Daily Mashriq


سیاسی جنگ میں سپریم کورٹ کی مداخلت

سیاسی جنگ میں سپریم کورٹ کی مداخلت

پانامہ لیکس سکینڈل کے حوالے سے احتجاج کے بعد اس سارے معاملے کا فوکس سپریم کورٹ پر مرکوز ہو گیا ہے۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے لئے یہ مقدمہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ پانامہ لیکس کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی بحران کی وجہ سے جمہوری نظام کے لئے خطر ہ پیدا ہو گیا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے تک مذکورہ کیس سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد اس معاملے میں ریاستی اداروں کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جناب انور ظہیر جمالی نے اس حسا س معاملے کو اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیاہے۔ اس مقدمے کا فیصلہ ملکی سیاست کے مستقبل کی راہ متعین کرے گا۔جہاں تک اس سارے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کی بات ہے تو اس راہ میں ابھی بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں۔ اگرچہ حکومت اور پی ٹی آئی پانامہ سکینڈل پر جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات پر راضی ہو گئی ہیں لیکن یہ دونوں جماعتیں انکوائری کمیشن کے ٹی۔او۔آرز پر متفق ہو سکیں گی ؟ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر حکومت اور اپوزیشن میں پچھلے سات ماہ کے دوران اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہوسکا۔اگر اب بھی دونوں جماعتیں ٹی۔او۔آرز پر متفق نہ ہوسکیں تو سپریم کورٹ خود ٹی۔او۔آرز تشکیل دے گی ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ کی طرف سے بنائے جانے والے ٹی۔او۔آرز پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا ؟ یہاں پر ایک بات تو واضح ہے کہ سپریم کورٹ کی ثالثی سے کسی بھی غیر آئینی مداخلت کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ ایک ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ منتخب حکومت کو غیر آئینی طریقے سے ہٹانے کو غداری سمجھا جائے گا۔ اگر یہ بات سچ ہے تو پاکستا ن کی جمہوریت کی پائیداری کے لئے یہ ایک خوش آئند اشارہ ہے۔ اس سارے معاملے میں ذمہ داریوں کابوجھ سپریم کورٹ کے کندھوں پر آن پڑا ہے اور تفتیش کے نتائج کا انحصار بھی جوڈیشل کمیشن کے اختیارات پر ہے۔ جوڈیشل کمیشن کواختیارات اورواضح مینڈیٹ نہ ملنے کی صورت میںموجودہ بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں واضح کمی آئی ہے اور عمران خان نے لاک ڈائون کو یومِ تشکر میں تبدیل کردیا ہے۔ پی ٹی آئی اس فیصلے کو اپنی جیت تصور کر رہی ہے جس میں وہ حق بجانب بھی ہے کیونکہ پی ٹی آئی اس سارے معاملے کی شفاف تحقیق کے لئے ایک طویل عرصے سے تحریک چلا رہی تھی۔ حالات کی کشیدگی اور سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کے بعد سپریم کورٹ کے اس معاملے میں مداخلت کرنی پڑ گئی جس کی وجہ سے صورتحال کافی حد تک بہتر ہوئی ہے۔ اگرچہ پی ٹی آئی کو ایک وقتی فتح نصیب ہوئی ہے لیکن یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔گزشتہ چند دنوں میں ہونے والے احتجاج اور اس کے خلاف استعمال کی گئی طاقت سے غیر ذمہ دارانہ حکومتی رویے کا مظاہرہ ہوتا ہے ۔عمران خان شاید اسلام آباد کو لاک ڈائون نہ کر سکتے لیکن انتظامیہ کی بوکھلاہٹ نے ضرور ایسا کر دیا تھا۔ اس بوکھلاہٹ کے پیچھے بھی بہت سی وجوہات ہیں۔ میاں نواز شریف کے لئے عمران خان اس لئے بھی زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ پی ٹی آئی پنجاب میںاسٹیبلشمنٹ کو بھی تقسیم کرتی نظر آتی ہے۔ یہ وہی اسٹیبلشمنٹ ہے جو پنجاب پر تین دہائیوں سے جاری شریف خاندان کی حکمرانی کی اصل وجہ ہے۔ 2013ء کے عام انتخابات کے وقت سے ہی پی ٹی آئی نے مسلم لیگ۔ن کے گڑھ پنجاب میں اپنے قدم جمانے شروع کر دئیے تھے۔ پانامہ لیکس اور فوج سے نواز شریف کے کشیدہ تعلقات نے پی ٹی آئی کو اپنے قدم مضبوط کرنے کا ایک اور موقع فراہم کردیا ہے۔ پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ۔ن کے درمیان جنگ کا اصل میدان پنجاب ہے جسے کچھ سیاسی تجزیہ کار جی ٹی روڈ کی جنگ بھی کہتے ہیں۔ 1999ء میں فوج کی طرف سے اقتدار سے ہٹانے کے باوجود سول بیوروکریسی، عدلیہ اور اقتدار کی غلام گردشوں میں نواز شریف کی حمایت کم نہیں ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ 2008ء میں اپوزیشن بننے کے بعد 2013ء کے عام انتخابات میں حکومت میں آنے کے لئے نواز شریف کو زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پی ٹی آئی کی مزاحمت کے باوجود مسلم لیگ ۔ ن کی 2013ء میں کامیابی کی وجہ پنجاب میں مقبولیت ہی تھی۔ لیکن صوبے میں پی ٹی آئی کی مقبولیت میں اضافے کے بعد اب نواز حکومت کو پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ کی وہ حمایت حاصل نہیں جو اسے پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف حاصل تھی۔ اگرچہ پی ٹی آئی نے گزشتہ عام انتخابات میں خیبرپختونخوامیں حکومت بنائی تھی لیکن اس کی توجہ کا مرکز ہمیشہ سے پنجاب رہا ہے۔ عمران خان کی طرف سے کرپشن کے حوالے سے ریاستی اداروں کی بے حسی پر شدید تنقید کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کے کچھ حلقوں میں پی ٹی آئی نے اپنی مقبولیت ضرور کھوئی ہے لیکن آج بھی پی ٹی آئی کو اسٹیبلشمنٹ میں ایک معقول حمایت حاصل ہے۔ عمران خان کے احتجاج سے نمٹنے کے لئے جہاں نواز شریف کی طرف سے جارحانہ پالیسی اپنائی گئی وہیں ملٹری سے تعلقات میں بہتری کے لئے پرویز رشید کی قربانی بھی دی گئی ہے۔شریف حکومت کے ان اقدامات اور سپریم کورٹ کی مداخلت سے اگرچہ سیاسی درجہ حرارت کافی کم ہو ا ہے لیکن یہ سیاسی جنگ ابھی جاری ہے اور حکومت کو آنے والے مہینوں میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں