Daily Mashriq


گورنر ذمہ داری پو ری کر یں

گورنر ذمہ داری پو ری کر یں

ان دنو ں شاید پر ویز خٹک جتنے پر یشان سے لگ رہے ہیں اتنے نو از شریف کے چہر ے پر تفکر ات کی جھریاں نظر نہیں آرہی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی ہر مہم کی ذمہ داری منحنی جسامت کے خٹک پر آن پڑی ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ خٹک ہمیشہ حکمرانی کی خو بو سے نابلد رہے ہیں وہ یا تو تلوار کے دھنی رہے ہیں یا پھر تسکین آمیز دنو ں میں اپنی ثقافت کے جو ہر دکھانے میں گزرتی ہے۔ حکمرانی سید ھے سادے لوگوں سے کیا علاقہ رکھتی ہے۔ دھرنا نیا زی کاہو اس کی کا میابی کی ذمہ داری پرویز خٹک کے ہی کندھو ں پر آگر تی ہے لا ہور کا جلسہ ہو تب بھی اس کو تاریخی بنا نے میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے کا ندھے پر بوجھ ہے ، مگر جلسے میں پرویز خٹک کے کارنا مو ں کی بجا ئے نمل یونیورسٹی ، ورلڈ کپ کرکٹ فائنل میچ اور شوکت خانم اسپتال کو کارنامے بنا کر اس کا کریڈٹ عمر ان خان نیازی کو دینے کے لیے ڈاکو منٹریز سکرین کی زینت بنائی جا تی ہیں آخر پرویز خٹک نے پانچ سالہ حکومت میںکوئی عظیم کا م تو کیا ہوگا مگر اس کا ذکر کسی سکرین کی زینت نہ بن پایا البتہ یہ ہو تا رہا ہے کہ عمر ان خان کے صوبہ کے پی کے لیے اعلا نا ت اکثر پر ویز خٹک کے لیے درد سر بن جا تے ہیں مثلاًکچھ عرصہ پہلے انہو ں نے پی ٹی آئی کی کا رکر دگی کے بارے میں فرمایا تھا کہ صوبہ کے پی کے میں ایک ہی شخص پر ویز خٹک ہے جس کو کوئی تجر بہ ہے ساتھ ہی یہ فرمایا کہ شکر ہے کہ ان کو وفاق میںحکومت نہیں ملی ورنہ بری طرح ناکا می کا سامنا کرنا پڑ جا تا ۔پرویز خٹک کے پا س اپنے لیڈر کے لیے جو اب دینا ممکن ہی نہ تھا چنا نچہ اس کا تو ڑ انہوں نے اس طرح کیا کہ قومی میڈیا سے وابستہ افرادکے وفد کو بلا کر اپنی حکومت کی عمد ہ کا رکر دگی سے آگا ہ کیا تاکہ عمر ان خان کا پید ا کردہ تاثر کو زائل کیا جائے۔اب پھر ایک پھٹک پڑ گئی ہے کہ بکنے والو ں کا احتساب جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کاصوبائی اسمبلی میں اکثریت کھو جا نے کاخوف ہے ۔ نئی افتا د پارٹی کے چیئرمین عمر ان خان نیا زی نے یہ ڈال دی ہے کہ یہ اعلا ن یکطر فہ کر دیا ہے کہ بجٹ موجو دہ اسمبلی پیش نہیں کر ے گی آنے والی منتخب حکومت بجٹ پیش کرے گی منطقی طور پر بات اچھی لگتی ہے مگر اس کا آئین اور قانو ن سے کوئی لگا ونہیں ہے کیو ں کہ اگر ایک دن کی بھی حکومت ہو تو ا س کو وہ تما م امو ر نمٹانے پڑ تے ہیں جو وقت کے مطا بق متقاضی ہو ا کر تے ہیں۔ اگر صوبے کا بجٹ نئی حکومت پر چھو ڑ دیا جا تا ہے تو عبوری حکومت یہ مینڈیٹ نہیںر کھتی کہ وہ بجٹ پیش کر ے۔ یکم جو لائی سے نیا مالی سال شروع ہو جائے گا تو بجٹ کے بغیر عبوری حکومت ہو یا کوئی بھی حکومت ہو وہ اخراجا ت کس مد سے پو را کر ے گی ۔اب اس سے بھی بڑی مشکل جماعت اسلا می نے ڈال دی ہے اگرچہ جماعت اسلا می کے سربراہ سراج الحق فرما رہے ہیں کہ حکومت سے بھی نکل کر تحریک انصاف کا ساتھ دیں گے اور بجٹ منظور کرانے میں تعاون فراہم کر یں گے ، حیر ت کی بات ہے کہ ایک طر ف حکومت چھوڑ رہے ہیں دوسری جانب پی ٹی آئی سے اس قدر تعاون کریں گے کہ پی ٹی آئی جو عملا ًاکثریت کھو چکی ہے پھر بھی اس کی حکومت کو بر قرار رکھیں گے جماعت اسلامی کے بارے میں یہ تاثر رہا ہے کہ وہ ایک با اصول جما عت ہے اور کبھی اصولو ں پر سمجھوتہ نہیں کر تی پھر وہ پی ٹی آئی کی حکومت کو کس اصول کے تحت آکسیجن فراہم کر رہی ہے ۔ اس وقت جما عت کی جو پالیسی نظرآرہی ہے اس کے بارے میں ممتا ز طنز نگار شاعر اکبر آلہ آبادی کے سرسید احمد خان کے بارے میں خیالا ت سامنے آرہے ہیں ۔سید صاحب کے افکار کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ سرسیداحمد خان پتلو ن چڑھا کر اور شیر وانی پہن کر اس پر ٹائی آویز اں کر کے خدا کو بھی اور صنم کو بھی خوش رکھنے کی مساعی کر رہے ہیں۔ کیا چمتکا ری ہے ۔ اے این پی کے انتہا ئی مدبر رہنما میا ں افتخار حسین نے صوبائی اسمبلی کی حالت زار کے پیش نظر گورنر کے پی کے اقبال ظفر جھگڑا سے مطالبہ کر دیا ہے کہ پر ویز خٹک کو اسمبلی سے اعتما د کا ووٹ لینے کا کہا جائے ۔ اقبال ظفر جھگڑ ا ایک تو مرنجا مرنج شخصیت ہیں وہ مسلم لیگ ن کے مر کزی سیکر ٹر ی جنرل ہو کر پا رٹی کے اہم رہنما ؤں کی فہر ست میں اپنا نا م درج نہیں کر ا سکے تھے ، اگر چہ کے پی کے کا گورنر فاٹا کے ایگزیکٹیو ہو نے کے نا تے پاکستان کے دیگر صوبو ں کے گورنر ز کے مقابلے میں زیادہ پا ور فل ہو تا ہے مگر ان کو یہ ہی گما ن ہے کہ وہ ممنون حسین کی ہی طرح کے اختیار ات کے حامل ہیں ، بس وہ اسی میں خوش ہیں کہ گورنری ان کے ہا تھ لگی ہوئی ہے چنا نچہ پارٹی کے چند ہمنوا ؤں کو گورنر ہا ؤس میں جمع کر لیا ہے وہ بھی ایسا ویسا ہی تجر بہ رکھتے ہیں جبکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ جب اسمبلی میں اکثریت کا قضیہ پید ا ہو ا تھا تب ہی وہ اپنی آئینی ذمہ داری پو ری کر تے اور پر ویز خٹک سے اعتما د کے ووٹ کا مطالبہ کر تے ۔ مسلم لیگ ن ہو ق ہو یہ اب ت پ کوئی سی بھی ہو ایسے ہی خواب خرگوش میں پڑی رہتی ہے یہ تب بید ار ہو تی ہے جب پانی سر پر سے گزر جاتا ہے یہ گورنر کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ سے کہے کہ اعتما د کا ووٹ لے ۔ حیر ت کی بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کے ترجما ن شوکت یو سف زئی فرما تے ہیں کہ پی ٹی آئی اکثریت کھو نے کے با وجود اسمبلی نہیں توڑ ے گی ، ظاہر ہے کہ جب اکثریت نہیںرہ گئی تو وہ اسمبلی کس قانو ن یا آئین کے کس آرٹیکل کے تحت توڑنے کا اختیا ر رکھتے ہیں۔ پھر تو یہ ہوگا کہ گورنر کسی دوسری پا رٹی کو اکثریت ثابت کر نے کو کہے گا اگر کوئی جما عت اکثریت ثابت کر نے کے قابل نہ ہوئی تو گورنر راج ہی نا فذ ہو سکتا ہے اور اس سے ایک نئی صورت حال جنم لے گی کیو ں کہ رواں ما ہ ہی تما م حکومتو ںکی معیا د بھی پوری ہورہی ہے ۔

متعلقہ خبریں