Daily Mashriq

قانون سے احتراز کا رویہ

قانون سے احتراز کا رویہ

خیبر پختونخوا کی کیمسٹ برادری ہیلتھ ریگولیٹری بل جبکہ سکولوں کے مالکان نجی سکولوں کو قانون کے دائرہ کار میں لانے کی حکومتی مساعی اور عدالتی احکامات کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ہر دو طبقہ حکومتی اقدامات کو ظلم و تعدی سے تعبیر کرتا ہے اور اسے بلا جواز قرار دے کر ہراساں کئے جانے کا شاکی ہے۔ نجی سکولوں کے مالکان دو دن ہڑتال کراکے احتجاج کر چکے ہیں جبکہ ادویہ فروش شٹر ڈائون کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا رویہ ہے جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ محولہ دونوں طبقات بالخصوص اور معاشرے کے تقریباً تمام طبقات اور کاروباری برادری کسی قاعدے اور قانون کو ماننے اور اس پر عملدرآمد کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ان کا یہ رویہ اس لئے عجب نہیں گردانا جاسکتا کہ من حیث المجموع معاشرہ قانون پر عملدرآمد اور قانون کے احترام بارے بے حسی کا شکار ہے۔ قانون پر عملدرآمد کو کمزوری اور قانون شکنی کے بعد سزا سے بچنے کو قابل فخر گردانا جاتا ہے جس کی ایک بڑی وجہ خود محافظین قانون کی ملی بھگت اور بدعنوانیاں ہیں۔ انتظامیہ‘ محکمہ صحت اور ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کے عمال کے چھاپوں کو وہی عناصر ہی ظلم و تعدی گردانیں گے جو ان کی گرفت میں آئیں گے۔ قانون کے مطابق کاروبار کرنے والوں کو نہ تو ان کی سرگرمیوں پر اعتراض ہوگا اور نہ ہی ان کو اس کی شکایت کی ضرورت ہے۔ جو لوگ اصولوں کے مطابق کاروبار کرتے پائے جائیں اگر ان کو ہراساں کیا جائے تو ان کے پاس شکایت کے لئے فورمز موجود ہیں۔ قانون کو بچوں کاکھیل بنانے والوں میں خود محافظین قانون بھی شامل ہیں۔ سرکاری عملے کا اپنے فرائض کی انجام دہی میں رشوت و بدعنوانی اور دیگر دبائو سے متاثر ہو کر صرف نظر اختیار کرنے کا رویہ معاشر ے میں قانون کے احترام اور قانون پر عملدرآمد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ صورتحال جب تک تبدیل نہیںہوگی تب تک قانون پر عملدرآمد میں سنجیدگی کم اور قانون کے نفاذ کو ناکام بنانے کے حربے اور کوششیں زیادہ ہوں گی۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی اور دیگر متعلقہ منتظمین ہر قیمت پر نفاذ قانون کی سعی کریں گے اورقوانین کے نفاذ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

فوڈ سیفٹی کے قوانین سے آگاہی کے تقاضے

خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی طرف سے صوبے کے تمام رجسٹرڈ ہوٹل مالکان اور منیجرز کی تربیت کا اہتمام خوش آئند فیصلہ ہے۔ فوڈ سیفٹی لیول ون کی تربیت کے بعد ان کو حفظان صحت کے اصولوں سے مزید آگاہی ضرور حاصل ہوگی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ علاوہ ازیں اشیائے خوراک کی تیاری و فروخت سے وابستہ لاکھوں افراد کی تربیت کیسے ہوگی۔ خاص طور پر جو لوگ باقاعدہ ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں سے وابستہ نہیں فٹ پاتھ‘ ٹھیلے اور ریڑھی پر یا چھوٹی موٹی جگہوں پر کھانا پکا کر فروخت کرتے ہیں ان کے حوالے سے فوڈ سیفٹی اتھارٹی کیا لائحہ عمل اختیار کرے گی اس کی وضاحت نہیں۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ مستقبل میں ہوٹلوں میں کام کرنے والوں کو باقاعدہ تربیت لینی ہوگی اور وہی افراد ہوٹلوں میں کام کرسکیں گے جو تربیت یافتہ ہوں گے۔ اس حد تک تو معاملہ درست ہے لیکن ہمارے ہاں معاملات اس سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ لوگ پیشہ ورانہ تقاضوں اور تربیت کے مطابق کام کو بوجھ اور غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا متعلقہ حکام کے پاس بھی کوئی حل نہیں۔ ہر ہوٹل اور ریسٹورنٹ جا کردیکھنے اور اسے یقینی بنانے کی گنجائش نہیں لیکن بہر حال کوشش اور مساعی جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ عملے کی تربیت کے بعد تسلسل کے ساتھ ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کی کچن کا معائنہ اور تربیت یافتہ عملے ہی سے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کام کروانے کی پابندی کرانا ایک چیلنج ضرور ہے جسے قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ فوڈ سیفٹی اتھارٹی اس امر کو بھی یقینی بنانے پر توجہ دے گی کہ خوراک کی اشیاء کو لانے اور رکھنے میں حفظان صحت کے اصولوں کی پابندی کی جائے۔ فوڈسیفٹی اتھارٹی کے حکام کو چاہئے کہ وہ نہ صرف ہوٹلوں کے مالکان اورعملے کو تربیت دیں بلکہ گھریلو خواتین اور گھروں میں کام کرنے والے باورچیوں اور عملے کو بھی ضروری معلومات کی فراہمی کے لئے ٹی وی پر کوئی پروگرام پیش کریں اور میڈیا کے ذریعے حفظان صحت کے اصولوں اور خوراک کی تیاری و خورا ک کی اشیاء کی حفاظت کے طریقوں سے آگاہی دیں۔

متعلقہ خبریں