام کو ایک ٹھوس اور سنجیدہ صورت میں قومی دھارے میں شمولیت کا موقع مل رہا ہے۔ اس مرتبہ کی مساعی پہلی سنجیدگی سے ہوتا دیکھنا قبائلی عوام کے لئے یقینا خوشگوار تجربہ ہوگا۔ ممکن ہے یہ اصلاحات عوام کی امنگوں کے مطابق نہ ہوں اور لگتا بھی یہی ہے کہ جب اصلاحات کی پٹاری کھلے گی اور مختلف قسم کی بولیاں بولنے والوں کی حقیقت طشت از بام ہوگی تو شاید عوام کو اپنی توقعات کے برعکس صورتحال سے دو چار ہوجائیں۔ لیکن بہر حال اسے ایک اچھے اور سنجیدہ اقدام کے طور پر لیا جانا چاہئے جس سے قبائلی علاقہ جات کے عوامی مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوگی اور وہ خود کو قومی دھارے میں محسوس کرنے لگیں گے۔ اصلاحات کے متعارف ہونے کے بعد وقتاً فوقتاً اس میں تبدیلی و ترمیم کی گنجائش ہوگی اور فاٹا کے عوام جو نمائندے پہلی مرتبہ مکمل طور پر آزادانہ منتخب کرکے اسمبلیوں میں بھیجیں گے ان سے بہتری کی توقع ہی رکھنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں