Daily Mashriq


تحریک انصاف کے ''یوم تشکر'' کا اجتماع

تحریک انصاف کے ''یوم تشکر'' کا اجتماع

سیاست جمہور کی مِلک ہے۔ کیونکہ یہ انہی کے لیے ہوتی ہے لہٰذا انہی کو زیب دیتی ہے۔ تحریک انصاف کے عمران خان کی طویل جدوجہد اور اہل اختیار کی اپنی روش نہ بدلنے کی ضد کے باعث بدھ کی شام اسلام آباد میں یہ نظر آیا کہ پاکستان کے عوام نے اپنی کھوئی ہوئی میراث ، اپنی فیصلہ سازی کی حیثیت دوبارہ حاصل کرنے کی جدوجہد دوبارہ شروع کر دی ہے۔ یہ حیثیت انہیں برصغیر کے مسلمانوں کی عشروں پر پھیلی جدوجہد کے نتیجے میں آزادی کی صورت میں حاصل ہوئی تھی۔ اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں بدھ کی شام تحریک انصاف کے عمران خان کی کال پر یوم تشکر کا جلسہ ایک بھاری اجتماع تھا۔ پاکستان میں اس سے پہلے بھی بھاری بھر کم اجتماعات ہوتے رہے ہیں ، بڑی تیاریوں اور منظم کوششوں کے ساتھ ۔ لیکن پریڈ گراؤنڈ میں پہلا اجتماع اس وقت ہوا جب تحریک انصاف کی 2نومبر کو اسلام آباد کو ''بند کرنے'' کی کال 27اکتوبر سے کنٹینرز ' آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے باعث ناکام نظر آتی تھی۔ خیبر پختونخوا سے اسلام آباد آنے والا قافلہ کئی گھنٹے تک آنسو گیس اور پولیس کے لاٹھی چارج کا سامنا کرتا رہا لیکن حضرو میں کنٹینرز کی فصیل عبور نہ کر سکا۔ پنجاب کے مختلف شہروں میں تحریک انصاف کے عہدیداروں اور فعال ورکروں کو گھروں ہی سے گرفتار کر لیا گیا۔ جو کچھ ہونے والا تھا وہ اسلام آباد میں ہونا تھا لیکن دفعہ 144کے تحت پابندیاں سارے پنجاب میں لگا دی گئیں۔ اسلام آباد میں عمران خان کی بنی گالا کی رہائش پولیس کے محاصرے میں تھی۔ جہاں جانے کے لیے تمام سڑکیں بند تھیں۔ تحریک انصاف کی قیادت یہاں سے جلوس لے کر نکلنا چاہتی تھی۔ یہ صورت حال کتنے دن تک برقرار رکھی جا سکتی تھی؟ آخر سپریم کورٹ نے اعلان کر دیا کہ وہ یکم نومبر کو پاناما انکشافات اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے مقدمات کی سماعت شروع کر رہی ہے۔ قارئین کے علم میں ہے کہ اس کے بعد عمران خان نے احتجاج کی کال واپس لے لی لیکن 2نومبر کو پریڈ گراؤنڈ میں یوم تشکر منانے کے لیے جلسہ کی کال دی۔ 

لاٹھی چارج' کنٹینرز اور آنسو گیس کی سٹریٹجی کامیاب ہوئی لیکن تحریک انصاف کا مطالبہ بھی پورا ہو گیا کہ پاناما انکشافات اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے تحقیقات کا ذمہ سپریم کورٹ نے اپنے سر لے لیا۔اس سے قطعہ نظرکہ اب حکومت کی طرف سے بھی کہا جاتا ہے کہ ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ فیصلہ عدالتوں میں ہونا چاہیے اور تحریک انصاف کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ سات ماہ تک تاخیری حربے استعمال کرنے کے باوجود حکومت کو آخرکار تحقیقات پر آنا پڑا۔ حکومت کے حلقوں میں کنٹینرز ' لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی حکمت عملی کی کامیابی پر خوب خوشی کا اظہار کیا گیا۔ حکومت کے وزراء کہتے رہے کہ تحریک انصاف کی کال کو عوام نے مسترد کر دیا ہے۔ ایک صاحب طنز کر تے رہے کہ عمران خان پریڈ گراؤنڈ میں بندے لا کر دکھائیں۔ اس طنز و طعن طرازی کے باوجود 2نومبر کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں لوگ آئے اور بھاری تعداد میں آئے۔ دور دراز سے بھی آئے صعوبتیں سہہ کر کے آئے۔ اس واقعہ سے دو نتیجے نکلتے ہیں۔ ایک یہ کہ عوام اب کرپشن کو کھل کر مسترد کرتے ہیں۔ اب عمران خان ، تحریک انصاف، شیخ رشید اور ان کی عوامی لیگ ، طاہر القادری اور ان کی عوامی تحریک اگر آگے نہ بھی آئیں گے تو کرپشن کے خلاف عوام کی نفرت ختم نہیں ہوگی۔ اب عوام کو یہ ضرورت نہیں رہی کہ ان کے لیڈر سٹیج سے کرپشن کے حقائق بیان کریں گے اور وہ لیڈروں کی باتیں سن کر متحرک ہوں گے۔ اب عوام خاص طور پر نوجوانوں کو یہ آگہی کہ کرپشن ہر شعبہ زندگی میں ان کی اور ان کے ملک کی پسماندگی کی وجہ ہے۔ اب یہ ہر سیاسی سوچ کے قائدین کا فرض ہے کہ وہ معیشت کی زبوں حالی کی وجوہ اور کرپشن کی فراوانی کے حقائق کو اپنی تقریروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ عوام اور ان کے فعال سیاسی کارکنوں کی آگاہی کے لیے کوشش کریں۔ اگر سیاسی قیادت اس میں ناکام رہی تو آج اطلاعات کے وسائل کی کمی نہیں ہے۔ سیاسی قیادت کی بے عملی کی صورت میں کنفیوژن پیدا ہوگا ، نفسانفسی کا رویہ پنپ سکتا ہے۔ مایوسی ' بددلی اور انارکی کے عمومی بیانیہ کے تشکیل پانے سے پہلے سیاسی مدبرین کو عوام کی اس آگاہی اور کرپشن کے خاتمے کی امید کو رویے اور فعالیت میں بدلنے پر غور کرنا چاہیے۔ ہمارے سیاسی رہنماؤں اور مفکرین کو ان سوالات پر غور کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ کئی روز تک لاٹھی چارج' آنسو گیس اور کنٹینروں کی دیواروں کو دیکھنے کے باوجودحکمران جماعت کے وزیروں کے طنز و استہزا کے باوجود 2نومبر کو پریڈ گراؤنڈ میں بھاری اجتماع اس جادو کا کرشمہ ہے جوکرپشن کے خاتمے کے مقصد کو اپنانے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں موجزن ہو چکا ہے۔ پریڈ گراؤنڈ میں اس فوری طور پر جمع ہونے والے بھاری اجتماع سے جو دوسرا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ سیاسی شعور صرف محنت کش طبقے تک ہی محدود نہیں ہے۔ اس کے لیے کومٹ منٹ ضروری ہے جو آگہی اور آگہی پر مبنی فعالیت کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ اس لیے تحریک انصاف کے بارے میں جو کہا جاتا ہے کہ اس کی حمایت صرف متوسط طبقے کے سہل پسند نوجوانوں تک محدود ہے۔ اور ان کے ہاں مرنے مارنے کا جذبہ نہیں ہوتا۔ آج کے سیاسی عمل میں مرنے مارنے کے جذبے کی ضرورت نہیں رہی۔ لوگ یہ طعنہ دیتے رہے کہ عمران خان بنی گالا میں بیٹھے رہے اور ان کے کارکن مار کھاتے رہے۔ لیکن اس کے باوجود 2نومبر کو عمران خان ہی کی کال پر لوگ آئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی قیادت کے گرد اس لیے لوگ جمع ہوتے ہیں کہ سیاسی قیادت ان کے مسائل کے حل کی طرف قیادت کرتی ہے۔پنجاب پولیس نے کم ازکم سارے صوبہ پنجاب میں تحریک انصاف کے ورکروں کی پکڑ دھکڑ ،ان کے گھروں پر چھاپوں کے ذریعے ورکروں کی ایک بڑی تعداد کی پارٹی کے مقاصد کو آگے بڑھانے کی کمٹمنٹ کو مضبوط ہی کیا ہے۔

متعلقہ خبریں