Daily Mashriq


شہر میں جو بھی ہوا ہے خطا میری ہے

شہر میں جو بھی ہوا ہے خطا میری ہے

انسان خطا کا پتلا ہے۔ غلطیاں کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اگر بابا آدم اور اماں حوا غلطی نہ کرتے تو آج ہم سب کہہ رہے ہوتے مجھے کیوں نکالا ۔

گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں

وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے

میدان جنگ میں شہسوار اس لئے گرتے ہیں کہ وہ شہسواری کے گر سے واقفیت نہیں رکھتے یعنی وہ شہسوار نہیں ہوتے اور اپنے آپ کو شہسوار ثابت کرنے لگتے لیکن بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ اچھے خاصے شہسوار ہوتے ہوئے بھی گر جاتے کیونکہ ان سے دانستہ یا نادانستہ کوئی غلطی سرزد ہوجاتی ہے وہ لوگ کمال کے ہوتے ہیں جن سے غلطیاں سر زد نہیں ہوتیں ایسے لوگوں کو متقی اور پرہیز گار کہا جاتا ہے ان کو نہ صرف انسان کہلانے کا حق حاصل ہوتا ہے بلکہ ایسے ہی لوگ سچے مسلمان، مومن، عارف اور سالک بن کر تصوف کے سارے مدارج طے کرکے اللہ تعالیٰ تک پہنچے ہوئے ولی اور بزرگ کہلانے کا اعزاز حاصل کرلیتے ہیں۔ یہ میں نے جو انسان کے مسلمان اور مسلمان کے مومن بننے کے مدارج بتائے ہیں ان سے آگے یا اوپر جانا اتنا آسان نہیں ہے۔ کیونکہ بقول حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم متقی یا پرہیز گار اس بندے کو کہتے ہیں جو اپنے چہار سو بکھری خطاؤں اور گناہوں کی جھاڑیوں سے یوں گزرے کہ ایک کانٹا بھی اس کے وجود کو خراش نہ پہنچاسکے تو ایسا بندہ بشر پرہیز گار کہلانے کا حقدار ٹھہرے گا پہلے پہل وہ آدمی سے انسان بنے گا۔ لیکن آہ کہ آدمی کا انسان بننا بھی اتنا آسان نہیں۔ بقول کسے

سرائے زیست کا عالم بڑا سنسان ملتا ہے

بڑی مشکل ہے مشکل سے کوئی انسان ملتا ہے

ہم سب مسلمان ہونے کے دعوے دار ہیں۔ محسن انسانیتؐ کے پیروکار ہیں لیکن ہم میں سے کتنے اپنے سینے میں انسانیت کا درد رکھتے ہیں۔ بلا جواز کسی کافر کا سر تن سے جدا کردینے والے کو ہم بھلا کیسے انسان کہہ سکتے ہیں۔ اگر آپ نے اپنے اخلاق یا حسن سلوک سے کسی کافر کو مسلمان کردیا یا کسی بھٹکے ہوئے کو راہ راست پر لگا دیا تو یقیناً آپ ایک اچھے انسان ہی نہیں اچھے مسلمان بھی ہیں بلکہ آپ کو مبارک ہو کہ آپ مسلمان سے بڑھ کر شاعر مشرق دانائے راز حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے مومن کے درجے پر فائز ہوکر ان لوگوں کی قبیل میں شامل ہیں جن کے متعلق بانگ درا کی ایک ایک پکار رطب اللسان بن کر کہتی سنائی دیتی ہے کہ

نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

ہم آقائے نامدار حضرت محمد مصطفی ﷺ کے امتی، کلمہ گو مسلمانوں کواچھے اور سچے مسلمان بننے کے لئے اچھا انسان بن کر مومنین کے درجے پر پہنچنے کا شرف حاصل کرنا ہوگا۔ پر اس کا کیا کیا جائے کہ آدمی سے انسان بننے کے بعد بھی ہمیں انسان خطا کا پتلا ہے کہ مصداق غلطیوں اور خطاؤں میں گھر جانے کا اندیشہ لاحق رہتا ہے۔ مگر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ غلطی کرنے والے سے سرزد ہو جانے والی غلطی اس وقت ریت پر لکھی تحریر کی طرح حرف غلط ثابت ہوکر مٹ جاتی ہے جب کوئی غلطی کرنے والا اپنی غلطی کو تسلیم کرکے اس کا اعتراف کرلے۔ اللہ کریم کی بارگاہ میں سنگین سے سنگین غلطی کرنے والوں کے لئے ہمہ وقت توبہ کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔ جو بندہ کوئی جرم یا خطا کرکے رب ذیشان سے گڑ گڑا کر عاجزی سے اپنی خطاؤں کی معافی کا طلبگار ہوتا ہے اور آئندہ ایسی کوئی بھول چوک یا خطا نہ کرنے کا عہد کرتا ہے تو اس کے ڈوبے مقدر سنور جاتے ہیں اور وہ صاف ستھرا اور پاک دامن ہوکر دین و دنیا کی بھلائی کا حقدار بن جاتا ہے۔ اور جو بندہ اپنی کسی غلطی کو تسلیم کرنے یا اس کا عتراف کرنے کی بجائے مجھے کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا کہتے ہوئے شہر کی طرف بھاگنے لگے یا بیچ چوراہے میں آن کھڑا ہوجائے تو سمجھ لیجئے کہ وہ اپنی غلطی کو کسی طور بھی تسلیم نہیں کررہا۔ غلطی کو تسلیم نہ کرنا یا غلطی کا اعتراف نہ کرنا از خود بہت بڑی غلطی ہے۔ اس موضوع پر بات کرتے وقت روزنامہ مشرق پشاور کے 2 مئی 2018 ء کے ادارتی صفحہ پر شائع ہونے والے پروفیسر طہٰ خان کے قطعہ نے راقم السطور کو تڑپا کے رکھ دیا جانے آپ کس کو پیش نظر رکھ کر کہہ رہے تھے

سونے کا کوئی وقت کہاں جاگتے رہو

خطرہ ہے چوریوں کا یہاں جاگتے رہو

جب ساراگھر کو لوٹ چکا وہ شریف چور

بولا یہ جاتے وقت، میاں جاگتے رہو

مجھے تو اس قطعہ میں پاکستانی عوام کے لئے مشتری ہوشیار باش کا جو پیغام ملا ہے اس کا مضمون اپنی سادگی کی سزا پانے والے مظلوم و عوام کو پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ کسی سے کوئی غلطی ہوئی سو ہوئی، وہ اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنے کی لاکھ ہٹ دھرمی کرتا رہے لیکن دیکھنا تم سے ایک بار پھر سو جانے کی غلطی سر زد نہ ہوجائے ۔ورنہ فرحت احساس کی طرح ہم میں سے ہر کسی کو کہنا پڑ جائے گا کہ

ہر گلی کوچے میں رونے کی صدا میری ہے

شہر میں جو بھی ہوا ہے خطا میری ہے

متعلقہ خبریں