Daily Mashriq


گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں آتشزدگی

گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں آتشزدگی

بلوچستان کے علاقے گڈانی میں ناکارہ جہاز میں آگ بھڑک اٹھنے سے جاں بحق ہونے والوںکی تعداد تادم تحریر 20ہوچکی ہے جبکہ صرف 30فیصد آگ پر قابو پایا جاسکا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ ایک بڑا جہاز ہے اور آگ کافی پھیلی ہوئی ہے جس پر قابو پانے کے لئے سو سے زائد آگ بجھانے والی سنارکل درکار ہیں جو دستیاب نہیں ہیں۔ اگر چہ ضلعی حکام کے ساتھ فوج اور بحریہ کی ٹیمیں بھی کام کر رہی ہیں اور فضائی سپرے بھی کیا گیا ہے اور نیوی کے دو ہیلی کاپٹروں کی خدمات بھی حاصل کی جا چکی ہیں مگر مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوسکا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ شپ یارڈ میں جہاں ناکارہ بحری جہازوں کو لاکر توڑا جاتا ہے اس قسم کے حادثات سے نمٹنے کے لئے ضروری ساز و سامان کا نہ ہونا یا پھر ضرورت سے کم ہونا ایک المیہ ہی ہے جبکہ اس حوالے سے مختلف نیوز چینلز پر چلنے والی ایک خبر بڑی خاصی چشم کشا ہے جس کے مطابق محولہ ناکارہ بحری جہاز کو گڈانی بریکنگ شپ یارڈ تک پہنچانے والے عملے کا تعلق بھارت سے تھا اور ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ جہاز کو شپ یارڈ تک پہنچا کر کب کے چلے گئے ہوں گے اور عین ممکن ہے کہ انہوں نے ہی تخریبی نقطہ نظر سے جہاز کے پٹرول ٹینک اور بعض دوسرے حصوں میں بارودی مواد نصب کرکے اس سانحے کی بنیاد رکھ دی ہو۔ کیونکہ دھماکے صرف پٹرول ٹینک ہی میں نہیں ہوئے بلکہ دوران کام دیگر حصوں میں بھی مزید دھماکوں سے آگ بھڑک اٹھی اور کئی قیمتیں جانوں کا نقصان ہوا۔ بہرحال یہ تو اب تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ تاہم اس سانحے سے اتنا سبق تو مل ہی گیا ہے کہ آئندہ اس قسم کے حادثات کی روک تھام کے لئے ضروری اقدامات اٹھانا متعلقہ اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر حادثے میں جہاز کے بھارتی عملے کی تلویث کے اشارے مل جائیں تو آئندہ کسی بھی بریکنگ شپ یارڈ میں لانے والے ناکارہ جہازوں کے لئے بھارتی عملے کی خدما ت حاصل کرنے سے احتراز کی پالیسی اختیار کی جائے تاکہ نہ تو قیمتی جانوں کا ضیاع ہوسکے نہ ہی کوئی مالی نقصان ہو۔

خناق کا پھیلائو۔۔۔۔قابل تشویش

اخباری اطلاعات کے مطابق خناق جیسے موذی مرض نے وبائی صورت اختیار کرلی ہے اور صرف بنوں میں 61سے زیادہ متاثرہ بچوں کو ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں داخل کرا دیاگیا ہے جبکہ یہ مرض شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے بچوں سے بنوں اور لکی مروت میں پھیلا ہے۔محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان میں بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات کی صورتحال خراب ہونے کے باعث پناہ گزین خاندانوں سے زیادہ تر بچے متاثر ہو رہے ہیں۔ تاہم ہسپتال میں اب متاثرہ بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی شروع کردی گئی ہے جبکہ محکمے کا عملہ مختلف علاقوں میں جا کر بھی متاثرہ بچوں کو ٹیکوں کی فراہمی یقینی بنا رہا ہے۔ باوجود اس کے بیماری پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے اور یہ بیماری تیزی سے دیگر بچوں کو منتقل ہو رہی ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ خیبر پختونخوا کا محکمہ صحت اس حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر ے اور زیادہ سے زیادہ ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں بھیج کر بیماری کو وبائی صورت اختیار کرنے سے پہلے ہی قابو کرنے کی تدابیر کرے۔ وزیر صحت سے بطور خاص اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس معاملے میں متعلقہ حکام کو ہائی الرٹ پر ڈال کر مسئلے کو حل کرانے کے احکامات صادر کریں تاکہ دوسرے علاقوں تک یہ وبا نہ پھیل سکے۔

گندم کی حفاظت کی ذمہ داری

صوبائی حکومت نے چترال کے گوداموں میں خراب ہونے والی لاکھوں روپے کی گندم کو علیحدہ کرنے کی غرض سے کمیٹی قائم کردی ہے جس کی سربراہی ڈائریکٹر محکمہ خوراک کو سونپی گئی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ سردی' بارشوں اور خصوصاً برفباری کے دنوں میں لواری ٹاپ بند ہونے کی وجہ سے چترال اور ملحقہ علاقوں کو باقاعدگی سے گندم کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے برفباری کے آغاز سے بہت پہلے گوداموں میں ضرورت کے مطابق گندم اور دوسری اجناس پہنچا دی جاتی ہیں۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ اس ضمن میں گزشتہ برسوں کے دوران ضرورت سے اس قدر زیادہ گندم پہنچائی گئی جو اضافی ہونے کی وجہ سے پڑے پڑے خراب ہوگئی۔ اگرچہ اس حوالے سے احتیاطی تدابیر اس لئے کامیاب نہیں ہوسکتیں کہ اگر کہیں غلطی سے ضرورت کے مطابق گندم کی فراہمی ممکن نہ ہوسکی اور شدید موسم میں سپلائی کم پڑ گئی تو عوام کو قحط سالی کی سی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم اس تمام صورتحال پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے کہ لواری ٹنل کی تعمیر میں مزید تاخیر نہ کی جائے تاکہ ہر موسم میں اجناس باقاعدگی کے ساتھ پہنچانے میں کوئی مشکل نہ ہو۔

متعلقہ خبریں