Daily Mashriq


سفارتکار یا جاسوس؟

سفارتکار یا جاسوس؟

پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے کئی سفارتکاروں کا تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف یقینا لمحہ فکریہ ہے۔ بھارتی سفارتکار پاکستان میں را اور آئی بی نیٹ ورک کے لئے کام کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے کئی اہلکار پاکستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث پائے گئے ہیں جن میں سے ایک سرجیت سنگھ کو گزشتہ ہفتے ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ اب مزید دو نام نہاد سفارتکاروں بلبیر سنگھ اور راجیش کمار اگنی ہوتری کے بھی اس نیٹ ورک میں شامل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ بلبیر سنگھ بھارتی ہائی کمیشن میں فرسٹ سیکرٹری پریس انفارمیشن تعینات ہے جبکہ وہ درحقیقت بھارتی ایجنسی آئی بی کا اہلکار ہے۔ اس کے علاوہ راجیش کمار اگنی ہوتری کمرشل قونصلر کے لبادے میں تعینات را کا کارندہ ہے۔ گزشتہ ہفتے پاکستان سے ملک بدر کیا گیا سفارتی اہلکار سر جیت سنگھ بھی بلبیر سنگھ ہی کے نیٹ ورک کا حصہ تھا۔ سرجیت سنگھ نے عبدالحفیظ کے نام سے موبائل فون کمپنی کا جعلی کارڈ بھی بنوایا تھا۔ ذرائع کے مطابق ان دونوں افراد کو نا پسندیدہ شخصیت قرار دے کر پاکستان چھوڑنے کا کہا جائے گا ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے نیٹ ورکس کا فعال ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی بھارت کے کئی ایجنٹ ملک کے مختلف علاقوں میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ ان میں سے کئی ایک گرفتار بھی ہو کر قید و بند سے گزر چکے ہیں۔ چند برس پہلے ایک بھارتی تخریب کار کو جب رہاکرکے بھارت جانے کی اجازت دی گئی جو جیل میں مسلمان ہونے کا ڈرامہ بھی رچاتا رہا تھا مگر بھارت پہنچتے ہی اس نے بر ملا کہا کہ وہ پاکستان میں تخریب کاری میں ملوث رہا ہے اور یہ کہ وہ ابھی تک اپنے ہی مذہب پر قائم ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کچھ عرصہ پہلے جب کلبھوشن یادو کا نیٹ ورک پکڑا گیا تو اس نے جو انکشافات کئے اس نے را کی پاکستان دشمن سرگرمیوں کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ کلبھوشن یادو جو بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے اور اسے مسلمان کی حیثیت سے پاسپورٹ جاری کرکے اس کا بیس کیمپ ایران میں قائم کیاگیا جہاں سے وہ بلوچستان کے علاقوں میں کئی بار آکر اپنا جاسوسی نیٹ ورک قائم کرنے میں کامیاب ہوا تھا اور نہ صرف یہ نیٹ ورک افغانستان کے اندر قائم مختلف بھارتی قونصل خانوں کے اندر قائم جاسوسی نیٹ ورک سے رابطے میں تھا اور بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو ہر قسم کی مدد فراہم کرتا رہا ہے بلکہ اس کا سب سے بڑا مقصد سی پیک منصوبے کو سبو تاژ کرنا بھی تھا۔ تاہم پاکستان کے سیکورٹی اداروں کی عتابی نگاہوں سے پوشیدہ نہ رہ سکا اور جب اسے قابو کیاگیا تو اس نے کئی ایسے انکشافات کئے جن کا مقصد پاکستان کی سلامتی کو خطرات سے دو چار کرنا تھا۔ مگر خدا جانے وہ کیاعوامل تھے یا ہیں کہ کلبھوشن یادو کے نیٹ ورک کے بارے میں پاکستان نے سفارتی سطح پر ابھی تک ایک معنی خیز خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور دنیا کے سامنے بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرنے میں کوئی پیش رفت سرکاری سطح پر نظر نہیں آتی حالانکہ اس حوالے سے پاکستان میں دیگر سیاسی جماعتیں خصوصاً حکمران جماعت سے سیاسی اختلاف رکھنے والے سیاسی رہنما بار ہا اس ضمن میں حکومت سے مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں کہ کلبھوشن یادو کے بارے میں عالمی برادری کو پوری تفصیل سے آگاہ کرکے بھارت کے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے غبارے سے ہوا خارج کردی جائے مگر متعلقہ سرکاری حلقے صرف یہی کہنے پر ہی اکتفا کر رہے ہیں کہ کلبھوشن یادو کے بارے میں ڈوزئیر جلد ہی متعلقہ حلقوں کے حوالے کردئیے جائیں گے۔ اگرچہ یہ بات بالکل درست ہے کہ اگر کلبھوشن یادو نیٹ ورک کا واقعہ بھارت کے اندر پیش آتا ہے تو نہ صرف بھارت سفارتی سطح پر پاکستان کے خلاف ایک طوفان کھڑا کرکے پاکستان کو تخریب کاری اور انتہا پسندی کو برآمد کرنے کا بنیادی منبع قرار دے دیتا بلکہ بھارتی میڈیا جو ہر ایسے موقع کی تاک میں رہتا ہے وہ بھی ایک طوفان بد تمیزی برپاکرکے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کردیتا اور بھارت کے اندر بھی پاکستان مخالف جذبات کو انتہا تک پہنچانے میں اپنا مکروہ کردار ادا کرتا۔ اس لئے ایک تو کلبھوشن یادو نیٹ ورک اور اوپر سے یہ تازہ واردات جس میں سفارتکاروں کے روپ میں جاسوسی نیٹ ورک کا انکشاف ہواہے پاکستان کے خلاف بھارتی عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہے اور چونکہ محولہ جاسوس سفارتکاروں کا چولا پہن کر یہ کام کر رہے ہیں اس لئے عالمی اصولوں کے مطابق ان کو ناپسندیدہ اشخاص قرار دے کر ملک سے چلے جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں البتہ جیسا کہ اطلاعات آرہی ہیں ان کے قائم کردہ نیٹ ورک میں یقینا مزید افراد بھی ہوں گے جن کے بارے میں پوری طرح تحقیق کرکے انہیں بھی بے نقاب کیا جانا لازمی ہے۔ اس نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے پر متعلقہ ایجنسیوں کے جملہ افراد کو جو اس کارہائے نمایاںمیں ممد ثابت ہوئے مبارکباد دینا چاہئے جنہوں نے عقابی نگاہوں سے ملک دشمن کرداروں کو بے نقاب کیا۔

متعلقہ خبریں