Daily Mashriq

مدارس‘ ڈاکٹرز اور بعض سیاسی معاملات

مدارس‘ ڈاکٹرز اور بعض سیاسی معاملات

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عالم اسلام اور پاکستان میں خصوصاً مدارس کی بہت زیادہ اہمیت اور ضرورت ہے۔ ہندوستان میں جب انگریز کے قدم نہیں پڑے تھے تب بھی مسلمانوں کی تعلیم وتربیت کیلئے علماء اور اساتذہ مدارس میں پڑھانے کیلئے موجود تھے اور حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں دین اسلام کی آمد‘ ترویج واشاعت اور حکومت میں صوفیائے کرام اور علماء حق کا بہت بڑا کردار تھا اور اب بھی ہے۔ انگریزی راج کے قیام کے بعد علماء ہند نے ہندوستان کے صنم کدہ میں جس طرح مسلمانوں کے دینی وملی تشخص کی حفاظت کیلئے مدارس اور مساجد کے مورچوں میں بیٹھ کر دفاع کیا وہ بینظیر وبے مثال ہے اور تاریخ میں ان کا یہ شاندار کردار ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔ لیکن یہ بات ایک روشن حقیقت ہے کہ قیام پاکستان کے بعد مدارس کے علماء واساتذہ کے کردار کے اعتراف کے باوجود نصاب وکردار مدارس میں جس تبدیلی کی ضرورت تھی اس کے بارے میں گزشتہ ستر برسوں میں بالعموم اور پرویز مشرف کے دور سے آج تک بالخصوص آوازیں تو اُٹھتی رہی ہیں لیکن اس پر عمل درآمد آج تک ممکن نہیں ہوسکا۔مدارس کے حوالے سے میرے نزدیک دو باتیں بہت اہم ہیں‘ ایک یہ کہ پانچ وفاقوں کے بجائے ایک مرکزی حکومتی ادارے یا اداروں (ایچ ای سی‘ ایچ ای ڈی‘ بورڈز وغیرہ) کیساتھ منسلک ہو کر مسلکی بنیادوں کے بجائے ملک وقوم اور امت وملت کی ضروریات اور عالمی تقاضوں کے مطابق نصاب میں ایسی تبدیلیاں کی جائیں کہ مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ کسی طرح بھی پاکستان کے کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے کے طلبہ سے نہ کم ہوں اور نہ ہی کسی وجہ سے احساس کمتری وکہتری میں مبتلا ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ اگر مدارس کے طلبہ کو دینی علوم کے موجودہ نظام کیساتھ جدید علوم بھی صحیح معنوں میں پڑھنے پڑھانے کے مواقع فراہم ہوئے تو یہ طلبہ پاکستان کے دفاتر میں اہم مناصب اور عہدوں تک بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچ کر بہترین افراد (بشمول بیوروکریسی وغیرہ) ثابت ہوسکتے ہیں۔ مدارس کو حکومتی اداروں کے تحت لانے سے جہاں طلبہ کو آگے جانے کے مواقع ملیں گے وہاں ان کے اساتذہ کو چار پانچ ہزار ماہوار وظیفہ اور صبح وشام کی دال روٹی کے بجائے مناسب تنخواہ اور مراعات ملیں گی وہاں یہ تفریق بھی ختم ہوجائے گی کہ یہ کالج کے طلبہ ہیں اور یہ مدارس کے‘ اور ان میں بنیادی طور پر ایک دوسرے پر کوئی فضیلت حاصل ہے۔ اسی طرح جامعات (یونیورسٹیوں) اور سکول کالجوں کے طلبہ کو مغربی مضامین وعلوم کے مغرب زدہ اساتذہ کے ذریعے تڑکے لگانے کے بجائے قرآن وسنت کی بنیادی تعلیمات کی تدریس لازمی ہونی چاہئے۔ مکرر عرض ہے کہ اب اس پس منظر اور خیال وتصور سے باہر نکلنا چاہئے جس میں علی گڑھ ودیوبند کے تعلیمی ادارے قائم ہوئے تھے۔ اس بات سے شاید ہی کوئی انکار کرسکے کہ ان دو تعلیمی اداروں نے ہندوستان میں مسلمان قوم کو فکری وسیاسی لحاظ سے جن دو متوازی اور مخالف (نہ ملنے والے) دھاروں میں تقسیم کیا تھا اس نے نہ صرف اس زمانے مسلمان قوم کو بحیثیت قوم نقصان پہنچایا بلکہ اس کے اثرات آج تک چلے آرہے ہیں۔

آج کے کالم کا دوسرا نکتہ ڈاکٹرز کی ہڑتال ہے‘ کاش! علمائے امت اور مفتیان کرام خطبات جمعہ اور میڈیا کے ذریعے سرکاری ملازمین کو بالعموم اور ڈاکٹروں اور اساتذہ کو اسلام کی یہ تعلیم سکھاتے کہ اسلامی تعلیمات (قرآن وحدیث) میں کہیں بھی ہڑتال نام کی نہ کوئی چیز موجود ہے اور نہ اس کا جواز ہے۔ ہاں‘ آپ اپنے جائز مطالبات کیلئے احتجاج کریں (اگرچہ اسلام میں اس کی بھی گنجائش نہیں) لیکن اس طرح کہ عوام پر اس کی ضد نہ پڑے اور پھر غضب خدا کا مسیحائے قوم (جو دکھی انسانیت کی خدمت کا دم بھرتے ہوئے ڈاکٹر بنے ہوتے ہیں) مریضوں اور ان کے لواحقین کو او پی ڈیز اور ایمرجنسی وہسپتالوں میں کراہتے اور تڑپتے چھوڑ کر سڑکوں اور چوراہوں پر آکر ٹریفک کی روانی بند کرکے عوام کو مصیبت اور تکلیف میں مبتلا کرتے یہ گمان کرتے ہیں کہ عوام ان کے بارے میں کلمۂ خیر پڑھیں گے اور پھر ان کو یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ جو دن ہڑتال میں گزرے ان کی تنخواہ بھی حکومت سے لے لیتے ہیں‘ حالانکہ اخلاقیات واصول کا تقاضا تو یہ ہے کہ جس دن کام نہیں کیا ہے اس کی تنخواہ بھی نہ لیں۔

ویسے تو سارے سرکاری ملازمین کو اس صدموں‘ المیوں اور سانحات کے مارے ملک میں جو کچھ ملتا ہے اس پر شکر ادا کرنا چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ ہوسکتا ہے اس ملک میں ان سے زیادہ کوالیفائیڈ اور اہل لوگ بیروزگار ہوں اور ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ پاکستان جن مشکل معاشی حالات سے گزر رہا ہے کم ازکم ترس کھاتے ہوئے موجودہ تنخواہوں اور مراعات پر گزارہ کرتے ہوئے آنے والی نسلوں کیلئے ’’اچھا پاکستان‘‘ بنانے اور چھوڑنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ یہی بات کم وبیش اس ملک کے اساتذہ کیلئے بھی ہے۔ استاد تو خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا وارث ہوتا ہے‘ اس کو جو ملے تو الحمدللہ کہے اور باقی معاملات اللہ تعالیٰ پر چھوڑے کہ ان کا اجر اللہ رب العٰلمین کے ذمہ ہے‘‘۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہماری نااہل حکومتیں سرکاری ملازمین کے ایک شعبے کو اپ گریڈیشن‘ مراعات وغیرہ دے دیتے ہیں تو دوسرے شعبوں کے ملازمین بھی مطالبہ کرتے ہیں اور اس قسم کے سارے مسائل حکومت کی نااہلی‘ ملازمین کی کام چوری اور چھینا جھپٹی اور عادلانہ قانون کے نفاذ کے فقدان کے سبب ہوتا ہے‘ اللہ ہم پر رحم فرمائے۔

متعلقہ خبریں