Daily Mashriq


ہم محصور ہوگئے

ہم محصور ہوگئے

دھرنے' احتجاجی جلسے اور شہر کے لاک ڈائون کی دونوں حریف سیاسی جماعتیں جو بھی وضاحت اور وجہ بیان کریں ہم تو یہی کہیں گے کہ یہ سب کچھ پورا ہفتہ ہمیں گھر سے باہر رکھنے کا باقاعدہ منصوبہ تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک شخص شہر میلہ دیکھنے گیا وہاں کسی نے اس کی جیب کاٹ لی۔ واپسی پر لوگ اس سے پوچھتے میلہ کیسا رہا' جلیبیاں کھالیں' خشخاش اور بادام والا شربت پیا' وہ جواب دیتا میلہ ٹھیلہ کچھ نہ تھا یہ شہر والوں نے میری جیب کاٹنے کی سازش کی تھی۔ سوچتے ہیں تو ہم سے بھی یہی ہاتھ کیا گیا۔ وہاں بنی گالہ میں پی ٹی آئی کے چیئر مین گھر میں نظر بند تھے اور ہم یہاں لاہور میں محصور بیٹھے تھے۔ البتہ ان کو ایک سہولت یہ حاصل تھی کہ اپنے کارکنوں کے سامنے تقریر کرکے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتے تھے۔ ایک تو ہمیں سیاسی گفتگو نہیں آتی اور پشتو غزلیں لاہور میں ہماری کسی کے سمجھ میں نہ آتی تھیں۔ یقین کیجئے زبان پر چھالے پڑگئے۔ اقبال فلسفی کہتے ہیں سیاست د ازوگارو خلقو کار دے۔ سیاست فارغ لوگوں کا مشغلہ ہے اور وہ ایک حد تک سچ کہتے ہیں ہمیں ہر ماہ بجلی کے بل کی ادائیگی کی فکر رہتی ہے۔ آٹے دال کے نرخ میں مسلسل اضافے پر پریشان رہتے ہیں اس کے علاوہ آئے روز کے دھرنوں' ہڑتالوں اور سڑکوں کی بندش سے جو اذیت اٹھانا پڑتی ہے وہ ہمیں ملکی سیاست پر تجزیوں کی کب اجازت دیتی ہے۔ ابھی کل شام ہی کی بات ہے یہاں لاہور میں جیل روڈ سے کینال روڈ پر اترے تو حد نظر تک گاڑیوں کی طویل قطار کھڑی تھی ہم بھی اس سمندر میں قطرہ بن کر شامل ہوگئے کہ

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہوجانا

گاڑی سے سر نکالتے ہوئے پوچھتے رہے کہ اس بدترین ٹریفک جام کی وجہ کیا ہے۔ چیونٹیوں کی طرح رینگنے والی گاڑیوں میں نیم غنودگی کے عالم میں بیٹھے لوگوں میں سے کسی کو کچھ معلوم نہ تھا۔ وہ راستہ جو ہم عام حالات میں 20سے 25 منٹ میں طے کرکے گھر پہنچ جاتے ہیں یقین جانئے اس پر پورے چار گھنٹے صرف ہوئے اور ہم کچے پکے انجانے راستوں سے ہو کر اپنے گھر تک پہنچ سکے۔ پانامہ لیکس کے احتجاج پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں مگر آج تک کسی نے یہ نہ پوچھا کہ یہ جو اندرون شہر آئے روز ٹریفک کی قیامت کا سامنا ہوتا ہے اس کا بھی تو کوئی حل ڈھونڈنا ضروری ہے۔ اس سے پہلے بھی ہم تین بار گھر سے مال روڈ تک ڈاکٹر سے ملنے گھر سے نکلے اور ہر بار ہمیں ناکام لوٹنا پڑا۔ جی ہاں تین روز تک سروں پر پگڑیاں سجائے جائے نمازوں پر بیٹھے کچھ بزرگ ہستیاں یاد اللہ میں مصروف تھیں۔ بار بار پوچھنے کے باوجود معلوم نہ ہوسکا کہ ان بزرگوں کے مطالبات کیا تھے اور انہوں نے دھیان گیان کے لئے مال روڈ کا مصروف ترین علاقہ کیوں پسند فرمایا تھا۔ رات کے ٹریفک جام کی وجہ اخبارات سے معلوم ہوئی ۔بہائولداین ذکریا یونیورسٹی کے طلبہ اور ینگ ڈاکٹرز نے اپنے مطالبات منوانے کے لئے سڑک بند کردی تھی۔ ان کے مطالبات کیا تھے اس کا بھی پتہ نہ لگ سکا البتہ ان کے اس احتجاج نے شہریوں کی زندگی مفلوج کرکے رکھ دی۔ ایمبولینسز میں جاں بلب مریض تڑپتے رہے' بچے گاڑیوں میں بلکتے رہے ' خواتین کوسنے اور بوڑھوں کو ہم نے بد دعائیں دیتے ہوئے سنا لیکن احتجاج کرنے والوں پر کچھ اثر نہ ہوا اور یہ سڑک گزشتہ 11بجے سے دوسرے دن کے چار بجے بھی بند پڑی ہے۔ اسلام آباد کا دھرنا یا لاک ڈائون جو نام بھی آپ اسے دیں کامیابی سے ہمکنار ہوئی یا ناکام رہی ہم تو صرف اس قدر جانتے ہیں اس سے عوام کو شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑا۔ وہ لوگ جو اپنے مریضوں کو علاج کے لئے اسلام آباد لے جانا چاہتے تھے انہیں بے نیل وسرام واپس ہونا پڑا۔ بہت سے لوگوں نے ڈاکٹروں سے معائنے کے لئے ایک دو ماہ پہلے اپوائنٹمنٹ لے رکھی تھی۔ اب انہیں مزید کئی ماہ تک انتظار کرنے پڑے گا۔ بیرون ملک جانے والے بہت سے افراد ائیر پورٹ نہ جا سکے۔ ہمارے صوبے کے وزیر اعلیٰ کو جو پورے عزم کے ساتھ بنی گالہ پہنچنے کے لئے اپنے پرجوش کارکنوں کو لے کر پشاور سے نکلے تھے انہیں تمام رات موٹر وے پر خوار و زار ہونے کے بعد بصد خرابئی بسیار بیچ راستے سے واپس ہونا پڑا۔ اس موقع پر ان کا جو رد عمل سامنے آیا وہ کافی معنی خیز ہے۔ وہاں کراچی میں ایم کیو ایم کے رہنما نے سندھ اسمبلی میں ان کے اس بیان مذمت میں ایک قرار داد جمع کی ہے۔ یہ تو خیر بڑے لوگوں کی بڑی باتیں ہیں جس پر کوئی تبصرہ چھوٹا منہ اور بڑی بات سمجھا جائے گا۔ چنانچہ ہم اس سے گریز کرتے ہوئے یہ ضرور عرض کریں گے کہ ہم خیبر پختونخوا کے ایک منتخب وزیر اعلیٰ کو اسلام آباد جانے اس طرح روکنے کو ہر گز جائز نہیں سمجھتے اور گزشتہ چند روز سے سیاسی محاذ پر معرکہ آرائی کی کس حد تک ذمہ داری وفاق پر عائد ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں عوام کو جس اذیت کا سامنا کرنا پڑا اس کی ایک جھلک ہم نے زیر نظر تحریر میں پیش کردی۔

متعلقہ خبریں