Daily Mashriq

افسوس کہ ہم اس عہد میں جینے پر مجبور ہیں

افسوس کہ ہم اس عہد میں جینے پر مجبور ہیں

نون لیگ کے رہنمائوں کے منہ سے پھول جھڑ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے لاہور جلسہ کو لے کر پنجاب کے وزیر قانون ثناء اللہ اور وفاقی وزیر مملکت عابد شیر علی نے نہ صرف تربیت کا حق ادا کیا بلکہ دو قدم آگے بڑھ کر وہ سب بھی کیا جس کا اس بازار والے تصور بھی نہیں کرسکتے۔ رانا ثناء اللہ کبھی پیپلز پارٹی کے ایم پی اے ہواکرتے تھے ایک جلسہ میں انہوں نے محترمہ کلثوم نواز اور ان کی دختر مریم بارے سوقیانہ جملے بازی کی تو، محترمہ بے نظیر بھٹو نے انہیں دھکے مار کر پارٹی سے نکال دیا۔ ثناء اللہ کی بازاری تقریر پر ان کے خلاف تھانہ شور کوٹ میں مقدمہ بھی درج ہوا تھا۔ وہ پھر نون لیگ کو پیارے ہوگئے اور شریف خاندان نے انہیں مخالفین کی کردار کشی کے لئے رکھ لیا۔ بد زبان، اورتکفیری مزاج وزیر قانون ان دنوں شریف خاندان کے آفیشل ترجمان ہیں۔ انہیں پیپلز پارٹی سے نکلالنے کے چند ہفتوں بعد محترمہ بے نظیر بھٹو لاہور آئیں تو سلمان تاثیر کی اقامت گاہ پر ایک پریس بریفنگ کے دوران میں نے ان سے سوال کیا۔ بی بی‘ رانا ثناء اللہ پرانے جیالے تھے آپ نے کوئی نوٹس دئیے بغیر ہی انہیں پارٹی سے نکال دیا؟ رسان کے ساتھ وہ بولیں‘ میرے صحافی بھائیو میں خود ایک خاتون ہوں‘ بیٹی‘ بہن‘ ماں کے طور پر شناخت رکھنے والی بے نظیر بھٹو کی غیرت نے گوارہ نہیں کیا کہ کوئی ایسا بد زبان میرے ساتھیوں میں شامل ہو جو خواتین کی عزت پر رکیک حملے کرے۔ انہوں نے اپنی بات کہہ کر سامنے بیٹھے ہوئیصحافیوں کا بغور جائزہ لیا اور دوبارہ بولیں۔ پیپلز پارٹی کسی حادثے کی پیداوار جماعت نہیں۔ طویل سیاسی جدوجہد اور قربانیوں کی تاریخ رکھنے والی جماعت ہے۔ سیاسی جماعتوں کے کارکن ہی اس کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ کوئی بھی حقیقی سیاسی جماعت اپنی صفوں میں ایسے بد زبانوں کو برداشت نہیں کرسکتی جو عورت کی عزت کرنے کو مردانگی کی توہین اور گالی دینے کو شان سمجھتے ہوں۔ ( دو عشرے بعد یادداشت کے سہارے سوال و جواب کو تحریر کیا ہے ۔ ممکن ہے الفاظ اوپر نیچے ہوگئے ہوں مگر محترمہ بے نظیر بھٹو کی گفتگو کا مفہوم سو فیصد یہی تھا)۔عابد شیر علی میاں نواز شریف کی اہلیہ کے بھانجے ہیں ان کی خوش کلامی کی شہرت بچپن میں گھر سے سکول لے جانے والے ٹانگے کے دنوں سے پر لگا کر پرواز کرتی آرہی ہے۔ سکول کالج‘ گلی‘ محلے اور فیصل آباد شہر کس کو معلوم نہیں کہ چودھری شیر علی کے اس بروا کی زبان دانیوں سے کوئی عزت دار شخص محفوظ نہیں رہ پایا۔ 29 اپریل کو لاہور میں منعقد ہونے والے تحریک انصاف کے جلسہ میں خواتین کی شرکت اور جوش و خروش کو مرضی کا رنگ دے کر دونوں نے جن ’’پاکیزہ‘‘ خیالات کا اظہار کیا وہ نئی بات ہر گز نہیں۔ خود میاں نواز شریف ایک سے زیادہ بار پی ٹی آئی کے جلسوں میں شرکت کرنے والی خواتین کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کر چکے ہیں جو ان کی اٹھان اور سیاسی تربیت سے مطابقت رکھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے بے نظیر بھٹو والے اولین دور حکومت میں میاں نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہوا کرتے تھے ان دنوں تقریباً ہر شام ان کی ماڈل ٹائون والی اقامت گاہ پر دربار سجایا جاتا تھا جہاں بڑے بڑے اسلام پسند صحافی‘ ادیب اور آزمودہ درباری محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ محترمہ کے بارے میں سوقیانے کلمات کہتے اور خواتین کی توہین پر مبنی لطیفوں میں ان دونوں کو کردار کے طور پر پیش کرکے داد وصول کرتے تھے۔ شام کے بعد لگنے والے ان درباروں میں جماعت اسلامی کے ایک اعلیٰ تربیت یافتہ رہنما حافظ سلمان بٹ اور ایک جید عالم دین کے صاحبزادے عطاء الحق قاسمی شریف برادران کی خصوصی توجہ کے مستحق ہوتے تھے۔ جناب قاسمی تو بعد ازاں اپنے سنائے لطاف اور گھڑے ہوئے واقعات کی بدولت سفیر بنے پھر الحمراء کے سربراہ ہوئے۔ اڑھائی برس پی ٹی وی کے چیئر مین بھی رہے اور ان دنوں پی ٹی وی کی چیئرمینی کے دور کی بھڑکیلی کہانیاں زبان زد عام ہیں۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے دو دن قبل اے پی این ایس کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران اپنے ساتھیوں کی بد زبانیوں پر توجہ دینے پر معذرت کرتے ہوئے کہا یہ میری جماعت کا کلچر نہیں۔ قربان جائیے اس سادگی پر۔ جو جماعت اپنی تشکیل کے دن سے سیاسی مخالفین کی خواتین پر جملے کسنے کی شہرت رکھتی ہو اس کے موجودہ ’’مالک‘کس بھولپن سے مٹی پائو پروگرام پرعمل کر رہے ہیں۔ اس کالم کے قارئین گواہ ہیں کہ خواتین اور سیاسی مخالفین بارے عامیانہ زبان برتنے پر ہمیشہ ہر کس و ناکس کی گرفت کی۔ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے سوشل میڈیا مجاہدین کی زبان درازیوں کو سیاسی اخلاقیات کے منافی قرار دیا۔ سیاسی عمل بد زبانیوں سے برباد ہوتے ہیں اور اعلیٰ سیاسی و اخلاقی اقدار کی پاس داری سے ان میں چار چاند لگتے ہیں۔ ہم سے بد قسمت لوگوں کو اس دورمیں بھی جینا پڑ رہا ہے جس میں بد زبانی صرف سیاسی لوگوں کی شناخت نہیں رہی بلکہ کچھ مذہبی رہنما بھی اس حوالے سے خاصے خود کفیل ہیں۔یہ افسوسناک صورتحال ہے۔ ان سطور میں عرض کرتا رہتا ہوں کہ سیاسی کارکنوں کے کلچر کو ایک منصوبے کے تحت ختم کرکے ان کی جگہ دیہاڑی داروں کو آگے لایاگیا۔ دیہاڑی دار کو اپنی دیہاڑی (حق خدمت) سے غرض ہوتی ہے جبکہ سیاسی کارکن کے پیش نظر اپنے نظریات۔ سماجی مرتبہ اور جمہوری عمل ہوتا ہے۔ وہ ہر بات سوچ سمجھ کر کرتا ہے جبکہ دیہاڑی دار جانتا ہے کہ مالک جتنا خوش ہوگا اتنا ہی مال اور توقیر ملے گی۔ سو کڑوا سچ یہ ہے کہ دین و دنیا کے میدان آج دیہاڑی داروں کے قبضے میں ہیں۔ انہیں صرف مال فروخت کرنے اور مالک کو خوش کرنے سے غرض ہے۔ اندریں حالات یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ اگر بد زبانیوں کے اس سلسلے کو روکا نہ گیا تو آئندہ الیکشن کا ماحول ان بد زبانیوں کی وجہ سے لہور رنگ ہونے کاخطرہ ہے کیا نون لیگ کے مالکوں اور ان مذہبی رہنمائوں کو جنہیں زبان و بیان پر کنٹرول نہیں خطرات کا احساس ہے؟ طالب علم کاجواب نفی میں ہے۔

متعلقہ خبریں