Daily Mashriq


عوام کی ترجیحات کیا ہیں؟

عوام کی ترجیحات کیا ہیں؟

عمران خان کے لاہور میں جلسے نے انتخابات کی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اگلے انتخابات کے حوالے سے عمران خان نے اس عظیم الشان جلسے میں اپنا منشور پیش کر دیا ہے۔ ان کے مقابلے میں بلاول بھٹو کا جلسہ اور ان کی باتیں خاصی مضحکہ خیز معلوم ہوتی تھیں۔ مسلم لیگ ن کو تو اپنی جان کے لالے پڑے ہیں۔ اس لئے ان کی جانب سے تو ابھی انتخابی مہم کا کچھ مناسب آغاز نہیں ہو سکا۔ مذہبی جماعتوں کے اکٹھ کی صورت میں ایم ایم اے نے بھی اپنے جلسوں کی ابتداء کر دی ہے۔ عمران خان کا گیارہ نکاتی منشور نہ صرف ایک اچھی کاوش ہے بلکہ اگر وہ اس پر کاربند رہیں تو عین ممکن ہے، حکومت ان کے ہاتھ آجانے کے بعد پاکستان کے حالات میں بہتری پیدا ہو سکے۔ لیکن پاکستان کے عوام خاصے من موجی قسم کے لوگ ہیں۔ غیر متوقع نتائج کی امید رکھنا ہی حقیقت کے قریب ترین ہوا کرتا ہے۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ مسلم لیگ ن ہی کیا، اکثر سیاسی جماعتوں کے لیڈران بدعنوان بھی ہیں اور مفاد پرست بھی لیکن اس کے باوجود یہ انہیں لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں۔ پاکستانی عوام کی طبیعت کی اس کیفیت کا تجزیہ کرنے کی بار بار کوشش کی گئی ہے۔ خود میں بھی ان کے مزاج کے اس رنگ کو سمجھنے کی کوششیں کرتی رہی ہوں اور آپ کے سامنے بھی اس امر کا اظہار کرتی رہی ہوں، کبھی یہ کیفیت شاہ پرستی کے زمرے میں شمار کی جاتی رہی، کبھی ذاتی مفادات کے دائروں کا رنگ بن کر ابھرتی رہی، کبھی خیال آیا کہ دراصل ہماری قوم، ایک نفسیاتی کیفیت کا شکار ہے جس کے زیر اثر یہ اپنے ہی دشمنوں کی محبت میں مبتلا رہتی ہے۔ شاید اسی لئے تو یہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی جیسی جماعتوں کے چنگل سے آزاد نہیں ہوتے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ لوگ سب جانتے بوجھتے اپنے ہی خلاف کیا فیصلہ کرینگے، کوئی نہیں جانتا۔ عمران خان اپنے گیارہ نکاتی منشور میں کئی اہم باتوں کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ ہم بحیثیت قوم نہ تو سچ سننے کے عادی ہیں اور نہ ہی کسی سیاستدان کی بات پر یقین کرتے ہیں۔ جن باتوں کا ذکر عمران خان نے کیا ہے وہ ساری ہی بہت اہم ہیں۔ کئی ایسے معاملات جن کی جانب کوئی دھیان نہیں دیتا وہ ہمارے مستقبل کی انتہائی اہم ضروریات ہیں۔ درختوں کی کمی کے بارے میں کوئی غریب قوم کبھی متفکر نہیں ہوتی حالانکہ درختوں کی کمی یا زیادتی سے موسم ہی بدل جایا کرتے ہیں۔ میں ایک عرصے سے آپ کے سامنے اپنی گزارشات پیش کر رہی ہوں سی پیک میں ماحولیاتی آلودگی اور درختوں کے کردار کو کس بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے اور وہ ہمارے مستقبل پر کیسے ہولناک نتائج مرتب کر سکتا ہے، میں نے کئی بار اس حوالے سے انتہائیتشویش کا اظہار کیا ہے ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کے لیڈران کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس ملک پر کیسے عذاب آئیں۔ وہ تو ٹڈی دل کی طرح کھڑی فصلوں پر حملہ کرتے ہیں اور جب سب تباہ کر دیں گے تو دوسرے ملکوں کو سدھار جائیں گے۔ انہیں یہ احساس تک نہ ہوگا کہ وہ اپنے پیچھے بائیس کروڑ کی ایک قوم سسکتی چھوڑ آئے ہیں۔ ان میں سے اکثر بڑے لیڈران کے دوسرے ملکوں میں کاروبار بھی ہیں اور آف شور کمپنیاں بھی۔ وہ یہاں بھی شہزادوں کی سی زندگی گزارتے ہیں اور ہمیں ختم کر دینے کے بعد بھی انہیں ذرہ برابر قلق نہ ہوگا۔

عمران خان کے جلسے کے حوالے سے مسلم لیگ ن نے جیسی بھی باتیں کیں۔ رانا ثناء اللہ حسب روایت لغو بات بھی بکتے رہے لیکن اس حقیقت سے مفر کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ایک بہت بڑا جلسہ تھا ۔ مسلم لیگ (ن) کے گڑھ میں اتنا بڑا جلسہ کرنا بھی ایک کمال تھا اور سیاسی طاقت کا مظاہرہ تھا ۔ اسی دوران بلاول بھٹو نے بھی جلسہ کیا ۔ ان کی تقریر سُننا تو ایک طر ف ، انکے لہجے کی معصومیت اور نسوانیت ان کی بات کی جانب دھیان ہونے ہی نہیں دیتی ۔ جناب سراج الحق اگر چہ میرے پسندیدہ سیاست دان ہیں لیکن عمران خان کے منشور کے سامنے ، ایم ایم اے کچھ ماند سی رہی ۔ کتنی ہی باتیں ایسی ہیں جو جناب سراج الحق نے بڑی خوبصورتی سے ، بہت کام کی کہیں لیکن ایم ایم اے میں دوبارہ شامل ہونے کی سیاسی غلطی اب کی بار جماعت اسلامی کو لے ڈوبے گی ۔ ابھی تک شاید مذہبی جماعتوں کے لیڈران ہوا کا رُخ سمجھنے میں کامیاب نہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ اب کی بار احتساب صرف ایک جانب سے شروع ہوا ہے لیکن اس چھاننی میں سے ساروں کو ہی گزرنا ہوگا ۔ اورجب یہ ہوگا تو کئی بڑے لیڈران اس دوڑ سے ہی فارغ ہو جائینگے ۔ جناب سراج الحق کے کردار کی قسم تو عدالت عالیہ نے کھالی تھی ، جماعت اسلامی کے لیڈران کی اکثریت کی یہی کیفیت ہے لیکن ایم ایم اے کی بات تو نہیں کی جاسکتی ۔ اس میں کون کون شامل ہے اور انکے حوالے سے محتسبوں کے ذہن میں کیسے کیسے شکوک وشبہات موجود ہونگے ، ہم سب ہی جانتے ہیں ۔ پاکستان اس وقت تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے ۔ ایسے میں ایک مضبوط سیاسی حکومت کا آئندہ انتخابات کے بعد برسر اقتدار آنا بہت اہم ہے تاکہ سیاسی عمل کو احسن طور سے آگے بڑھایا جا سکے اور احتساب بھی مکمل ،جامع اور بلا امتیاز ہوسکے ۔ جس انتخابی مہم کا آغاز ہو چکا ، اسکے اور نتائج کے درمیان ابھی خاصا فاصلہ باقی ہے نتائج کی امید اپنی جگہ لیکن پھر بھی عوام کی ترجیحات کا خوف تو باقی ہے۔

متعلقہ خبریں