Daily Mashriq


توانائی کا بحران

توانائی کا بحران

چلیں جناب دھرنا ختم ہوا اور ساتھ ہی بہت سے خدشات بھی ختم ہوگئے ۔پی ٹی آئی کا فیصلہ ان حالات میں انتہائی مناسب ہے۔

موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ہے

گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے گھر تو آخر اپنا ہے

یہ بات ہم سے ایک بہت ہی پڑھے لکھے نوجوان نے کی ہم نے بھی نوجوان کی علمیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان سے پوچھا کہ ہم ایسا کیا کریں کہ وطن عزیز کو استحکام ملے ؟ ۔اس نے ہماری طرف ایک ادائے بے نیازی سے دیکھتے ہوئے کہا کہ جناب کرنا کیا ہے ۔ یہ تو بڑا سادہ سا فارمولاہے ۔بس پاکستان کی ہر چیز سے پیار کریں اگر سرکاری نلکے کا پانی بہہ رہا ہو تواسے آگے بڑھ کر بند کردیں۔گیس کا استعمال بہت کفایت شعاری کے ساتھ کریں۔ یہ ہماری قومی دولت ہے اس کا ضیاع نہیں ہونا چاہیے۔ دفتر میں کام کرتے ہوئے ہیٹر نہ جلائیں غیر ضروری ٹیوب لائٹس بجھادیں۔ جس کمرے سے باہر نکلیں توچلتا ہوا پنکھا بند کردیں۔ بجلی چوری کرنا چھوڑ دیں جو لوگ بجلی چوری کرتے ہیں وہ کھانے پکانے کے لیے ہیٹر کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ ان کے دل میں بل کا کوئی خوف نہیں ہوتا ایسے گھروں میں ساری رات ایئر کنڈیشن چلتے رہتے ہیں اور یہ ساری دھاندلی بغیر میٹر ریڈر کے تعاون سے نہیں ہوسکتی اس لیے میٹر ریڈر کو بھی اپنے وطن کے لیے سوچنا ہوگامیٹر ریڈر پر نظر رکھنے والے افسران بالا ویسے ہی تو آنکھیں بند نہیں کرتے انہیں بھی وطن کو نقصان سے بچانے کے لیے بند آنکھیں دوبارہ کھولنی پڑیں گی۔توانائی کا بحران پاکستان کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ اس وقت ہماری سب سے پہلی اور بنیادی ضرورت ڈیم بنانا ہے۔ کالا باغ ڈیم پر تو ایک عرصہ ہوا بحث مباحثہ چلا آرہا ہے کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ یہ بحث مباحثہ چلتا رہے اور اس دوران پورے خلوص سے ان مقامات کی نشاندہی کی جائے جہاں ڈیم تعمیر کیے جاسکتے ہیں اور جلد از جلد وہاں کام شروع کیا جائے۔ جن ڈیمز پر کام ہو رہا ہے وہاں کام تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جتنا جلدی ممکن ہوسکے توانائی کے اس بحران سے نکلا جائے اس وقت یہ ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے۔ چھوٹے بڑے سب پریشان ہیں۔ اس بحران کی وجہ سے ہمیں ہرسال اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے جتنا جلدی ممکن ہو سکے ہم نے اس کا کوئی حل تلاش کرنا ہے۔پاکستانی قوم کی ترقی کا انحصار ڈیمز پر ہے دریائوں پر بند باندھ کر جو پانی جمع کیا جاتا ہے وہ ہماری زراعت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اس سے بجلی بھی پیدا کی جاتی ہے۔تربیلہ ڈیم کو دریائے سندھ پر تعمیر کیا گیا ہے اور یہ دنیا کا سب سے بڑا ڈیم ہے جسے مٹی سے بھرا گیا ہے یہ 1976ئمیں تعمیر کیا گیاتھا اور اس پر 18.5بلین روپے لاگت آئی تھی۔اس کی تعمیر میں پندرہ ہزار پاکستانیوں اور آٹھ سو غیر ملکیوں نے حصہ لیا تھا۔یہ تقریباً 3478میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔منگلا ڈیم 1960ئمیں تعمیر کیا گیا تھا یہ دنیا کا مٹی سے بنا ہوا تیسرا بڑا ڈیم ہے۔ خان پور ڈیم دریائے ہارو پر تعمیر کیا گیاہے۔ اس کی تعمیر کا کام 1963ئسے ہی شروع ہوچکا تھا لیکن یہ 1983ئمیں مکمل کیا جاسکا۔اس کی تعمیر پر 1352ملین روپے لاگت آئی۔ اس ڈیم سے دو کام لیے جاتے ہیں یہ صوبہ خیبر پختو نخوا کو بجلی بھی فراہم کرتا ہے اس کے علاوہ راولپنڈی اسلام آباداور پنجاب کے دوسرے بہت سے علاقوں کو پینے اور زراعت کے لیے پانی بھی مہیا کرتا ہے۔ورسک ڈیم کو دریائے کابل پر تعمیر کیا گیا ہے اس کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 240,000 kwہے۔اور زراعت کے لیے یہ110,000ایکڑ زمین کو سیراب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ خیبر پختونخوا کے علاوہ پنجاب کے بھی کچھ علاقوں کو بجلی مہیا کرتا ہے۔ان بڑے بڑے ڈیمز کے علاوہ چھوٹے چھوٹے ڈیمز بھی ہیں جو محدود پیمانے پر زراعت کے لیے پانی مہیا کرتے ہیں۔ہمارے لوگ بڑی صلاحیتوں کے مالک ہیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑے باصلاحیت سائنسدان عطا کررکھے ہیں لیکن ہم نے ان سے وہ کام نہیں لیا جس کے یہ اہل ہیں ہم نے اپنے وسائل سے وہ فائدہ نہیں اٹھایا جو ہم اٹھا سکتے تھے۔ہم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایٹمی طاقت ہیں لیکن ہم نے ایٹمی صلاحیت کو ابھی تک اس طرح استعمال نہیں کیا جو ترقی یافتہ ممالک کا خاصہ ہے۔بلوچستان میں موجود معدنیات کے خزانوں کو ہم نے استعمال نہیں کیا۔ بلوچستان میں کوئلہ،کرو مائٹ، سلفر،ماربل ،لائم سٹون کثیر تعداد میں موجود ہیں ہمارے سائنسدانوں نے کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کی پیشکش بھی کی تھی لیکن تا حال اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔کسی کے پاس وقت ہی نہیں ہے کہ اس سنجیدہ مسئلے پر غور کر ے۔اگر بلوچستان میں موجود معدنیات کے خزانوں کو ملک کی فلا ح و بہبود کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے نہ صرف بلوچستان کی اقتصادی صورتحال میں انقلاب آسکتا ہے بلکہ وطن عزیز میں موجود بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ 175,000,000,000 ٹن کو ئلہ کے ذخائر صرف صوبہ سندھ میں تھر کے صحرا میں دریافت ہو چکے ہیں یہ پاسکتان کی توانائی کی ضروریات کو آنے والی کئی صدیوں تک پورا کر سکتے ہیں ۔

یہ وطن عزیزکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اگرہم ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود ان خزانوں کو نہیں نکال سکتے تو اسے ہماری نا اہلی کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں