Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

ایک مرتبہ بخار اکے بادشاہ نوح بن منصور بیمار ہوگئے۔ شاہی طبیب نے بہت علاج کیا ، لیکن مرض کی شدت میں کمی نہ آئی ۔ چنانچہ شاہی طبیب نے اعلان کرادیا کہ جو شخص بادشاہ کا علاج کرے گا ، اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا ۔ اعلان سن کر بہت سے لوگ علاج کرنے کی غرض سے آئے ، لیکن کامیاب نہ ہو سکے ۔ آخر ایک دن سترہ سالہ لڑکا دربار میں حاضر ہوا ، اس نے بادشاہ کا علاج کرنے کی خواہش ظاہر کی ۔ شاہی طبیب اسے دیکھ کر بولا : ’’ بڑے بڑے حکیم بادشاہ کا علاج کر کے تھک گئے تم تو ابھی لڑکے ہو ۔ ‘‘ یہ سن کر لڑکے نے کہا ـ: ’’ میں تو اتنا جانتا ہوں کہ کوئی مرض لاعلاج نہیں ۔ ‘‘ آخر اسے علاج کی اجازت مل گئی ۔ علاج شروع ہوا ۔ لڑکے کے علاج سے بادشاہ کے مرض میں کمی آتی گئی ۔ یہاں تک کہ وہ بالکل تندرست ہوگیا ۔ وہ بہت خوش ہوا ۔ اس نے لڑکے سے کہا : مانگو کیا مانگتے ہو؟

اب ہر شخص کے ذہن میں تھا کہ یہ لڑکا ہیرے جواہرات مانگے گا یا آدھی سلطنت کا مطالبہ کرے گا ۔ لیکن لڑکے نے کہا : ’’بادشاہ سلامت ! آپ مجھے اپنی لائبریری سے چند عظیم کتابیں پڑھنے کے لیے دے دیں ‘‘۔ لڑکے کی خواہش سن کر سب حیران رہ گئے ۔ یہ سترہ سال کا لڑکا بعد میں عظیم طبیب ’’بو علی سینا ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا ۔ چنانچہ سلطان نے خوش ہو کر انعام کے طور پر انہیں ایک لائبریری کھول کر دی ۔

بوعلی سینا کا مکمل نام علی الحسین بن عبداللہ الحسن بن علی بن سینا (980ء تا1037ء ) ہے ، جو دنیا ئے اسلام کے ممتاز طبیب اور فلسفی ہیں ۔ ابن سینا یا ابی سینا فارس کے رہنے والے ایک جامع العلوم شخص تھے ، جنہیں اسلام کے سنہری دور کے سب سے اہم مفکرین اور ادیبوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔ بو علی سینا کو مغرب میں Avicennaکے نام سے جانا جاتا ہے ۔ ان کا لقب ’’الشیخ الرئیس ‘‘ ہے ۔ اسلام کے عظیم تر مفکر ین میں سے تھے اور مشرق کے مشہور ترین فلسفیوں اور اطباء میں سے تھے ۔

ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے 450کتابیں لکھیں ، جن میں سے قریباً 240ہی بچی ہیں ، ان میں سے فلسفہ پر 150اور ادویات پر 40تصنیفات تھیں ۔ ان کی سب سے مشہور کتابوں میں ’’کتاب شفایابی ‘‘ جوایک فلسفیانہ اور سائنسی انسائیکلوپیڈ یا اور ’’طبی انسائیکلوپیڈیا تھا ، شامل تھیں ۔ ان میں بہت چیزیں 1650تک قرون وسطیٰ کی یونیورسٹیوں میں ایک معیار ی طبی کتب کے طور پر پڑھائی جاتی رہیں ۔

1973ء میں ابن سینا کی کتاب ’’طبی قوانین ‘‘ نیویارک میں دوبارہ شائع کی گئی ۔ فلسفہ او رطب کے علاوہ ، ابن سینا نے فلکیات ، کیمیا،جغرافیہ اور ارضیات ، نفسیات ، اسلامی الہٰیات ، منطق ریاضی ، طبیعات اور شاعری پر بھی لکھا ہے ابن سینا کو طبی دنیا کا آفتاب بھی کہا جاتا ہے ۔

(بحوالہ اطباء کے حیرت انگیز واقعات)

متعلقہ خبریں