Daily Mashriq


گڈانی سانحہ: ذمہ داروں کا تعین، نہ مزدوروں کی تعداد کا علم

بلوچستان کے علاقے گڈانی میں حادثے کا شکار ہونے والے بحری آئل ٹینکر میں کتنے مزدور کام کر رہے تھے، حکام اس کا تعین نہیں کر سکے ہیں۔

اس حادثے میں ہلاک ہونے والے مزدوروں کی تعداد 19 ہو چکی ہے۔ اس ضمن میں تازہ انکشاف یہ ہوا ہے کہ جہاز کی کٹائی بغیر این او سی شروع کی گئی اور اس میں کئی سو ٹن تیل موجود تھا۔

جمعرات کو ایک طرف جہاز سے سیاہ دھواں اٹھ رہا تھا تو دوسری جانب مزدور سرخ جھنڈے اور بینر لیے نعرے لگا رہے تھے۔

٭ گڈانی : ہلاکتیں 16، آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا

٭ بحری جہاز میں دھماکہ، متعدد ہلاک

شپ بریکنگ ورکرز یونین کے رہنما بشیر احمد محمودانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک صرف اندازے لگائے جا رہے ہیں اور کسی کے پاس ریکارڈ نہیں۔

بشیر احمد محمودانی کا کہنا ہے کہ ’یہاں لوگوں کو گدھوں اور خچروں کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے، اتنے لوگوں کو اس خطرناک کام پر بھیجنے سے قبل ان کا شناختی کارڈ نمبر اور نام تک نہیں رکھتے۔

’اس بحری ٹینکر کی آگ پر تیسرے روز بھی قابو نہیں پایا گیا تھا، وہاں موجود ڈی جی انوائرمنٹ نے ایک مزدور کو حکم دیا کہ جہاز میں سوراخ کیا جائے اس سے پانی اندر داخل ہو جائے گا اور آگ بجھ جائے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بعد میں اس مزدور نے مجھے بتایا کہ نیول حکام نے گذشتہ روز کہا تھا کہ اگر جہاز میں سوراخ کیا گیا تو انسانی نقصان ہو سکتا ہے، اس لیے (سوراخ کرنے کی بجائے) اس جگہ پر گولے مارے جا سکتے ہیں۔‘

اس بحری ٹینکر کی چادر تقریباً ڈیڑھ سے دو انچ چوڑی ہے۔ جہاز میں ہونے والا دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ کئی میٹر طویل اور بھاری عرشہ اڑ کر زمین پر آگرا۔

ڈی جی انوائرمنٹ سے میں نے معلوم کیا کہ اس جہاز کو یہاں لانے کا طریقہ کار کیا ہے؟ تو انھوں نے مجھے ’تسمان سپرٹ‘ کے بارے میں پڑھنے کا مشورہ دیا۔ یہ آئل ٹینکر تھا کراچی کے ساحل پر ڈوب گیا تھا۔

تاہم اس کے ساتھ انھوں نے یہ تصدیق کی کہ اس جہاز کے پاس این او سی نہیں تھا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے اور جمعرات کو وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ حاصل بزنجو جائے وقوع پر پہنچے۔

انھیں ڈپٹی کمشنر لسبیلہ ذوالفقار ہاشمی نے بتایا کہ خام تیل نکالنے والے ٹھیکیدار فاروق بنگالی زیر حراست ہیں اور انھوں نے دوران تفتیش بتایا ہے کہ جہاز میں 85 سے زائد لوگ نہیں تھے۔ اس وقت تک 58 زخمی اور 17 ہلاک ہیں یہ ملا کر 75 بنتے ہیں اس حساب سے دس ابھی لاپتہ ہیں۔

حکام نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ مزدور ٹینک میں سوراخ کر رہے تھے تاکہ خام تیل نکالا جا سکے اور یہ سوراخ ویلڈنگ سے کیا جا رہا تھا، جس وجہ سے اس نے آگ پکڑ لی اور دھماکہ ہو گیا۔

ڈی سی کے مطابق مالک کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس سے بھی تفتیش ہو رہی ہے۔

شپ بریکنگ اونرز ایسوسی ایشن کی قیادت بھی جمعرات کو موجود تھی۔ محکمہ لیبر کے افسر ان کی رہنمائی کرتے نظر آئے جبکہ وفاقی وزیر حاصل بزنجو اور وزیر اعلیٰ ثنا اللہ زہری نے ان سے ملاقات نہیں کی ۔

گڈانی شپ بریکنگ زون بلوچستان ڈولپمنٹ اتھارٹی کے ماتحت ہے۔ وفاقی وزیر حاصل بزنجو نے غفلت کا ذمہ دار اتھارٹی کو قرار دیا، تاہم اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر شعیب گولا نے اس سے لاتعقلی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس میں محکمہ ماحولیات کا این او سی اہم ہوتا ہے۔

ڈی جی انوائرمنٹ نے دوبارہ تصدیق کی کہ این او سی جاری نہیں کیا گیا تھا جس پر وفاقی وزیر نے سوال کیا کہ پھر یہ کام کیسے شروع کیا گیا؟

حکام سے پوچھ گچھ کے دوران شپ اونرز کے چیئرمین دیوان رضوان فاروق پہنچ گئے اور کہا کہ جہاز سے تیل نہیں نکالا جا رہا تھا۔

ڈپٹی کمشنر نے ان سے مخاطب ہو کر کہا کہ انھوں نے دس بار ٹیلیفون کیے اور پیغام بھیجا لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کے نقطہ نظر سے انھیں گرفتار ہونا چاہیے، ساتھ میں ہی انھوں نے ایس ایچ او کو ہدایت کی کہ ہتھکڑی لگاؤ، لیکن بعد میں معاملہ رفع دفع ہو گیا۔

ڈائریکٹر جنرل پورٹ اینڈ شپنگ اسد رفیع نے دیوان رضوان سے جذباتی انداز میں سوالات کیے اور کہا کہ آپ کی تنظیم نے اپنے مفادات کا تو تحفظ کیا لیکن مزدوروں کے لیے کیا کیا؟

’15 ہزار مزدوروں کو سب سے پہلے حفاظت کی ضرورت ہے اور یہ سامان اور آلات دو چار لاکھ سے زیادہ کے نہیں ہوتے وہ کیوں نہیں رکھے ہوئے اور ان کے بغیر کیوں جہاز پر بھیجا، جبکہ ڈی سی کے مطابق جہاز میں 11 سو ٹن تیل تھا اور دو ہزار ٹن خام تیل تھا۔‘

دیوان رضوان نے انھیں بتایا کہ وہ اس بات سے لاعلم ہیں کہ جہاز میں تیل تھا، جس پر ڈی جی پورٹس نے انھیں کہا کہ یہ چیک کرنے کے لیے خصوصی آلات اور انسپیکٹر ہوتے ہیں جو جا کر دیکھتے ہیں۔

’آپ جواب تو دیں، اللہ آپ کو اور ترقی دے، ڈیفنس میں گھر بنائے اور امریکہ جائیں لیکن ان مزدوروں کے ساتھ کچھ تو خدا کا خوف کریں۔ آپ کسی کو دس یا 20 لاکھ روپے دے دیں گے تو کیا اس کا باپ واپس آ جائے گا؟‘

دیوان رضوان نے حکام کو بتایا کہ وہ جہاز کا 15 سے 20 کروڑ روپے ٹیکس ادا کرتے ہیں اور جب تک یہ ادائیگی نہ کریں اس وقت تک جہاز توڑا نہیں جا سکتا۔

وفاقی وزیر حاصل بزنجو نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’ایک 25 ہزار روہے تنخواہ والے آدمی کو ارب پتی کے کام کی نگرانی پر مامور کر دیا ہے وہ تو نہیں کر سکے گا۔‘

وزیر اعلیٰ ثنا اللہ زہری نے بھی جمعرات کو جائے وقوع کا مختصر دورہ کیا۔ پانچ منٹ کے دورانیے میں انھوں نے گاڑی میں سوار ہو کر جہاز کا معائنہ کیا اور صحافیوں سے مختصر بات چیت میں کہا کہ وہ تحقیقات کر رہے ہیں اور جو بھی اس میں ملوث ہو گا اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔

متعلقہ خبریں