Daily Mashriq


گئے دنوں کی یادیں

گئے دنوں کی یادیں

قیام پاکستان کے چند برس بعد کا زمانہ ہے، پشاور کی آبادی فصیل کے اندر محدود تھی، شام ہوتے ہی فصیل کے بلند وبالا دروازے بند کردئیے جاتے تھے، بڑے گیٹ کے اندر بنا ہوا چھوٹا دروازہ ایمرجنسی آمد ورفت کیلئے تھا۔ گھنٹہ گھر، چوک یادگار، قصہ خوانی بازار، خیبر بازار، چوک ناصر خان، کریم پورہ بازار، شاہین بازار، مینا بازار پشاور شہر کا دل کہلاتے تھے۔ خیبر بازار سے آگے بڑھیے تو شعبہ بازار، نمک منڈی، جہانگیر پورہ، ڈبگری بازار تھے مگر یہ آج کی طرح پرہجوم نہیں تھے۔ ڈبگری بازار تو کسی گاؤں کے اُداس بازار کا منظر پیش کرتا تھا۔ جہانگیر پورہ بازار میں گنتی کی چند دکانیں تھیں جن میں چند کباڑی بیٹھتے تھے جو پرانے کپڑے وغیرہ بیچا کرتے تھے، اس وقت آج کی طرح لنڈا بازار نہیں تھا جس میں ہر قسم کا کوٹ، پتلون اور جیکٹس مل جاتی ہیں۔ اسی طرح یہاں سے ہر قسم کی چپلی بھی خرید ی جاسکتی ہے۔ ایک کبابی کی دکان تھی جس کے لذیذ کباب دور دور تک مشہور تھے اسی طرح کوچی بازار ابھی کوچی بازار نہیں بنا تھا اس پورے بازار میں ایک موچی اور ایک پنساری کی دکان تھی باقی سب مکانات تھے اور ایک چھوٹی سی زیارت تھی جو آج بھی موجود ہے۔ چوک ناصر خان میں آج کی طرح کپڑوں کی دکانیں نہیں تھیں، بس چند منڈیاں تھیں جن میں آراء مشینیں لگی ہوئی تھیں، یہاں عمارتی لکڑی کی خرید وفروخت ہوتی تھی، مختلف قسم کی اشیاء کیلئے مختلف بازار مخصوص تھے جہاں سے لوگ اپنی ضرورت کی چیزیں خرید لیتے۔ ہر بازار میں ایک قہوہ خانہ ضرور ہوتا جو پشاور کی مجلسی زندگی کی نمائندگی کرتا تھا۔ آس پاس کے دیہات سے خریداری کیلئے آنے والے لوگ ان قہوہ خانوں میں بیٹھ کر اپنی تھکاوٹ دور کرتے چائے پیتے، گپ شپ لگاتے۔ پشاور کے بازار اور کاروبار اس وقت بھی ان دیہاتیوں کی وجہ سے آباد تھے جب یہ لوگ خریداری سے فارغ ہوکر اپنے اپنے علاقوں کو لوٹ جاتے تو پشاور کے بازاروں کی رونقیں مانند پڑ جاتیں۔ پورے پشاور میں صرف ٹانگے کی سواری تھی، ٹانگے سبزی منڈی سے روانہ ہوتے اور ڈبگری بازار کے باہر والا چوک ان کا آخری سٹاپ تھا۔ اگر خواتین کو گھر سے نکلنا ہوتا تو ان ٹانگوں کے پیچھے پہلے چادر باندھ دی جاتی تاکہ خواتین کی بے پردگی نہ ہو اور یہ نکلنا بھی بہت کم ہوتا تھا عام طور پر ڈولیوں کا رواج تھا، عموماً نئی نویلی دلہنیں جب اپنے میکے جاتیں تو ان ڈولیوں میں ہی بیٹھ کر جاتی تھیں، آسیہ بازار میں ایک ڈولی اور دو کہار مجھے اب بھی یاد ہیں بیچارے انتہائی خستہ حال، جب انہیں کسی گھر سے بلاوا آتا تو دونوں اپنی لاٹھیاں سنبھال کر ڈولی اٹھا لیتے، ڈولی کا بانس کندھے پر ہوتا اور دوسرے ہاتھ میں لاٹھی جس سے ان کا توازن برقرار رہتا اور وہ آسانی سے ڈولی اٹھا لیتے۔ یہ پشاور کی تہذیب تھی لوگ محدود تھے اور ایک دوسرے کو جانتے تھے اس لئے اخلاقی روایات بھی بڑی مضبوط تھیں پشاور کے لوگوں کی بود وباش زیادہ تر کاروبار پر تھی ہر بازار میں ان کی دکانیں تھیں اسی طرح روٹیوں کے تندور تھے بیاہ شادیوں پر کھانا پکانے کا کام نائی ہی سرانجام دیتے یہ حجام بھی تھے بچوں کے ختنے بھی کیا کرتے تھے۔ جس طرح قہوہ خانے ہر بازار میں موجود تھے جہاں فراغت ملتے ہی یار دوست مل بیٹھتے اور گپیں ہانکتے رہتے، اسی طرح پشاور میں دوچار محلے چھوڑ کر ایک آدھ بدمعاش بھی ہوا کرتا تھا، آج کل توجو اینٹ اٹھائیں اس کے نیچے بدمعاش موجود ہے لیکن اس زمانے میں بدمعاشوں کی بھی اپنی تہذیب اور روایات تھیں، وہ اپنے علاقے کا بہت خیال رکھا کرتے تھے کسی علاقے میں بدمعاش کی موجودگی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ وہاں کوئی سرکش داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ علاقے میں کوئی کسی کیساتھ زیادتی نہیں کرسکتا تھا، اس کے علاوہ انہوں نے علاقے میں موجود بیواؤں، یتیموں اور غریبوں کے وظائف مقرر کر رکھے تھے، پشاور شہر کے ایک بہت بڑے بدمعاش کی دیانتداری کا ایک واقعہ ہم نے اپنے والد صاحب کی زبانی سنا تھا۔ اسے کچھ پیسوں کی ضرورت پڑ گئی تو وہ قرض مانگنے ہمارے دادا جان کی دکان پر چلا آیا وہ کیسے انکار کر سکتے تھے ایک ہی علاقہ تھا اور بڑا اچھا تعلق بھی تھا، اس کا رویہ بھی علاقے کے لوگوں کیساتھ مثالی تھا۔ انہوں نے اسی وقت رقم نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دی، اس نے رقم جیب میں ڈالی اور ایک پیڈسٹل فین دکان پر رکھتے ہوئے کہنے لگا کہ میں اس رقم کے بدلے یہ پنکھا آپ کے پاس گروی رکھ رہا ہوں جب آپ کی رقم واپس کروں گا تو آپ سے اپنا پنکھا وصول کر لوں گا۔ دادا جان اس کی بات سن کر ہنس پڑے اور اسے کہا کہ ہم تمہیں جانتے ہیں بے اعتباری والی کوئی بات نہیں ہے، تم اپنا پنکھا لے جاؤ! یقین کیجئے اس نے پنکھا واپس لینے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ اگر آپ پنکھا اپنے پاس گروی نہیں رکھتے تو پھر اپنی رقم واپس لے لیجئے! انہوں نے اس کے اصرار سے مجبور ہو کر پنکھا رکھ لیا۔ پھر وہ کہنے لگا کہ بات بے اعتبار کی نہیں ہے ہمارے باپ دادا بھی ایک دوسرے کو جانتے تھے لیکن میں ایک بدمعاش ہوں کل کسی کی گولی کا نشانہ بن گیا تو آپ اپنی رقم کس سے وصول کریں گے یا پھر کسی لڑائی جھگڑے میں گرفتار ہوگیا تو آپ کی رقم کی ادائیگی میں تاخیر ہوجائے گی۔ دادا جان کہتے ہیں کہ وہ پنکھا چھوڑ کر چلا گیا اور خدا کا کرنا کیا ہوا کہ دو دنوں بعد ایک دوسرے بدمعاش کیساتھ اس کی لڑائی ہوئی جس میں خوب فائرنگ ہوئی اورکچھ لوگ زخمی بھی ہوئے(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں